دربارہ خلافت جس عقیدہ اہل سنت کا عالم نے اشعار کیا خود خلافت کمیٹی کے مفتی اعظم مولوی ریاست علی خاں صاحب شاہجہان پوری اور اس کے لیڈر معظم وناظم انجمن علماء، صدر شعبہ تبلیغ عبدالماجد بدایونی نے ایک مطبوعہ فتوٰی میں(کہ شخصین مذکورین جس کے مفتی ومستفتی ہیں) اس کا صاف اقرار واظہار کیا جو عبارات ائمہ وعلماء اس فتوٰی نے سندًا پیش کیں، وضوحِ حق کو ان میں سے یہ دوہی بہت ہیں مقاصد وشرح مقاصد سے(کہ عقائد اہلسنت کی معتمد کتابیں ہیں) سند دکھائی کہ
"لناقولہ علیہ السلام الائمۃ من قریش۲؎، واجمعو علیہ فصار دلیلا قاطعا یفید الیقین باشتراط القرشیۃ"
یعنی ہم اہلسنت کی دلیل حضور اقدس سیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا یہ ارشاد جلیل ہے کہ تمام خلفاء قریش سے ہیں اور صحابہ کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم نے اس پر اجماع کیا تودلیل قطعی ہوگئی جس سے یقین حاصل ہوا کہ خلافت کے لئے قرشی ہونا بیشک شرط ہے۔
علامہ سید محمد ابن عابدین شامی رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ کی ردالمحتار علی الدرالمختار سے سند پیش کی کہ فرماتے ہیں
: وقدیکون بالتغلب مع المبایعۃ وھو الواقع فی سلاطین الزمان نصرھم الرحمٰن۱؎۔
یعنی تغلب کی امامت کبھی بیعت کے ساتھ بھی ہوتی ہے کہ ہے تو متغلب مگر لوگ اس کے ہاتھ پر بیعت کرتے ہیں، ہمارے زمانے کے سلاطین کا یہی واقعہ ہے، رحمٰن عزوجل ان کی مددفرمائے(ہم کہتے ہیں آمین)
(۱؎ ردالمحتار باب البغاۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۳۱۰)
علامہ سید موصوف جن کی کتاب ممدوح آج تمام عالم میں مذہب حنفی کے اعلٰی درجہ معتمد سے ہے۔ سلطان عبدالمجید مرحوم کے والد سلطان محمود خاں مرحوم کے زمانے میں انہیں کے قلمرو ملک شام میں انہیں کی طرف سے شہر دمشق وتمام دیارشامیہ کے مفتی اجل تھے (رحمۃ تعالٰی علیہ) مفتی و مستفتی مذکورین کی ان شہادتوں کے بعد زیادہ تفصیل کی حاجت نہیں،
قال اﷲ تعالٰی شھد واعلٰی انفسھم۲؎۔
اﷲ تعالٰی نے فرمایا خود اپنی جانوں پر گواہی دیں گے(ت)
(۲؎ القرآن الکریم ۶/ ۱۳۰ و ۷/ ۳۷)
خلافت کمیٹی کو اس بارے میں اگر پوچھنا ہوانہیں اپنے مفتی اعظم ولیڈر معظم سے پوچھے کمیٹی کہے
"لِمَ شھدتم علینا"
(تم نے ہم پر کیوں گواہی دی۔ت) وہ کہیں:
انطقنا اﷲ الذی انطق کل شیئ۴؎
(وہ کہیں گی ہمیں اﷲ نے بلوایا جس نے ہر چیز کو گویائی بخشی۔ت)
(۳؎ القرآن الکریم ۴۱/ ۲۱)(۴؎ القرآن الکریم ۴۱/ ۲۱)
مشرکوں سے اتحاد ووداد قطعی حرام اور ان سے اخلاص دلی یقیناً کفر ہے۔
تم ان میں بہت کو دیکھو گے کہ کافروں سے دوستی کرتے ہیں، بیشک کیا ہی بری ہے وہ چیز جو خود انہوں نے اپنے لئے آگے بھیجی کہ ان پر اﷲ کاغضب ہوااور انہیں ہمیشہ ہمیشہ عذاب ہوگا اوراگر انہیں اﷲاور نبی اور قرآن پر ایمان ہوتا توکافروں سے اتحاد، وداد، محبت، موالات نہ مناتے مگر ہے یہ کہ ان میں بہت سے فرمان الٰہی سے نکلے ہوئے ہیں(ت)
(۵؎ القرآن الکریم ۵/ ۸۱۔۸۰)
یہ اور بیس سے زائد اور آیات کریمہ ہیں جن میں مطلقًا کفار سے اتحاد و ودادکوحرام وکفر فرمایا ہے، مسلمان کی شان نہیں کہ واحدقہار کے ارشادات سنے اور ان میں مشرکین یا خاص ہندؤوں کے استثناء کی پچر گھڑلے،
قال اﷲ تعالٰی اﷲ اذن لکم ام علی اﷲ تفترون۱؎۔
اﷲ تعالٰی نے فرمایا: کیااﷲنے اسکی تمہیں اجازت دی(کہ مثلًا میرے کلام میں مگر ہندو کا پیوند لگالو) یا تم اﷲ پر جھوٹ باندھتے ہو۔
(۱؎ القرآن الکریم ۱۰/ ۵۹ )
وقال تعالٰی اتقولون علی اﷲ مالاتعلمونo۲؎
(۲؎القرآن الکریم ۱۰/ ۶۸ )
اﷲ تعالٰی نے فرمایا: کیا بے جانے بوجھے اﷲ پر کسی بات کا چھٹارکھتے ہو(کہ مثلًا اس نے ہندؤوں کو جدا کرلیا ہے)
وقال تعالٰی یحرفون الکلم من بعد مواضعہ (الٰی قولہ عزّوجل) لھم فی الدنیا خزی ولھم فی الاٰخرۃ عذاب عظیم۳؎۔
اﷲ تعالٰی نے فرمایا: اﷲ تعالٰی کے ارشادات کو ان کے ٹھکانے سے ہٹاتے ہیں__(کہ مثلًا اگرچہ اﷲ نے یہاں ہر جگہ عام لفظ فرمائے جو سب کفار کو شامل ہیں مگر ان سے ہندو مراد نہ رکھے ان سے اتحاد ووداد کو حرام وکفر نہ فرمایا) ایسوں کے لئے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں بڑاعذاب مشرکوں کا غلام و منقاد بننا ان کا پس روبننا، جو کہیں وہی کرنا خصوصاً جسے امر دینی سمجھا ہواس میں ان کی اطاعت کرنا یہ سب حرام حرام ہے سخت مخالفتِ ذوالجلال والاکرام ہے، گمراہی و کفر اس کا انجام ہے،
(۳؎القرآن الکریم ۵/ ۴۱)
قال اﷲ تعالٰی ولاتتبعواخطوات الشیطٰن انہ لکم عدومبین۴؎o
اﷲ تعالٰی نے فرمایا: شیطان کے پس رونہ بنو بے شک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔
(۴؎ القرآن الکریم ۲/ ۲۰۸ )
وقال تعالٰی فلا تطع المکذبین۵؎
اﷲنے فرمایا: جھٹلانے والوں کی اطاعت نہ کر۔
(۵؎ القرآن الکریم ۶۸/ ۸ )
وقال تعالٰی ولاتطع منھم اٰثما اوکفورا۶؎o
اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا:ان میں سے کسی مجرم یا کافر کی اطاعت نہ کرو۔
(۶؎ القرآن الکریم ۷۶/ ۲۴)
وقال تعالٰی وان تطع اکثر من الارض یضلوک عن سبیل اﷲ۔۷؎
اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا: یہ جو زمین میں ہیں ان میں اکثر وہ ہیں کہ اگر تونے ان کی اطاعت کی تو وہ تجھے اﷲ کے راہ سے گمراہ کردیں گے۔
(۷؎ القرآن الکریم ۶/ ۱۱۶)
وقال تعالٰی یایھاالذین اٰمنواان تطیعوالذین کفروایردوکم علٰی اعقابکم فتنقلبواخاسرین۱؎۔
اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا: اے ایمان والو!اگر تم کافروں کے کہے پر چلے تو وہ تمہیں تمہاری ایڑیوں کے بل (اسلام سے) پھیردینگے تو پورے ٹوٹے میں پلٹوگے۔
(۱؎ القرآن الکریم ۳/ ۱۴۹ )
حلال کو حرام،حرام کو حلال ٹھہرانا ائمہ حنفیہ کے مذہب راجح میں مطلقًا کفر ہے، جبکہ ان کی حلت وحرمت قطعی ہو جیسے جائز کسب وتجارت واجارت کی حلت مشرکین و ودادوانتقیاد واتحاد کی حرمت، ان حلالوں کو وہ لوگ حرام بلکہ کفر اور ان حراموں کو حلال بلکہ فرض کررہے ہیں اور اگر وہ حرام قطعی حرام لعینہ ہے، جیسے مذکورات جب تو اسے حلال ٹھہرانا باجماعِ ائمہ حنفیہ کفر ہے، اﷲ عزوجل کفار کا بیان فرماتا ہے:
لایحرمون ماحرم اﷲ ورسولہ۲؎۔
جسے اﷲ ورسول نے حرام فرمایاکافر اسے حرام نہیں ٹھہراتے۔