انفس الفکر فی قربان البقر
(گائے کی قربانی کے بارے میں بہترین طریقہ ۱۲۹۸ھ)
مسئلہ ۱۸۴: عجیبہ (عہ) از مرادآباد شوال ۱۲۹۸ھ
عہ: اہم وضاحت:
(ذلک فضل اﷲ یؤتیہ من یشاء کا نمونہ ومصداق) ۱۲۹۸ہجری کا ربع اخیر ہے شوال مکرم کا ماہ منیر ہے، اس لیے خاتمۃ المحققین امام المدققین والد ماجد حضرت مصنف علام مدظلہ وقدس سرہ الشریف کے وصال کو دس مہینے ہوئے ہیں بضرورت انتظام معاش جانب جائداد چند روز ابتدا میں توجہ کرنی ہوئی ہے اس لئے حضرت مصنف مدظلہ اپنے دیہات میں تشریف رکھتے ہیں کہ وہیں یہ سوال پہنچا اس وقت کھیتوں کامعاینہ تھا آدمی نے وہیں یہ سوال پیش کیا، بنگاہ اولین اس کے اندرونی مقصد کو پہچان لیا کہ اگرچہ یہاں بعض مسلمانون نے بھیجا مگر اصل سائل ہنود ہیں اور فورا معلوم کیا کہ وہ اس سے کیا چاہتے ہیں، اور اہل اسلام کو کیسے نقصان پہنچانے کا ارادہ کرتے ہیں، عصر کا وقت تھا، فرمایا: صبح جواب دیا جائے گا، دیہات میں کتابیں نہ تھیں، دوسرے دن وہ جواب تحریرفرمادیا، جو ناظرین نے ملاحظہ فرمایا، جس نے بحمداللہ تعالٰی فریب دینے والوں کے مکرکو خاک میں ملایا، والاحضرت حامی سنت مولٰنا مولوی محمد ارشاد حسین رامپوری رحمۃاللہ تعالٰی علیہ اور علمائے رامپور نے اس پر تصدیقیں لکھیں، اورحضرت مولٰنا موصوف مرحوم نے مقاصد کو پہچان کر تصدیق میں تحریر فرمایا کہ ''الناقد بصیر'' یہ پرکھنے والا آنکھیں رکھتاہے یعنی اس کا دیدہ بصیرت نورالہٰی سے منور ہے کہ مکاروں کے خفی مکر کی تہہ تک پہنچ گیا اور اس کاقلع قمع کیا،
(یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دے اللہ بڑے فضل والا ہے۔ ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۵۷/ ۲۱)
جب جناب مولوی عبدالحی صاحب لکھنوی کا فتوی ۱۳۰۵ ھ میں چھپا اس کے دیکھنے سے معلوم ہوا کہ یہ سوال اسی ماہ وسال میں ان کے پاس بھی گیا تھا، یہاں مرادآباد سے آیا، وہاں مرزاپور سے گیا تھا، اور عجب نہیں کہ مختلف مقامات سے اور علماء کے پاس بھی بھیجا ہوا، اوروں کا جواب توکیا معلوم مگر جناب لکھنوی صاحب کاجواب چھپا جس سے ظاہر ہواکہ عیاروں کا دھوکا ان پر چل گیا انھوں نے غور نہ فرمایا کہ سوال کے تیور کیا ہیں اس کا سائل کون ہونا چاہئے، اس سے اس کی غرض کیا ہے، سیدھا سادہ پاؤں تلے کاجواب لکھ دیا کہ:
''گاؤ کشی واجب نہیں، تارک گنہ گار نہ ہوگا، بقصد اثارت فتنہ گاؤ کشی نہ چاہئے بلکہ جہاں فتنہ کاظن غالب ہواحتراز اولٰی ہے قربانی اونٹ کی بہتر ہے۲۔ محمد عبدالحی''
(۲؎ مجموعہ فتاوٰی کتاب الاضحیہ مطبع یوسفی لکھنؤ ۲/ ۲۸۲ و ۲۸۳)
وہیں کے اور دو صاحبوں نے مہر کی، اس پر مسلمانوں کی ضرورت ہوئی کہ اہل افتا کو ہوشیار کریں انھیں دنیا کی حالت ملک کی رنگت دکھائیں خود اپنے جواب کو صحیح معنی کی طرف پھیرنے کی راہ بتائیں، لہذا اس پر دو سوال ہوئے:
سوال اول: ''حضرت علماء سے جن کی مواہیر اس پر چہ پر ثبت ہیں استفسار ہے کہ جواب میں آپ کی مراد اس جملہ سے آیا یہ ہے کہ ابتدائے فتنہ اہل اسلام کی طرف سے نہ ہو یعنی جہاں عملداری ہنود کی ہو وہاں بقصد فتنہ انگیزی گاؤکشی نہ کریں یا یہ کہ بلادہند وغیرہ میں جہاں ہمیشہ سے اہل اسلام گائے ذبح کرتے آئے اور کبھی ان کو مقصود فتنہ انگیزی نہ ہوئی بلکہ اجرائے حکم شریعت اب اگر مسلمان ان بلاد میں گائے ذبح کرے اور ہندو بنظر تعصب منع کریں تو مسلمان اس سے بازرہے'' ۱؎
طبیعت میں حق کی طرف رجوع کا مادہ تھا اس سوال سے تنبہ ہوا اورحضرات علماء نے یہ جواب تحریر فرمایا:
''گائے ذبح کرنا اگرچہ مباح ہے واجب نہیں، مگر ایسا مباح نہیں کہ کسی زمانہ یابلاد خاص میں اس کارواج ہو بلکہ یہ طریقہ قدیمہ ہے زمان آنحضرت صلعم (عہ) وصحابہ وتابعین وجملہ سلف صالحین سے تمام بلاد وامصار میں اوراسکی اباحت پر اجماع ہے تمام اہل اسلام کا، ایسے امر شرعی ماثور قدیم سے اگر ہنود روکیں تومسلمان کو اس سے باز رہنا نہیں درست ہے بلکہ ہر گاہ ہنود کا ایک امر شرعی قدیم کے ابطال میں کوشش کریں، اہل اسلام پر واجب ہے کہ اس کے ابقاء واجراء میں سعی کریں، اگرہنود کے کہنے سے اس فعل کو چھوڑیں گے تو گنہگار ہوں گے، اور مقصود اس جملہ میں جو جواب سابق میں ہے یہ ہے کہ بقصد برانگیختہ کرنے فتنہ وفساد کے گاؤ کشی نہ چاہئے مثلا جہاں عملداری ہنودکی ہو وہاں مسلمان بقصد ابتدائے مردم آزادی خواہ مخواہ ذبح کریں یا عیدالاضحٰی میں کسی ہندو کے مکان کے قریب جاکے بایں خیال ذبح کریں کہ فتنہ قائم ہو ایسی صورتوں کا ارتکاب نہ چاہئے بلکہ ایسی حالت میں ترک، اولٰی ہے اوربلاد ہندوستان وغیرہ میں ترک اولٰی نہیں بلکہ اس کے ابقا میں سعی واجب ہے ہے ۲؎''
سوال تو پہلے بھی ہندوستان ہی سے آیا تھا مگر اس وقت غور نہ فرمایا گیا۔ : استغفراللہ بلکہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ۱۲کاتب
14_7.jpg
(۲؎مجموعہ فتاوٰی عبدالحی کتاب الاضحیہ مطبع یوسفی لکھنؤ ۲/ ۲۸۳)
''فی الواقع ان بلاد میں مسلمانوں کوگاؤ کشی باقی رکھنے میں کوشش لازم ہے اور مراد اس فقرہ سے یہ ہے کہ جہاں عملدری خاص ہنود کی ہے اورگاؤ کشی وہاں زینہار نہیں ہوتی اس جگہ باعلان گاؤ کشی کرنا بنظر فتنہ اولٰی نہیں ۱؎''
''فی الواقع مقصود جملہ سابق سے یہ ہے کہ بارادہ برانگیختہ کرنے فساد کے عملداری خاص ہنود میں جہاں گائے ذبح نہ ہوتی ہو گاؤ کشی باعلان نہ چاہئے یا ہندو کے ہمسایہ میں علانیہ ذبح کرنا بارادہ فساد نہ چاہئے جن بلاد ومواضعات ہند میں رواج گاؤ کشی چلاآیا ہے اب کوئی ہندو بپاس تعصب مانع ہے تو مسلمانوں کو بپاس حمیت اسلامی ابقائے گاؤ کشی میں کوشش بلیغ لازم ہے زینہار ترک نہ کریں گاؤکشی شعا ر مسلمانی ہے احتمال فساد ہو تو بذریعہ حکام رفع کرنا اس کا بابقائے رواج قدیم واجب ہے بخوف فساد ہنود ذبح گائے سے زینہار باز نہ رہیں، ذبح گاؤ شعائراسلام سے ہے اہمال اس کا بلاوجہ وجیہ جائز نہیں۲؎''
''ہاں ابتداءً اثارت فتنہ نہ چاہئے اور یہی معنی ہیں فقرہ جواب سابق کے پس جن بلاد میںذبح گاؤ مروج ہے منع کرناہنود کا ان کی جانب سے اثارت فتنہ وفسا د ہوگا اس کو رفع کرنامسلمان کو ضرور ہے ۳؎''
سوال دوم: از بھاگل پور شوال ۱۲۹۸ھ
''اگر مسلمان گائے کی قربانی یا واسطے کھانے گائے ذبح کرنا چاہے او رہنود بوجہ تعصب یا بنظر توہین اسلام روکیں تو مسلمانوں کو گائے کی قربانی یا گائے کے ذبح سے رکنا چاہئے یا کیا کرے، اگر ازجانب ہنود فساد کااحتمال ہے مگر اس کا دفع بذریعہ حکام ممکن تو صرف بلحاط فتنہ مذکور باز آنا چاہئے یا کیا کرے، یہ امر ظاہر ہے کہ اونٹ ان ملکوں میں کم ہیں اگر دستیاب بھی ہوئے توبہت قیمت سے اوریہ بھی ظاہر ہے کہ سات بھیڑ کی قیمت ایک گائے سے زیادہ ہوتی ہے اور اگر ہنود کہیں تم گائے مت کرو اونٹ بھیڑ قربانی کرو، تو اس کومان لینا واجب ہے یا نہیں؟ ۱؎ بینوا توجروا
جواب: گائے ذبح کرنے کا جواز قرآن وحدیث سے ثابت ہے، آنحضرت صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اورصحابہ نے زمانہ آنحضرتص (عہ۱) میں اور بعد آنحضرت صلعم (عہ۲) کے اس کو ذبح کیا ہے اس کے گوشت حلال اور ذبح جائز ہونے پر اتفاق ہے تمام مسلمانوں کا خواہ بروز عید ہویا اور روز تومسلمان کو باز آنانہیں درست ہے، او رہندو کی ممانعت تسلیم کرلینا نہیں جائز ہے، تسلیم کرنا موجب ان کے اعتقاد باطل کی تقویت وترویج کاہوگا یہ کسی طرح شرع میں جا ئز نہیں۔ اونٹ اگرچہ گائے سے اولٰی ہے مگر کوئی شخص اس پر مجبور نہیں کیا جاسکتا علی الخصوص جب ہنود بغرض تعصب کہیں کہ خواہ مخواہ اونٹ یا بکری کرو، مسلمانوں کو ضرور ہے کہ قول ہنود تسلیم نہ کریں اور گاؤ کشی کوکہ اسلام کا طریقہ قدیمہ ہے ترک نہ کریں بوجہ احتمال فساد ہنود گائے ذبح کرنے سے رکنا نہ چاہئے ۲؎''