Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۴(کتاب السیر)
118 - 150
ولاتسبوالذین یدعون من دون اﷲ فیسبوا اﷲ عدوابغیر علم ۱؎۔
اورانھیں گالی نہ دو جن کو وہ اللہ کے سواپوجتے ہیں کہ وہ اللہ کی شان میں بے ادبی کریں گے زیادتی اور جہالت سے۔ (ت)
(۱؎ القرآن الکریم            ۶/ ۱۰۸)
اورجہان قانونا ممانعت نہیں وہاں اگر ثوران فتنہ وفساد ہوگا تو لاجرم ہنود کی جانب سے ہوگا، اور جرم انھیں کا ہے کہ جہاں ذبح کرنے کی اجازت ہے وہاں بھی ذبح نہیں کرنے دیتے۔ کیا ان کے جرم کے سبب ہم اپنی رسوم مذہبی ترک کرسکتے ہیں، یہ حکم بعینہٖ ایسا ہوا کہ کوئی شخص اعتبار سے کہے تمھارا مال جمع کرنا باعث ثوران فتنہ وفساد وایذا ئے خلق اللہ ہے، کہ نہ تم مال جمع کرو نہ چورچرانے آئیں نہ وہ قیدوبند کی سخت سخت سزائیں پائیں، اس احمق کے جواب میں یہی کہا جائے گا کہ چوری چور کاجرم ہے، اس کے سبب ہمیں جمع مال سے کیوں ممانعت ہونے لگی، اور اگر ایسا ہی خیال ہنودکے فتنہ وفساد کا شرع ہم پرواجب کرے گی تو ہر جگہ ہنود کو قطعا اس رسم کے اٹھادینے کی سہل تدبیر ہاتھ آئے گی، جہاں چاہیں گے فتنہ وفساد برپا کریں گے اور بزعم جہال شرع ہم پر ترک واجب کردے گی، اوراس کے سوا ہماری جس رسم مذہبی کو چاہیں گے اپنے فتنہ وفساد کی پناہ پر بند کرادیں گے، اور یہی واقعہ ان کے لئے نظیر ہوجائے گا، ایسی صورت میں تم پر اپنی رسم کا ترک شرعا واجب ہوتاہے۔

بالجملہ خلاصہ جواب یہ ہے کہ بازار وشارع عام میں جہاں قانوناممانعت ہے، براہ جہالت ذبح گاؤ کا مرتکب ہونا بیشک اسلام کی توہین وذلت کے لئے پیش کرنا ہے، کہ شرعا حرام اور اس کے سواجہاں ممانعت نہیں وہاں سے بھی بازر ہنا اور ہنودکی بیجاہٹ بجارکھنے کے لئے یک قلم اس رسم کو اٹھادینا ہر گز جائز نہیں بلکہ انھیں مضرات وہذلات کا باعث ہے جن کا ذکر ہم اول کرآئے جنھیں شرع مطہر پر ہر گز گوارا نہیں فرماتی  نہ کوئی ذی انصاف حاکم پسند کرسکے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۸۵: از مسلم لیگ ضلع بریلی مرسلہ سید عبدالودود جائنٹ سیکرٹری لیگ مذکور جمادی الاولٰی ۱۳۲۹ھ

نحمدہ ونصلی

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس بارے میں کہ آج کل ہنود کی طرف سے نہایت سخت کوشش اس امر کی ہورہی ہے کہ ہندوستان سے گاؤ کشی کی رسم موقوف کرادی جائے اور اس غرض سے انھوں نے ایک بہت بڑی عرضداشت گورنمنٹ میں پیش کرنے کےلئے تیار کی ہے جس پر کروڑوں باشندگان ہندوستان کے دستخط کرائے جارہے ہیں، بعض ناعاقبت اندیش مسلمان بھی اس عرض داشت پر ہندؤوں کے کہنے سننے سے دستخط کررہے ہیں، ایسے مسلمانوں کی بابت شرع شریف کا کیاحکم ہے؟ اور اس مذہبی رسم جوشعائر اسلام میں سے ہے کے بند کرانے میں مدد دینے والے گنہ گار اور عنداللہ مواخذہ دار ہیں یانہیں؟ بینوا الجواب بالتفصیل واﷲ یھدی من یشاء الی سواء السبیل
الجواب

گائے کی قربانی شعائر اسلام سے ہے۔
قال تعالٰی: والبُدن جعلنھا لکم من شعائراﷲ ۱؎۔

اوراونٹ گائے بیل ہم نے ان کو کیا تمھارے لیے اللہ کی نشانیوں سے۔
14_10.jpg
 (۱؎القرآن الکریم                ۲۲/ ۳۶)
مسلمانوں کو ہندوؤں کے ساتھ اس معاملہ کے انسداد میں شرکت ناجائز وحرام ہے واللہ تعالٰی اعلم۔
14_11.jpg
فی الواقع گاؤکشی ہم مسلمانوں کا مذہبی کام ہے جس کاحکم ہماری پاک مبارک کتاب کلام مجید رب الارباب میں متعدد جگہ موجودہے، اس میں ہندوؤں کی امداداوراپنی مذہبی مضرت میں کوشش اورقانونی آزادی کی بندش نہ کرے گا مگروہ جو مسلمانوں کا بدخواہ ہے،
اللہ عزوجل فرماتاہے:
ان اﷲ یامرکم ان تذبحوا بقرۃ ۱؎ ط
شرائع من قبلنا اذا قصہا اﷲ تعالٰی علینا من دون انکار شرائع لنا ۲؎ (ملتقطا) کما نص فی کتب الاصول۔
بیشک اللہ تمھیں حکم دیتاہے کہ گائے ذبح کرو۔ (ت) ہم سے پہلی شریعتوںکوجب اللہ تعالٰی بیان فرماکر منع نہ فرمائے تو وہ ہماری شریعت ہوجاتی ہے۔ (ملتقطا) جیسا کہ کتب اصول میں منصوص ہیں۔ (ت)
 (۱؎ القرآن الکریم            ۲/ ۶۷)

(۲؎ اصول البزدوی    باب شرائع من قبلنا    نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی    ص ۲۳۲)
زراعت کے بہانے سے ہنود ہماری مذہبی رسم میں نہ صرف دست اندازی بلکہ اس کا پورا انسداد چاہتے ہیں، اور طرفہ یہ کہ اس پر مذہبی آزادی سے استناد کرتے ہیں، کیا مذہبی آزادی کے یہ معنی ہیں کہ ایک فریق کے خیالات کوکامیاب کرنے کےلئے دوسرے فریق کی دینی مذہبی رسوم بندکردی جائیں، ہندوستان میں روزانہ ہزاروں گائے ذبح ہوتی ہیں آج تک زراعت کو کون سانقصان پہنچا جو آئندہ پہنچنے کی امید ہو، قدرت کا قاعدہ ہے کہ جس چیزکی مانگ زیادہ ہوتی ہے اسے زیادہ پیدا فرماتی ہے، گاؤ کشی بندہونے سے زراعت کو تو کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا سوااس کے کہ کھیت میں پڑ کر تیار کھیت کوکھا جانے والے اب دس ہیں تو جب سو ہونگے، ہاں گوشت کو نقصان عظیم پہنچے گا، مسلمان اور عیسائی بلکہ ہنودکی بعض اقوام بھی طبعی طورپر غذائے گوشت کے عادی ہیں، اسے بند کرکے صرف دال ساگ پر انھیں قانع کرنا ضرور ان کی عافیت میں خلل انداز ہوگا اور ہر گز ان کی صحت جسمانی ٹھیک نہیں رہ سکتی اور اس کے سوا عام حاجتوں کو سخت نقصان پہنچے گا، مثلا ''جوتا'' ہے، کیاہنود اس کے محتاج نہیں، کم لوگ ہیں کہ نری استرکاپہنتے ہوں، اور جب ادھوڑی استر کا بند ہوجائیگا توغرباء تو پہن ہی نہ سکیں گے اورامراء کے لئے چہار چند قیمت ہوجائے گی، او راس کے علاوہ ہزاروں کام جن پر چمڑے کے کارخانوں کی بنا ہے، اورلاکھوں روپے کی تجارت ہے اور ہزاروں آدمیوں کا رزق، اور گورنمنٹی خزانے کے لئے لاکھوں کامحصول، یہ سب امو ر یکسر بندہوجائیں گے، اورملک کی رفاہ وآسائش میں عام انقلاب واقع ہوگا، جس کا ضرر نہ صرف مسلمانوں کو ہوگا بلکہ تمام اقوام کوپہنچے گا، واللہ تعالٰی اعلم۔
14_12.jpg
مسئلہ ۱۸۶: از مجلس دادخواہی مسلمانان بریلی    ربیع الاول شریف ۱۳۱۲ھ

دعوٰی قربانی کے جواب میں ہنود نے اپنا یہ بیان پیش کیا ہے کہ قرآن شریف میں اس فعل کی اجازت نہیں، بنیاد مذہب مدعی کی اوپر قرآ ن شریف کے ہے، کتاب مذکور میں قربانی گاؤ کی ہدایت نہیں کرتا ہے، مدعی خلاف اس کے بحیلہ مذہب بغرض دل دکھانے مذہب ہنود کے جس کی دھرم شاستر میں سخت ممانعت ہے یہ فعل خلاف استحقاق کرنا چاہتاہے فقط، چونکہ یہ بیان ان کا متعلق قرآن شریف ومسائل مذہب کے ہے، لہذا علماء کی خدمت میں استفتاء ہے کہ آیا یہ بیان ہنود صحیح ہے یا غلط؟
الجواب: بیان ہنود سراسر غلط ہے۔ مسلمانوں کی آسمانی کتاب قرآن مجید اورہمارے سچے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے ارشادات سے قربانی گاؤ کی اجازت بخوبی ثابت ہے:

(۱) اللہ تعالٰی قرآن مجید کے سترھویں پارہ، بائیسویں سورہ حج کے پانچویں رکوع میں فرماتاہے:
والبدن جعلنا ھا لکم من شعائر اﷲ لکم فیہا خیر ق فاذکرواسم اﷲ علیہا صواف ج فاذا وجبت جنوبھا فکلوا منہا واطعموا القانع والمعتر ط کذٰلک سخرنہا لکم لعلکم تشکرون ۱؎۔
اور  قربانی کے ڈیل دارجانوروں کو کیا ہم نے تمھارے لئے اللہ کی نشانیاں تمھارے لئے، ان میں بھلائی ہے، تو اللہ کانام لو ان پر کھڑے ہوئے، پھر جب ان کی کروٹیں گرجائیں توخود کھاؤ، اورصبر سے بیٹھنے والے اورمانگنے والے کوکھلاؤ، یو ہیں ہم نے ان جانوروں کو تمھارے بس میں کردیا ہے کہ تم احسان مانو،
 (۱؎ القرآن الکریم     ۲۲/ ۳۶)
قربانی کے ڈیل دار جانور اونٹ اور گائے ہیں، تفسیر قادری جو ہنود کے ایک معزز رئیس منشی نولکشور سی آئی ای نے اپنی فرمائش سے منجا نب مطبع تصنیف کرائی اور داخل رجسٹری کراکراپنے مطبع میں چھ بارچھاپی، بیچی، اس کی جلد دوم طبع ششم سطر اخیر ص ۷۹ وسطر اول ص ۸۰ میں آیت کے ان لفظوں کا ترجمہ یوں لکھا: ''وَالْبُدْنَ اور اونٹ اور گائے جو قربانی کے واسطے ہانکے لیے جاتے ہیں" جعلنھا لکم" کردیا ہم نے انھیں، یعنی ان کے ذبح کو تمھارے واسطے مِنْ شَعَائِرِ اﷲِ دین الہٰی کے نشانیوں میں سے'' ۱؎
 (۱؎ تفسیر قادری        آیۃ والبدن جعلنہا لکم کے تحت    نولکشور لکھنؤ        ۲/ ۷۹، ۸۰)
Flag Counter