Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۴(کتاب السیر)
119 - 150
اور بیشک ہم حنفی مذہب والوں کے تینوں امام یعنی امام ابوحنیفہ اورامام ابویوسف اور امام محمد رحمۃ اللہ تعالٰی علیہم اور ان کے سب پیروؤں کا یہی مذہب ہے بُدنہ یعنی قربانی کے ڈیل دار جانور میں اونٹ اور گائے دونوں داخل ہیں۔انھیں اماموں کا مذہب ہندوستان کے تمام شہروں میں رائج ہے، اور یہاں انھیں کے مذہب پر فتوٰی وعمل ہوتاہے، ہدایہ، درمختار، قاضی خاں، عالمگیری وغیرہا مشہور کتابیں اسی مذہب کی ہیں،
درمختار میں ہے:
بدنۃ ھی الابل والبقر سمیت بہ لضخامتھا ۲؎۔
بدنہ اونٹ اور گائے ہے، ان کے ڈیل دار ہونے کے سبب ان کا یہ نام ہوا۔
 (۲؎ درمختار        کتاب الاضحیۃ        مطبع مجتبائی دہلی    ۲/ ۲۳۱)
ہدایہ میں ہے:
البدنۃ ھی الابل والبقر، قال الشافعی من الابل لنا ان البدنۃ تنبئ عن البدانۃ وھی الضخامۃ وقد اشتر کا فی ھذا المعنی ولھذا یجزئ کل واحد منہما عن سبعۃ ۳؎ اھ ملخصا۔
اونٹ اورگائے دونوں بدنہ ہیں۔ شافعی نے کہا اونٹ، ہماری دلیل یہ ہے کہ بدنہ ڈیل دار ہونے سے خبر دیتاہے، اوراس بات میں اونٹ اور گائے براربرہیں ، اس لئے وہ دونوں سات آدمیوں کی طرف سے کفایت کرتے ہیں۔
 (۳؎ الہدایۃ        فصل مایتعلق بالوقوف         المکتبۃ العربیۃ کراچی    ۱/ ۳۷۔ ۲۳۶)
فتاوٰی عالمگیری میں ہے:
البُدن من الابل والبقر ۴؎
بُدنہ اونٹ اور گائے دونوں سے ہے، اوریہ مضمون حدیث سے بھی ثابت ہے کہ عنقریب مذکور ہوگی۔
 (۴؎ فتاوٰی ہندیۃ    الباب السادس عشر فی الہدی        نورانی کتب خانہ کراچی    ۱/ ۲۶۱)
 (۲) اللہ تعالٰی اسی رکوع کے شروع میں فرماتاہے:
ولکل امۃ جعلنا منسکا لیذکرواسم اﷲ علی مارزقہم من بھیمۃ الانعام ۱؎۔
اورہر گروہ کےلئے ہم نے مقررکردی قربانی کہ اللہ کانام لیں چوپایوں کے ذبح پر جو اللہ نے انھیں دئے۔
 (۱؎ القرآن الکریم                    ۲۲/ ۳۴)
یہاں فرمایا کہ چوپایوں کو اللہ تعالٰی نے قربانی کے لئے بنایا ہے اورآٹھویں پارہ چھٹی سورہ انعام کے سترھویں رکوع میں چوپایوں کی تفصیل یہ بیان فرمائی:
ثمنیۃ ازواج من الضان اثنین ومن المعزاثنین ط (الی قولہ تعالٰی) ومن الابل اثنین ومن البقر الثنین ط قل ءٰ الذکرین حرم ام الانثیین اما اشتملت علیہ ارحام الانثیین ۲؎۔
چوپائے آٹھ نر ومادہ میں بھیڑ سے دو، اور بکری سے دو، اونٹ سے دو، اور گائے سے دو، تو کہہ کیا اللہ نے دونوں نر حرام کئے ہیں یا دونوں مادہ، یا وہ جسے اپنے پیٹ میں رکھا دونوں مادہ نے،
 (۲؎القرآن الکریم         ۶/ ۴۴۔ ۱۴۳)
ان آیتوں سے صاف معلوم ہوا کہ اونٹ، گائے،بھیڑ، بکری سب کی قربانی اللہ تعالٰی نے بتائی ہے، اس لئے تفسیر مذکور فرمائشی منشی نولکشور کی جلد دوم ص ۷۸ سطر ۱۱ و ۱۲ میں چوپایوں پر اللہ کا نام لینے کی تفسیر میں لکھا:

''بے زبان چوپایوں سے یعنی اونٹ گائے بکرا، اس سے قربانی مراد ہے کہ خدا کے نام پر ذبح کریں ۳؎''
 (۳؎ تفسیر قادری        آیۃ ۲۲ / ۲۸     نولکشور لکھنؤ        ۲/ ۷۸)
اور پچھلی آیت سے یہ بھی کھل گیا کہ گائے بیل، بچھیا، بچھڑا اس کا کھاناحلال ہے جس کی حلت خود قرآن شریف میں صراحۃً مذکور ہے:

(۳) اللہ تعالٰی پہلے پارے دوسری آیت سورت سورہ بقرہ کے آٹھویں رکوع میں فرماتاہے:
واذ قال موسٰی لقومہ ان اﷲ یامرکم ان تذبحوا بقرۃ ۴؎۔
اورجب کہاموسٰی نے اپنی قوم سے بیشک اللہ تمھیں حکم فرماتاہے کہ گائے ذبح کرو۔
 (۴؎ القرآن الکریم     ۲/ ۶۷)
اور ساتویں پارے چھٹی سورت سورہ انعام کے دسویں رکوع میں موسٰی وہارون وغیرہما انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کا ذکر کرکے مسلمانوں کوحکم فرماتاہے:
اولئک الذین ھدی اﷲ فبھدٰھم اقتدہ ۱؎۔
یہ وہ لوگ ہیں جنھیں اللہ نے ٹھیک راستے  چلایا تو توانھیں کی راہ چل۔
 (۱؎ القرآن الکریم        ۶/ ۹)
اس آیت سے معلوم ہواکہ اگلے انبیاء کی شریعت میں جو کچھ تھاوہی ہمارے لئے بھی ہے جب تک ہماری شریعت منسوخ نہ فرمادے، تو گائے کی قربانی کرنے کی ہمیں اجازت یوں بھی ثابت ہوئی اور یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ تعالٰی کے حکم سے گائے کاذبح کیا جانا آج کا نہیں بلکہ اگلی شریعتوں سے چلا آتاہے۔

تفسیر مذکور فرمائشی نولکشور جلد اول کے ص ۱۷ سطر اخیر وص ۱۸ سطرا ول میں اسی حکم الہٰی ذبح گاؤ کی حکمت یوں لکھی:

''اس کے ذبح کرنے میں نکتہ یہ تھاکہ گئوسالہ پرستوں کی سرزنش ہو، انھیں دکھا دیاکہ جسے تم نے پوجا وہ ذبح کرنے کے قابل ہے، عبادت اور مدح کے لائق نہیں ۲؎''
 (۲؎ تفسیر قادری        آیہ ۲/ ۶۷        نولکشور لکھنؤ        ۱/ ۱۷ و ۱۸)
 (۴) ان سب کے علاوہ اگر فرض کیجئے کہ قرآن مجید میں گائے اور  قربانی کانام تک نہ آیا ہو تا جب بھی گائے کی قربانی قرآن مجید سے بخوبی ثابت تھی، قرآن مجید نے مذہب اسلا م کی بنیاد صرف انھیں احکام پر نہیں رکھی جس کاخاص خاص بیان قرآن مجید میں آچکا، بلکہ خود قرآ ن مجید نے اپنے احکام اورنبی کے ارشادات دونوں پر بنائے اسلام رکھی، 

اللہ تعالٰی فرماتاہے:
مااتٰکم الرسول فخذوہ ومانھٰکم عنہ فانتہوا ۳؎۔
جو کچھ رسول تمھیں دے وہ لو، او رجس سے روکے اس سے بچو۔
 (۳؎ القرآن الکریم                     ۵۹/ ۷)
اور فرماتاہے:
من یطع الرسول فقد اطاع اﷲ ۴؎۔
جس نے رسول کی ا طاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی۔
(۴؎ القرآن الکریم                    ۴ /۸۰)
اور فرماتاہے:
وماینطق عن الہوی o ان ھو الاوحی یوحٰی ۵؎۔
یہ نبی اپنی خواہش سے کچھ نہیں کہتا وہ صرف خدا کا حکم ہے جو اسے بھیجا جاتاہے۔
 (۵؎القرآن الکریم ۵۳/ ۳ و ۴)
اور نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے خود گائے کی قربانی کی، اور مسلمانوں کو ایک ایک گائے کی قربانی میں سات سات آدمیوں کے شریک ہونے کا حکم فرمایا، مذہب اسلام میں نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے احکام کی چھ کتابیں زیادہ مشہور ہیں جنھیں صحاح ستہ کہتے ہیں، ان سب کتابوں میں یہ مضمون صراحۃً موجود ہے، صحیح بخاری شریف میں حضرت ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے روایت ہے کہ انھوں نے فرمایا:
ضحٰی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم عن نسائہ بالبقر ۱؎۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اپنی بیبیوں کی طرف سے گائے کی قربانی کی۔
 (۱؎ صحیح البخاری        باب من ذبح ضحیۃ غیرہ         قدیمی کتب خانہ کراچی    ۲/ ۸۳۴)
صحیح بخاری وصحیح مسلم وسنن ابی داؤد میں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت ہے کہ:
امرنا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ان نشترک فی الابل والبقر کل سبعۃ منافی بدنۃ ۲؎۔
ہمیں رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے حکم دیاکہ اونٹ اور گائے ہر بدنہ میں سات سات آدمی شریک ہوجائیں۔
(۲؎ صحیح مسلم        باب جواز الاشتراک فی الہدٰی الخ     قدیمی کتب خانہ کراچی   ۱/ ۴۲۴)
صحیح مسلم شریف میں انھیں سے روایت ہے:
اشترکنامع النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی الحج والعمرۃ کل سبعۃ فی بدنۃ فقال رجل لجابر أیشترک فی البقر مایشترک فی الجزور، فقال ماھی الا من البدن ۳؎۔
حج وعمرہ میں ہم نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے ساتھ قربانی کے ایک ایک ڈیل دار جانور میں سات سات آدمی شریک ہوئے، کسی نے جابررضی اللہ تعالٰی عنہ سے پوچھا کیا گائے کی قربانی میں بھی اتنے ہی شریک ہوسکتے ہیں جتنے اونٹ میں، فرمایا: گائے بھی تو بدنہ ہی میں داخل ہے،
 (۳؎ صحیح مسلم        باب جواز الاشتراک فی الہدٰی الخ     قدیمی کتب خانہ کراچی   ۱/ ۴۲۴)
ترمذی ونسائی و ابن ماجہ میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے ہے:
قال کنا مع النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی سفر فحضرالاضحٰی اشترکناہ فی البقرۃ عن سبعۃ ۱؎۔
ہم نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفرمیں تھے کہ بقر عید آئی تو ہم نے سات آدمیوں کی طرف سے ایک گائے ذبح کی۔
 (۱؎ جامع الترمذی    ابواب الاضاحی    کتب خانہ رشیدیہ امین کمپنی دہلی    ۱/ ۱۸۱)
سبحان اللہ! جوکام خود ہمارے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے کیا اور ہمیں اس کاحکم دیا، اسے مذہب اسلام کے خلاف جاننا،یا مذہب اسلام میں اس کی اجازت وہدایت نہ ماننا کیسی کھلی ہٹ دھرمی ہے۔

(۵) اس بیان میں ایک بڑی ناانصافی یہ ہے کہ ہماری تو صرف کتاب آسمانی سے ثبوت چاہا۔ جو ہم  روشن طورپر ادا کرچکے اور اپنے لئے شاستر کا دامن پکڑا وید کانام کیوں نہ لیا جسے اپنے نزدیک کتاب آسمانی بتاتے ہیں، اگر سچے ہیں تو اب اپنے ویدسے قربانی گاؤ کی ممانعت ثابت کریں، اورشاستر پر بنائے مذہب رکھتے ہیں، تو ہماری بھی کتب فقہ کو بنائے مذہب جانیں، ہدایہ، درمختار، قاضی خاں، عالمگیری وغیرہا ہزار دس ہزار کتابیں جو چاہیں دیکھ لیں جس میں قربانی کا باب مذکورہے۔ ان سب میں قربانی گاؤ نہایت صریح طورپر مسطور ہے، تو اسے خلاف مذہب بتانا صریح دھوکا دیناہے۔

(۶) یہ بات بھی یادرکھنے کے قابل ہے کہ اس بیان ہنود نے خوب ثابت کردیا کہ مورتی پوجن اور بتوں کے آگے گھنٹا بجانا، سنکھ پھونکنا، مہادیو پر پانی ٹپکانا، ہولی دیوالی وغیرہ وغیرہ صدہا باتیں کہ ہنود نے اپنی مذہبی ٹھہرا رکھی ہیں جن کا ذکر ان کے وید میں نہیں سب ان کے خلاف مذہب ہیں کہ جس کتاب پربنیاد مذہب ہنودہے ان کا پتا نہیں دیتی پچھلے ہنود نے محض براہ حیلہ انھیں مذہبی بنارکھاہے۔

(۷) سب سے زائد یہ ہے کہ وید جس پر مذہب ہنود کی بنا ہے خود صاف صاف قربانی گاؤ کی اجازت دے رہا ہے، اخبار پانیر ص ۷ کالم ۴ مطبوعہ ۱۰ اپریل ۱۸۹۴ء میں ایک مضمون چھپا ہے کہ : ''ہندوستان قدیم میں گائے کی قربانی''

اسی میں وید سے نقل کیا:

''اے اگنی! یہ پاک نذر صدق دل سے راگ کی صورت میں تیرے حضور پیش کرتے ہیں، اور تمنا ہے کہ یہ سانڈ اور گہنیاں تجھے پسند آویں۔''

رگ وید ۶: ۱۶۔ ۴۷ میں تہ دل سے سوما کا عرق پینے والی اگنی خالق کی، جسے گھوڑے اور سانڈ اور بیل اور گہنیاں اور منت کے مینڈھے چڑھائے جاتے ہیں ستائش کروں گا۔ رگ ۱۰ : ۹۱۔ ۱۴۔

اسی اخبار میں ہر ہمنہ پران، اور ستیارتھ پرکاش اور ترہنا جلد ۳ باب ۸، اور منو کی سامرتھی ۵: ۴۱ وغیرہا کتب میں مذہب ہنود سے ہندوؤں کا گائیں ذبح کرنا بخوبی ثابت کیا ہے، اسی طرح یہ امر مہابھارت وغیرہ سے بھی ثابت، فیصلہ ہائی کورٹ مقدمہ قربانی نمبری ۶۸۷ میں تاریخ ہنود زمانہ پیشیں سے حکام ہائی کورٹ نے ثابت کیا ہے کہ اگلے ہندو اپنی دینی رسوم میں گئوعید یعنی گائے کی قربانی کیا کرتے تھے، او رمتقد میں حکمائے ہنود نے اس کی تاکید کی تھی، تو ثابت ہوا کہ ہنود اپنے وید اور مذہبی کتابوں اور اگلے پیشواؤں سب کے خلاف بحیلہ مذ ہب صرف بغرض دل دکھانے مسلمانوں کے جن کے مذہب میں قربانی گاؤ کی صاف صریح اجازت ہے، امر مذہبی میں مزاحمت بیجا خلاف استحقاق کرنا چاہتے ہیں جس کا عقلاً عرفاً قانوناً کسی طرح انھیں اخیتار نہیں، واللہ سبحانہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
Flag Counter