Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۴(کتاب السیر)
116 - 150
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مذہب حنفیہ اس مسئلہ میں کہ گاؤ کشی کوئی ایسا امرہے جس کے نہ کرنے سے کوئی شخص دین اسلام سے خارج ہوجاتاہے، یا اگر کوئی معتقد اباحت ذبح ہو مگر کوئی گائے اس نے ذبح نہ کی ہو یا گائے کا گوشت نہ کھایا ہو، ہر چند کہ اکل اس کاجائز جانتاہے، تو اس کے اسلام میں کچھ فرق نہ آئے گا اور وہ کامل مسلمان رہے گا، گاؤ کشی کوئی واجب فعل ہے کہ جس کا تارک گنہ گار ہوتاہے، یا اگر کوئی شخص گاؤ کشی نہ کرے صرف اباحت ذبح کا دل سے معتقد ہو تووہ گنہ گار نہ ہوگا۔ جہاں بلاوجہ اس فعل کے ارتکاب سے ثوران فتنہ وفساد ہوا ور مفضی بہ ضرر اہل اسلام ہو، اور کوئی فائدہ اس فعل پر مرتب نہ ہوا ور عملداری اسلام بھی نہ ہو تووہاں بدیں وجہ اس فعل سے کوئی باز رہے تو جائز ہے یایہ کہ بلاسبب ایسی حالت میں میں بقصد اثارت فتنہ وفساد ارتکاب اس کا واجب ہے، اور قربانی اونٹ کی بہتر ہے یاگائے کی؟ بینوا توجروا
الجواب

واﷲ سبحنہ موفق الصدق والصواب، بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم، اللھم صل وسلم وبارک علی سیدنا محمد واٰلہ وصحبہ اجمعین، اللھم بک نستعین،
اصل مسئلہ کے جواب سے پہلے دو امرذہن نشین کرنا لازم :

اول یہ کہ ہماری شریعت مطہر اعلٰی درجہ حکمت ومتانت ومراعات دقائق مصلحت میں ہے، اور جوحکم عرف ومصالح پر مبنی ہوتاہے انھیں چیزوں کے ساتھ دائر رہتاہے، او راعصا روامصار میں ان کے تبدل سے متبدل ہوجاتاہے، اور وہ سب احکام احکام شرع ہی قرار پاتے ہیں، مثلا زمان برکت نشان حضور سرو عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم میں بوجہ کثرت خیر ونایابی فتنہ وشدت تقوٰی وقوت خوف خدا عورتوں پر ستر واجب تھا نہ حجاب، اورزنان مسلمین برائے نماز پنجگانہ مساجد میں جماعتوں کے لئے حاضر ہوتیں، بعدحضور کے جب زمانے کا رنگ قدرے متغیر ہواام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے فرمایا:
لوا ن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم رأی من النساء مارأینا لمنعھن من المسٰجد کما منعت بنواسرائیل نسائھا ۱؎ رواہ احمد وبخاری ومسلم۔
یعنی رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ہمارے زمانے کی عورتوں کو ملاحظہ فرماتے تو انھیں مساجد جانے سے ممانعت کرتے جیسے بنی اسرائیل نے اپنی عورتوں کو منع کردیا تھا
(اسے امام احمد وامام بخاری ومسلم نے روایت کیا۔ ت)
 (۱؎ مسند احمد بن حنبل    مروی عائشہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا    دارالفکر بیروت    ۶/ ۹۱)

(صحیح بخاری         باب خروج النساء الی المساجد باللیل    قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/ ۱۲۰)

(صحیح مسلم        باب خروج النساء الی المساجد    قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/ ۱۸۳)
جب زمانہ رسالت سے اور بُعد ہوا ائمہ دین نے جوان عورتوں کو ممانعت فرمادی، جب اور فساد پھیلا، علماء نے جوان وغیر جوان کسی کے لئے اجازت نہ رکھی،
درمختار میں ہے:
یکرہ حضور من الجماعۃ ولو لجمعۃ وعید ووعظ مطلقا لوعجوزالیلا علی المذھب المفتی بہ لفساد الزمان ۲؎۔
رات کو عورتوں کا خواہ بوڑھی ہو ں جماعت میں حاضر ہونا مکروہ ہے اور اگر جمعہ، عید اور وعظ کی مجلس ہو تو مفتی بہ مذہب میں مطلقا مکروہ ہے زمانہ کے فساد کی وجہ سے۔ (ت)
 (۲؎ درمختار  باب الامامۃ   مطبع مجتبائی دہلی    ۱/ ۸۳)
فتح القدیر میں فرمایا
: عمم المتاخرون المنع العجائز والشواب فی الصلوات کلھا لغلبۃ الفساد فی سائر الاوقات ۱؎۔
غلبہ فساد کی وجہ سے تمام اوقات کی نمازوں میں عموماً بوڑھی او رجوان عورتوں کا نکلنا متاخرین علماء نے منع فرمایا ہے۔ (ت)
 (۱؎ فتح القدیر    باب الامامۃ                مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۱/ ۳۱۷)
حالانکہ صحیح حدیث میں حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
اذا استأذنت احدکم امرأتہ الی المسجد فلا یمنعہا ۲؎ رواہ احمد والشیخان والنسائی عن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما
جب تم میں کسی کی عورت مسجد جانے کی اجازت مانگے تو اسے منع نہ کرے (اسے احمد، بخاری، مسلم اور نسائی نے ابن عمررضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کیا۔ ت)
 (۲؎ صحیح بخاری    باب استیذان المرأۃ زوجہا بالخروج الی المسجد     قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/ ۱۲۰)

(صحیح مسلم    باب خروج النساء الی المساجد        قدیمی کتب خانہ کراچی  ۱/ ۱۸۳)
دوسری حدیث میں فرمایا:
لاتمنعوا اماء اﷲ مساجد اﷲ ۳؎ رواہ احمد ومسلم عن ابن عمر واحمد وابوداؤد عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ
اللہ کی کنیزوں کو اللہ کی مسجدوں سے نہ روکو، (اسے امام احمداور مسلم نے ابن عمر سے اور احمد و ابوداؤد نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہم سے روایت کیا۔ ت)
 (۳؎ صحیح مسلم    باب خروج النساء الی المساجد        قدیمی کتب خانہ کراچی  ۱/ ۱۸۳)

(سنن ابی داؤد     باب خروج النساء الی المساجد    آفتاب عالم پریس لاہور    ۱/ ۸۴)
پھر ان ائمہ علماء کے یہ احکام ہر گز حکم اقدس کے خلاف نہ ٹھہرے بلکہ عین مطابق مقصود شرع قرار پائے، اس طرح رفتہ رفتہ حاملان شریعت وحکمائے امت نے حکم حجاب دیا اور چہرہ چھپانا کہ صدر اول میں واجب نہ تھا واجب کردیا۔ 

نہایہ میں ہے
: سدل الشیئ علی وجھھا واجب علیھا ۴؎۔
چہرے پر پردہ لٹکانا عورت پر واجب ہے۔ (ت)
 (۴؎ المسلک المتقسط علی لباب المناسک بحوالہ النہایہ مع ارشاد الساری مع فصل فی احرام المرأۃ دارالکتاب العربی بیروت    ص۶۸)
شرح لباب میں ہے:
دلت المسئلۃ علی ان المرأۃ منھیۃ عن اظھار وجھھا للاجانب بلاضرورۃ ۱؎۔
یہ مسئلہ اس بات پرد لالت کرتاہے کہ عورت کو بلا ضرورت اجنبی لوگوں پر اپنا چہرہ کھولنا منع ہے۔ (ت)
 (۱؎ المسلک المتقسط علی لباب المناسک    بحوالہ النہایۃ مع ارشاد الساری فصل فی احرام المرأۃ     دارالکتب العربی بیروت    ص۶۸)
تنویر میں ہے:
تمنع من کشف الوجہ بین رجال لخوف الفتنۃ ۲؎۔
فتنہ کے خوف سے مردوں میں عورت کو چہرہ کھولنے سے روکا جائے۔ (ت)
 (۲؎ درمختار شرح تنویرالابصار        باب شروط الصلوٰۃ            مطبع مجتبائی دہلی    ۱/ ۶۶)
Flag Counter