Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۴(کتاب السیر)
117 - 150
اسی قسم کے صدہا احکام ہماری شریعت میں ہیں
"ومن القواعد المقررۃ فی شریعتنا المطھرۃ ان الحکم یدورمع علتہ"
(ہماری شریعت مطہرہ کے مسلمہ قواعد میں سے ایک یہ ہے کہ حکم اپنی علت کے ساتھ دائرہوتاہے۔ ت)

دوم  واجبات ومحرمات ہماری شریعت میں دو قسم ہیں:

ایک لعینہٖ یعنی جس کی نفس ذات میں مقتضی ایجاب وتحریم موجود ہے، جیسے عبادت خدا کی فرضیت اور بت پرستی کی حرمت۔

دوسرے لغیرہ یعنی وہ کہ امور خارجہ کا لحاظ ان کی ایجاب وتحریم کا اقتضا کرتاہے اگرچہ نفس ذات میں کوئی معنی اس کو مقتضی نہیں، جیسے تعلم صرف ونحو کا وجوب کہ ہمارے رب تعالٰی کی کتاب اور ہمارے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا کلام زبان عربی میں ہے اور اس کا فہم بے اس علم کے متعذر، لہذا واجب کیا گیا، اور افیون اور بھنگ وغیرہما مسکرات کی حرمت کہ ان کا پینا ایک ایسی نعمت یعنی عقل کو زائل کردیتاہے جو ہرخیر کی جالب او رہر فتنہ وشر سے بچانے والی ہے، اسی قبیل سے ہے شعارکہ مثلا انگرکھے کا سیدھا پردہ ہماری اصل شریعت میں واجب نہیں۔ بلکہ ہمارے شارع صلی  اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے کبھی انگر کھا نہ پہنا، نہ حضور کے ملک میں اس کا رواج تھا، مگر اب کہ ملک ہندوستان میں شعار مسلمین قرار پایا اور الٹا پردہ کفار کا شعار ہوا، توا ب سیدھا پردہ چھوڑ کر الٹا اختیار کرنا بلاشبہ حرام، اسی طرح بوجہ عرف وقرارداد امصار وبلاد جس مباح کا فعل عزت وشوکت اسلام پر دلالت کرے اوراسے چھوڑ دینے میں اسلام کی توہین اور کفر کا غلبہ سمجھا جائے،قواعد شرعیہ بالیقین اس سے بازر رہنے کی تحریم کرتے ہیں، اورمبنٰی اس کا وہی نظر مصالح واعتبار عرف ومراعات اقتضائے امورخارجہ ہے، جسے ہم دونوں مقدمہ سابقہ میں بیان کر آئے۔

جب یہ امور منقح ہولئے تو اب اصل مسئلہ کا جواب لیجئے۔

گاؤ کشی اگرچہ بالتخصیص اپنے نفس ذات کے لحاظ سے واجب نہیں نہ اس کاتارک باوجود اعتقاد اباحت بنظر نفس ذات فعل گنہ گار نہ ہماری شریعت میں کسی خاص شیئ کا کھانا بالتعیین فرض، مگر ان وجوہ سے صرف اس قدر ثابت ہوا کہ گاؤ کشی جاری رکھنا واجب لعینہ، اور اس کا ترک حرام لعینہ نہیں، یعنی ان کے نفس ذات میں کوئی امران کے واجب یاحرام کرنے کا مقتضی نہیں، لیکن ہمارے احکام مذہبی صرف اسی قسم کے واجبات ومحرمات میں منحصر نہیں، بلکہ جیسا ان واجبات کاکرنا اور ان محرمات سے بچنا ضروری وحتمی ہے یوہیں واجبات محرمات لغیرہا میں بھی امتثال اجتناب اشد ضروی ہے، جس سے ہم مسلمانوں کو کسی طرح مفر نہیں، اوران سے بالجبر بازرکھنے میں بیشک ہماری مذہبی توہین ہے جسے حکام وقت بھی روانہیں رکھ سکتے۔ 

ہم مذہب وملت کے عقلاء سے دریافت کرتے ہیں اگرچہ کسی شہرمیں گاؤ کشی بند کردی جائے اور بلحاظ ناراضی ہنود اس فعل کو کہ ہماری شرع ہر گز اس سے باز رہنے کا ہمیں حکم نہیں دیتی، یک قلم موقوف کیاجائے، توکیا اس میں ذلت اسلام متصور نہ ہوگی۔ کیا اس میں خواری ومغلوبی مسلمین نہ سمجھی جائے گی، کیا اس وجہ سے ہنود کو ہم پر گردنیں دراز کرنے اوراپنی چیرہ دستی پر اعلی درجہ کی خوشی ظاہر کر کے  ہمارے مذہب و اہل مذہب کے ساتھ شماتت کا موقع ہاتھ نہ آئے گا، کیا بلاوجہ وجیہ اپنے لئے ایسی دنائت وذلت اختیار کرنا اور دوسروں کودینی مغلوبی سے اپنے اوپر ہنسوانا ہماری شرع جائز فرماتی ہے؟ حاشا وکلا ہر گز نہیں، ہماری شرع ہر گز ہماری ذلت نہیں چاہتی، نہ یہ متوقع کہ حکام وقت صرف ایک جانب کی پاسداری کریں، اوردوسری طر ف لفظ کی توہین وتذلیل روارکھیں۔

سائل لفظ ترک لکھتاہے، یہ صرف مغالطہ اوردھوکاہے، اس نے ''ترک'' اور ''کف'' میں فرق نہ کیا، کسی فعل کا نہ کرنا اور بات ہے اور اس سے بالقصد بازرہنا اور بات، ہم پوچھتے ہیں کہ اس رسم سے جس میں صدہا منافع ہیں، یک قلم امتناع آخر کسی وجہ پر مبنی ہوگا، اور وجہ سوا اس کے کچھ نہیں کہ ہنود کی ہٹ پوری کرنا، اور مسلمانوں نہ صرف مسلمانوں بلکہ تمام انسانوں کے اسباب معیشت میں کمی وتنگی کردینا، ہم اہل اسلام کی ابتدائے عہد سے بڑی غذا جس کی طرف ہماری طبعیتیں اصل خلقت میں راغب اور اس میں ہمارے لئے ہزاروں منافع اوراس سے ہمارے خالق تبارک وتعالٰی نے قرآن عزیز میں جابجا ہم پر منت رکھی، گوشت ہے۔

قال ربنا تبارک وتعالٰی
ومن  الابل ومن البقر اثنین ط قل ءٰ الذکرین حرم ام الانثین ط اما اشتملت علیہ ارحام الانثیین ۱؎۔
ہمارے رب تبارک وتعالٰی نے فرمایا: اس نے تمھارے لئے بنائے اونٹ سے دو (نر ومادہ) اور گائے میں سے دو (ان کافروں سے) فرمادو اللہ تعالٰی نے دونوں نرحرام کئے ہیں یا دونوں مادہ یا وہ جو دونوں مادہ کے پیٹ میں ہیں ۔
 (۱؎ القرآن الکریم         ۶/ ۱۴۴)
وقال تعالٰی اولم یرو انا خلقنا لہم مماعملت ایدینا انعاما فہم لھا مالکون o وذللنا ھا لہم فمنہا رکوبہم ومنہا یاکلون o ولہم فیہا منافع ومشارب افلایشکرونo ۲؎
اور اللہ تعالٰی نے فرمایا: کیا انھیں نہیں سوجھتا کہ ہم نے اپنی قدرتی بنائی ہوئی چیزوں میں سے ان کے لئے چوپائے پیدا فرمائے تو وہ ان کے مالک ہیں اور ہم نے ان چوپاؤں کو ان کا مسخر کردیا تو ان میں کسی پر سوار ہوتے ہیں اور کسی کا گوشت کھاتے ہیں، اوران کے لئے ان میں منافع ہیں اور پینے کی چیز تو کیا شکر نہ کریں گے الی غیر ذلک من الاٰیات۔
 (۲؎القرآن الکریم          ۳۶ / ۷۱ تا ۷۳)
اورہمارے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی حدیث میں گوشت کو دنیا وآخرت کے سب کھانوں کا سردار اور سب سے افضل وبہتر فرمایا۔ ۳؎
والحدیث مخرج بطریق عدیدۃ من عدۃ من الصحابۃ الکرام رضوان تعالٰی علیہم اجمعین۔
یہ حدیث متعدد صحابہ کرام رضوان اللہ تعالٰی علیہم اجمعین سے متعدد طرق سے تخریج شدہ ہے۔ (ت)
 (۳؎ سنن ابن ماجہ    ابواب الاطعمہ باب اللحم        ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ص۱۴۵)
اور بیشک بکری کا گوشت دواماً ہمارے ہر امیر وفقیر کو دستیاب نہیں ہوسکتا، خصوصاً مسلمانان ہندوستان کہ ان میں ثروت بہت کم اور افلاس غالب ہے، غریبوں کی گزر بے گوشت گاؤ کے نہیں، اور کتب حکمت بھی شاہد کہ اصل غذا انسان کی گوشت ہے، عناصر غذائے نباتات، نباتات غذائے حیوانات، حیوانات غذائے انسان، او ربیشک اس کے کھانوں میں جو منفعتیں اور ہمارے جسم کی اصلاحیں اور ہمارے قوٰی کی افزائش ہیں اس کے غیر سے حاصل نہیں، اور مرغوبی کی یہ کیفیت کہ ہر شخص اپنے وجدان سے جان سکتاہے کہ کیسا ہی لذیذ کھاناہو، چند روز متواتر کھانے سے طیبعت اس سے سیر ہوجاتی ہے اور زیادہ دن گزریں تو نفرت کرنے لگتی ہے بخلاف نان گندم وگوشت کہ عمر بھر کھائے تو اس سے تنفر نہیں ہوتا۔ معہذا گائے کی کھال وغیرہ سے جوہزار ہا قسم کے منافع ملتے اوران منفعتوں میں ہنود بھی ہمارے شریک ہوتے ہیں، اور چنداقوام کی تجارتیں اور ان کے رزق کے ظاہری سامان گاؤ کشی کانتیجہ ہیں۔

تو سائل کا یہ قول کہ ''کوئی فائدہ اس فعل پر مرتب نہ ہو'' محض تصویر غلط ہے اور گائے کی قربانی خاص ہمارے شعائر دین سے ہے، ہمارا مالک ومولٰی تبارک وتعالٰی صریح ارشاد فرماتاہے:
والبُدن جعلنا ھا لکم من شعائر اﷲ ۱؎۔
اور اونٹ اور گائے کو کیاہم نے تمھارے لئے خداکے شعاروں میں سے۔
 (۱؎ القرآن الکریم            ۲۲/ ۳۶)
اور یقیناً معلوم کہ ہمارے ملک میں اونٹ ہماری غذا وادائے واجب قربانی کے لئے کفایت نہیں کرسکتے۔ اول تو سخت گراں، دوسرے بہ نسبت گاؤ نہایت قلیل الوجود، اور اگرگاؤ کشی موقوف کرکے اونٹ پر کفایت کی جائے تو چند روزمیں اونٹ کی قیمت دہ چند ہوجائے گی، اور یہ نفع عام جو ہمارے غرباء کو پہنچتاہے ہرگز اس سے متوقع نہیں، اور عجب نہیں کہ رفتہ رفتہ بوجہ قلت اونٹ حکم عنقا کا پیدا کرے، تو رفع حاجت دائمہ اس سے متوقع نہیں، اور بکری کا گوشت کھانے کے لئے بھی تھوڑے لوگوں کو ملتاہے، اور قربانی کے واسطے بھی ہر شخص ایک بکری جدا گانہ کرے کہ سال بھر سے کم کی نہ ہو، اور اس کے اعضاء بھی عیب و نقصان سے پاک ہوں بخلاف اس غریب پرور جانور یعنی گائے کے کہ ہمارے مسئلہ شرعیہ سے اس میں سات شخص شریک ہوسکتے ہیں، اور بیشک سات بکریاں ایک گائے سے ہمیشہ گراں رہتی ہیں۔
معہذا ہمارے مذہب میں اس کا جواز اور ہنود کے یہاں ممانعت ایک پلہ میں نہیں، ہماری اصل شریعت میں اس کا جواز موجود،

 قرآن مجید میں ہے:
ان اﷲ یامر کم ان تذبحوا بقرۃ ۲؎۔
وشرائع من قبلنا اذا قصھا اﷲ تعالٰی علینا من دون انکار شرائع لنا ۳؎ (ملتقطا) کما نص علیہ فی کتب الاصول۔
بیشک اللہ تمھیں حکم دیتاہے کہ گائے ذبح کرو۔ (ت) ہم سے پہلی شریعتوں کو جب اللہ تعالٰی بیان فرماکر منع نہ فرمائے تو وہ ہماری شریعت ہوجاتی ہے (ملتقطا) جیسا کہ کتب اصول میں منصوص ہے (ت)
 (۲؎ القرآن الکریم           ۲ / ۶۷)

(۳؎ اصول البزدوی    باب شرائع من قبلنا    نور محمد کارخانہ تجار ت کتب کراچی    ص۲۳۲)
اور ہنود کے اصل مذہب میں کہیں اس کی ممانعت نہیں، متاخرین نے خواہ مخواہ اس کی تحریم اپنے سر باندھ لی، بلکہ کتب ہنود گواہی دیتی ہیں کہ پشوایان ہنود بھی گائے کامزہ چکھنے سے محروم نہ گئے جسے اس کی تفصیل دیکھنی ہو" سوط اللہ الجبار" وغیرہ کتب میں ردہنود کا مطالعہ کرے۔

علاوہ بریں ہم دریافت کرتے ہیں اس کی تحریم ہنود کے یہاں دوہی وجہ سے معقول:

ایک یہ کہ جانور کی ناحق ایذااور ہتھیا ہے، ہم کہتے ہیں اکثر اقوام ہنود بکری، مرغی، مچھلی کھاتے ہیں؟ کیا وہ جانور نہیں، کیا ان کی جان جان نہیں، کیا ان کی ایذا حرام نہیں، کیا ان کا قتل ہتھیا نہیں ،اور خود کتب ہنود سے جو رام ولچھمن و کرشن کا شکاری ہو نا ثابت، اس ہتھیا کا کیا علاج ،اورایساہی ناراضی ہنود کا خیال کیجئے، تو اگر وہ ہتھیا کے حکم کو عام کردیں تو کیا شرع مطہر ہمیں ہر جانور کے ذبح وقتل سے باز رکھے گی، اور سانپ کہ انسان کی جان کادشمن او رہندؤوں کا دیوتاہے ہر گز نہ ماراجائے گا، اور مسلمانوں کے اسباب ومعیشت مفقود اور انسانوں کے ابواب عافیت مسدود کردئے جائیں گے، حاشا وکلا ہماری شرع ہر گز ایسا حکم نہیں فرماتی، نہ حکام وقت ان خرافات کو روا رکھیں کیا مزے کی بات ہے، ہندوؤں میں بعض قومیں ایسی ہیں کہ مطلقاً ہر جانور کا قتل حرام اور ہتھیا جانتی ہیں، بلکہ بعض کو توا س قدر غلو وتشدد ہے کہ ہر وقت منہ پر کپڑا باندھے رہتے ہیں کہ مکھی یا بھنگا حلق میں جاکر مرنہ جائے، اور باقی طوائف ہنود ان لوگوں کا خیال اور ان کے مذہب کا لحاظ نہیں کرتے،مزے سے بکری، مرغی، مچھلی وغیرہ وغیرہ نوش جان کرتے اور مسلمانوں کی دیکھا دیکھی دیگچیوں کے بگھار کا لطف اڑاتے ہیں، جب ان کے آپس میں یہ کیفیت ہے تو ہم پر کیوں ہنود کا لحاظ اور ان کے مذہب کا ایسا خیال واجب کرکے گاؤ کشی بند کرنے کا فتوٰی دیا جاسکتاہے
ان ھذا الا ظلم صریح اوجہل قبیح
 (یہ نہیں مگر نراصریح ظلم یاقبیح جہالت۔ ت)

دوسری وجہ کہ گائے ان کے یہاں معظم ہے اوراپنے معظم کا ہلاک نہیں چاہتے۔ ہم کہتے ہیں کہ : 

اولا گئوماتا کی آنکھیں بند ہوتے ہی ان سعادت مندوں کی تعظیم کاحال کھل جاتاہے اپنے ہاتھوں چماروں کے حوالے کرتے ہیں کہ چیریں پھاڑیں، اور چرسا اپنے لئے ٹھہرالیتے ہیں کہ کھال کی جوتیاں بناکر پہنیں جو جوتوں سے بچی وہ ڈھول کر کھنچی کہ شادی بیاہ میں کام آئے، رات بھر تپانچے کھائے

ثانیا بغرض غلط اگر تعظیم ہے بھی تو صرف گائے پر مقتصر ہے، ہم بچشم خود دیکھتے ہیں کہ ہنود آپ بیل کی ہرتعظیم نہیں کرتے بلکہ اس پر سخت تشدد کرتے ہیں ہل میں جوتیں، گاڑی میں چلائیں، سواریاں لیں، بوجھ لدوائیں، وجہ بے وجہ سخت ماریں کہ جابجا ان کے جسم زخمی ہوجاتے ہیں، ہم نے خود دیکھا ہے کہ بعض ہنود نے باربرداری کی گاڑیوں میں اس قدر بوجھ بھرا کہ بیلوں کا جگر پھٹ گیا، اور خون ڈال کر مرگئے، تو معلوم ہواکہ بیل ان کے

یہاں معظم نہیں، اگر یہ ممانعت بربنائے تعظیم ہے تو چاہئے کہ بخوشی بیلوں کے ذبح کی اجازت دیں، ورنہ ان کا صریح مکابرہ او رہٹ دھرمی ہے۔

باقی رہا سائل کا یہ کہنا کہ ''اس فعل کے ارتکاب سے ثوران فتنہ وفساد ہو'' ہم کہتے ہیں جن مواضع میں مثل بازار وشارع عام وغیرہما گاؤ کشی کی قانوناً ممانعت (عہ) ہے وہاں جومسلمان گائے ذبح کرے گا البتہ اثارت فتنہ وفساد اس کی طرف منسوب ہوسکتی ہے اور قانونامجرم قرار پائے گا، اور اس امر کو ہماری شریعت مطہرہ بھی روانہیں رکھتی کہ ایسی وجہ سے مسلمانوں پر مواخذہے یا انھیں سزا ہونا بیشک توہین اسلام ہے جن کا مرتکب یہ شخص ہوا، نظیر اس کی سب وشتم آلہہ باطلہ مشرکین ہے کہ شرع نے اس سے ممانعت فرمائی، اگرچہ اکثر جگہ فی نفسہ حرج متحقق نہ تھا۔
عہ: فی الحال یہی صورت حال ہے کہ مختلف حکومتوں نے اپنے اپنے صوبے میں ذبیحہ گاؤ کا مطلقا خلاف قانون قرار دیا ہے لہذا بازرہاجائے۔ ۱۲ عبدالمنان
Flag Counter