Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۴(کتاب السیر)
114 - 150
یہ سعی ان معاندوں کےلئے نہیں جو دانستہ تغییر کلام اللہ وتبدیل احکام اللہ کررہے ہیں بلکہ ان شبہات کے کشف کوہے جن سے وہ احکام الہٰیہ کو بدلتے اور عوام مسلمین کو چھلتے ہیں اس امید پر کہ مولٰی عزوجل چاہے تو جو ان کے دھوکے میں آگئے حق کی طرف واپس آئیں او رجن پر ہنوز ان کا فریب نہ چلا بعونہٖ تعالٰی حفظ وپناہ پائیں
ان ذٰلک علی اﷲ یسیر ۳؎۔ ان اﷲ علی کل شیئ قدیر ۴؎
(بیشک یہ اللہ کو آسان ہے،بیشک اللہ سب کچھ کرسکتاہے۔ ت)
 (۳؎ القرآن الکریم                        ۲۹/۱۹) (۴؎القرآن الکریم                        ۲۹/۲۰)
حضور پرنور سید یوم النشور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
واﷲ لان یھدی اﷲ بک رجلا واحد اخیرلک من ان یکون لک حمر النعم ۱؎۔ رواہ البخاری ومسلم عن سہل بن سعدی رضی اﷲ تعالٰی عنہ جعل اﷲ لنا السہل والسعدی فی القبل والبعد وصلی اﷲ تعالٰی علی سیدنا واٰلہ وصحبہ وابنہ وحزبہ وبارک وسلم۔
خدا کی قسم بیشک یہ بات کہ اللہ تیرے سبب سےایک شخص کو ہدایت فرمادے تیرے لئے سرخ اونٹوں کا مالک ہونے سے بہتر ہے، یہ حدیث بخاری ومسلم نے سہل بن سعد رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی (اللہ تعالٰی انھیں ہمارے اگلے پچھلوں کے لئے سہل اور مبارک بنائے
وصلی اﷲ تعالٰی علی سیدنا وآلہ وصحبہ وابنہ وحزبہ وبارک وسلم۔ ت)
 (۱؎ صحیح البخاری         کتاب الجہاد            قدیمی کتب خانہ کراچی        ۱/ ۴۱۳۔ ۴۲۲)

(صحیح مسلم        با ب من فضائل علی ابن ابی طالب    قدیمی کتب خانہ کراچی      ۲/ ۲۷۹)
جہاد کے احکام واقسام کا ذکر 

تنبیہ: جہاد کہ اعظم وجوہ ازالہ منکر ہے اسی کی تین قسمیں ہیں :

(۱)جنانی    (۲)لسانی    (۳)سنانی

جہاد جنانی: یعنی کفر وبدعت وفسق کو دل سے براجاننا جو ہر کافر مبتدع وفاسق سے ہے اور ہر مسلمان کہ اسلام پر قائم ہو یہ کرتاہے مگر جنھوں نے اسلام کو سلام اور اپنے آپ کو مشرکین وکفار کا غلام کیا ان کی راہ جدا ہے ان کا دین غیر دین خداہے۔

لسانی: کہ زبان وقلم سے رد، وہ ابھی سن چکے کہ ایسوں ہی پر سب سے اہم وآکد،یہ بحمداللہ تعالٰی خادمان شرع ہمیشہ سے کررہے ہیں اور اللہ ورسول کی مدد شامل ہو تو دم آخر تک کریں گے، وہابیہ، نیاچرہ، دیوبندیہ، قادیانیہ، روافض، غیرمقلدین، ندویہ، نصارٰی وغیرہم سے کیا اوراب ان گاندھویہ سے بھی وہی برسرپیکار ہیں حق کی طرف بلاتے اور باطل کوباطل کردکھاتے اورمسلمانوں کو گمراہ گروں کے شر سے بچاتے ہیں وللہ الحمد آگے ہدایت رب عزوجل کے ہاتھ ہے۔

رہاجہاد سنانی: ہم اوپر بیان کرچکے ہیں کہ یہ نصوص قرآن عظیم ہم مسلمانان ہند کو جہاد برپا کرنے کاحکم نہیں اور اس کا واجب بتانے والا مسلمان کا بدخواہ مبین۔

یہاں کے مسلمانوں کو جہاد کا حکم نہیں اور واقعہ کربلا سے لیڈران کا استناد اغوائے مسلمین:

بہکانے والے یہاں واقعہ کربلا پیش کرتے ہیں یہ ان کا محض اغواہے ۔

اولا اس لڑائی میں ہر گز حضرت امام رضی اللہ تعالٰی عنہ کی طرف سے پہل نہ تھی امام نے خبیث کوفیوں کے وعدہ پر قصد فرمایا تھا جب ان غداروں نے بد عہدی کی قصد رجوع فرمایا اور جب سے شروع جنگ تک اسے بارباراحباب واعداء سب پر اظہار فرمایا۔

(ا) جب حر بن یزید ریاحی تمیمی رحمہ اللہ تعالٰی اول بارہزار سواروں کے ساتھ حضرت امام عالی مقام رضی اللہ تعالٰی عنہ کے مزاحم ہوئے امام نے خطبہ فرمایا:''اے لوگو! میں تمھارا بلایا آیاہوں، تمھارے ایلچی اور خطوط آئے کہ تشریف لائیے ہم بے امام ہیں، میں آیااب تم اگر عہد پر قائم ہو تومیں تمھارے شہر میں جلوہ فرماہوں ''وان لم تفعلوا وکنتم بمقدمی کارھین انصرفت عنکم الی المکان الذی اقبلت منہ الیکم ۱؎'' اوراگر تم عہد پر نہ رہو یا میرا تشریف لانا تمھیں ناپسند ہو تو میں جہاں سے آیا وہیں واپس جاؤں'' وہ خاموش رہے۔
 (۱؎تاریخ الطبری     ثم دخلت سنۃ احدی وستین     دارالقلم بیروت    الجزء السادس ۶/ ۲۲۸)
(ب) پھر بعدنماز عصر خطبہ فرمایا اوراس کے اخر میں بھی وہی ارشاد کیا کہ
''ان انتم کرھتمونا انصرفت عنکم ۲؎
اگر تم ہمیں ناپسند رکھتے ہو میں واپس جاؤں، حرنے کہاہمیں تویہ حکم ہے کہ آپ سے جدا نہ ہوں جب تک ابن زیاد کے پاس کوفے نہ پہنچادیں۔
 (۲؎ تاریخ الطبری     ثم دخلت سنۃ احدی وستین     دارالقلم بیروت    الجزء السادس ۶/ ۲۲۸)
(ج) امام نے اس پر بھی ہمراہیوں کو معاودت کاحکم دیا وہ بقصد واپسی سوار ہوئے حر نے واپس نہ ہونے دیا۔

(د) جب نینوٰی پہنچے حر کے نام ابن زیاد خبیث کا خط آیا کہ حسین کو پٹیر میدان میں اتاروجہاں پانی نہ ہو اور یہ میرا ایلچی تمھارے ساتھ رہے گا کہ تم میرا حکم بجالاتے ہو یانہیں۔ حرنے حضرت امام کوناپاک خط کا مضمون سنایا اور ایسی ہی جگہ اترنے پر مجبور کیا، فدائیاں امام سے زہیر بن القین رحمہ اللہ تعالٰی نے عرض کی: اے ابن رسول اللہ ! آگے جو لشکر آنے والے ہیں وہ ان سے بہت زائد ہیں ہمیں اذن دیجئے کہ ان سے لڑیں، فرمایا:
''ماکنت لابدأھم بالقتال۳؎''
میں ان سے قتال کی پہل کرنے کونہیں۔
 (۳؎تاریخ الطبری     ثم دخلت سنۃ احدی وستین     دارالقلم بیروت    الجزء السادس       ۶/ ۲۳۲)
 (ہ) جب خبیث ابن طیب یعنی ابن سعد اپنا لشکر لے پہنچا حضرت امام سے دریافت کیا کیسے آئے؟ فرمایا: تمھارے شہر والوں نے بلایا تھا
''فامااذکرھونی فانی انصرف عنہم ۴؎''
اب کہ میں انھیں ناگوار ہوں واپس جاتاہوں، ابن سعدنے یہ ارشاد ابن زیاد کو لکھا، اس خبیث نے نہ مانا، قاتلہ اللہ۔
 (۴؎تاریخ الطبری     ثم دخلت سنۃ احدی وستین     دارالقلم بیروت    الجزء السادس  ۶/ ۲۳۴)
 (و) شب کو ابن سعد سے خلوت میں گفتگو ہوئی اس میں بھی حضرت امام نے فرمایا:
''دعونی ارجع الی المکان الذی اقبلت منہ ۱؎''
مجھے چھوڑو کہ میں مدینہ طیبہ واپس جاؤں ، ابن سعد نے ابن زیاد کولکھا اس باروہ راضی ہواتھا کہ شمر مردود خبیث نے بازرکھا۔
 (۱؎ الکامل فی التاریخ    ذکر مقتل حسین     دارصادر بیروت    ۴/ ۵۴ و ۵۵)
 (ز) عین معرکہ میں قتال سے پہلے فرمایا:
ایھاالناس اذکرھتمونی فدعونی انصرف الی مأمنی من الارض ۲؎۔
اے لوگو! جبکہ تم مجھے پسند نہیں کرتے توچھوڑو کہ اپنی امن کی جگہ چلا جاؤں ۔
 (۲؎ تاریخ الطبری    ثم دخلت سنۃ احدی وستین     دارالقلم بیروت    الجزء السادس     ۶/ ۲۴۳)
اشقیاء نے نہ مانا، غرض جب سے برابر قصد عود رہا مگر ممکن نہ ہوا کہ منظور رب یونہی تھا، جنت آراستہ ہوچکی تھی اپنے دولھا کا انتظار کررہی تھی، وصال محبوب حقیقی کی گھڑی آلگی تھی تو ہر گز لڑائی میں امام کی طرف سے پہل نہ تھی ان خبیثوں ہی نے مجبور کیا، اب دوصورتیں تھیں یا بخوف جان اس پلید کی وہ ملعون بیعت قبول کی جاتی کہ یزید کا حکم ماننا ہوگا اگرچہ خلاف قرآن وسنت ہو۔ یہ رخصت تھی ثواب کچھ نہ تھا قال تعالٰی:
''الامن اکرہ وقلبہ مطمئن بالایمان ۳؎۔
مگر جو مجبور کیا جائے اور اس کا دل ایمان پر برقرار ہو۔یا جان دے دی جاتی اور وہ ناپاک  بیعت نہ کی جاتی، یہ عزیمت تھی اور اس پر ثواب عظیم، اور یہی ان کی شان رفیع کے شایان تھی، اسی کو اختیار فرمایا، اسے یہاں سے کیا علاقہ!
(۳؎ القرآن الکریم      ۱۶/ ۱۰۶)
ثانیا بالفرض اس بے سروسامانی میں امام کی طرف سے پہل بھی سہی تو یہاں ایک فرق عظیم ہے جس سے یہ جاہل غافل، فاسقوں پر ازالہ منکر میں حملہ جائز اگرچہ یہ تنہا ہو اور وہ ہزاروں اور سلطان اسلام جس پر اقامت جہادفرض ہے اسے بھی کافروں سے پہل حرام جبکہ ان (عہ)کے مقابلہ کے قابل نہ ہو،
عہ: اور شرط قدرت تو دفاع بلکہ کسی فرض اسلامی سے کبھی منفک نہیں بنصوص قطعیہ واجماع امت مرحومہ۔ مجتبٰی و شرح نقایہ وردالمحتار کی عبارت گزشتہ: ھذا اذا غلب علی ظنہ انہ یکافیہم والا فلایباح قتالہم۔ 

یہ اس وقت ہے جب گمان غالب ہو کہ ان کے مقابلہ کے قابل ہے ورنہ ان سے لڑنا حلال نہیں۔ (ت)

کے بعد ہے بخلاف الامر بالمعروف ۴؎ ( امر بالمعروف کاحکم اس کے خلاف ہے۔ ت)
 (۴؎ جامع الرموز    کتاب الجہاد        گنبد قاموس ایران    ۴/ ۵۵۵)
شرح سیر میں اس کی وجہ بیان فرمائی :
ان المسلمین یعتقدون مایأمربہ فلابد ان یکون فعلہ مؤثرا فی باطنہم بخلاف الکفار ۱؎۔
امر بالمعروف میں مسلمانوں کو جو حکم دے گا وہ دل سے اسے حق جانتے ہیں توضرور اپنے دل میں اس کے فعل سے متاثر ہوں گے بخلاف کفار،
 (۱؎ شرح السیر الکبیر)
دیکھوامام نے کیا کیا اور تم کیا کررہے ہو کیوں اسلام وکفر ملاتے ہو:

ثالثا حضرت امام رضی اللہ تعالٰی عنہ کا نام پاک لیتے ہوئے شرم چاہئے تھی، کیا امام توامام ان کے غلام ان کے درکے کسی کتے نے معاذاللہ مشرکوں سے مدد مانگی، کیا کسی مشرک کا دامن تھاما، کیاکسی مشرک کے پس روبنے، کیا مشرکوں کی جے پکاری، کیا مشرکوں سے اتحاد گانٹھا، کیا مشرکوں کے حلیف بنے، کیا ان کی خوشامدکے شعار اسلام بند کرنے میں کوشاں ہوئے، کیا قرآن عظیم وحدیث کی تمام عمر بت پرستی پر نثار کردی وغیرہ وغیرہ شنائع کثیرہ بہتر تن سے بیس ہزار فجار کا مقابلہ فرمایا۔ امام کانام لیتے ہو تو کیا تم میں بہتر مسلمان بھی نہیں جب تیئس کروڑمشرکین تمھارے ساتھ ہوں گے اس وقت تم میں بہتر مسلمانوں کا عدد پورا ہوگا، قرآن کو پیٹھ دینے والو! کیوں امام کانام لیتے ہو، اسلام سے الٹے چلنے والو! کیوں مسلمانوں کو دھوکے دیتے ہو، دہلی میں فتوٰی چھاپ دیاکہ اس وقت جہاد واجب ہے بے سروسامانی کے جواب کوامام کی نظیر پیش ہوگئی اورحالت یہ کہ ذرا سی دھوپ سے بچنے کو گئوپتروں کی چھاؤں ڈھونڈھ رہے ہیں، کیا تم اپنے ہی فتوے سے نہ صرف تارک فرض ومرتکب حرام بلکہ راضی بہ غلبہ کفر وذلت اسلام نہ ہوئے، امام کا تو کل اللہ پرتھا اور تمھارا اعتماد اعداء اللہ پر، یقین جانوکہ اللہ سچا، اللہ کا کلام سچا ''لایالونکم خبالا'' مشرکین تمھاری بدخواہی میں گئی نہ کریں گے وہ جھوٹا فتوٰی اوریہ پوچ بھروسا اور خادمان شرع پر الٹا غصہ کہ کیوں خاموش رہے کیوں سینہ سپر نہ ہوئے، یہ ہے تمھاری خیر خواہی اسلام یہ ہیں تمھارے دل ساختہ احکام، جن پرنہ شرع شاہد نہ عقل مساعد، مسلمان ہونے کا دعوٰی ہے تو اسلام کے دائرے میں آؤ، تبدیل احکام الرحمن و اختراع احکام الشیطان سے ہاتھ اٹھاؤ، مشرکین سے اتحاد توڑو، دیوبندیہ وغیرہم مرتدین کا ساتھ چھوڑو کہ جسے محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا دامن پاک اپنے سایہ میں لے، دنیا نہ ملے نہ ملے دین تو ان کے صدقے میں ملے۔
یایھاالذین اٰمنوا ادخلوا فی السلم کافۃ ولاتتبعواخطوات الشیطن انہ لکم عدو مبین o فان زللتم من بعد ماجاء تکم بالبینت فاعلموا ان اﷲ عزیز حکیم o ھل ینظرون الا ان یأتیہم اﷲ فی ظلل من الغمام والملئکۃ وقضی الامر والی اﷲ ترجع الامور ۱؎o
اے ایمان والو! اسلام میں پورے داخل ہوجاؤ شیطان کے پس رو نہ ہو بیشک وہ تمھارا کھلا دشمن ہے پھر اگر روشن دلیلیں آنے پر تمھارا قدم لغزش کرے تو جا ن لو اللہ غالب حکمت والا ہے کاہے کے انتظار میں ہیں سوا اس کے کہ گھٹا ٹوپ بادلوں میں اللہ کا عذاب اور فرشتے آئیں اور کام تمام ہو اور اللہ ہی کی طرف سب کام پھرتے ہیں۔
 (۱؎ القرآن الکریم            ۲/ ۲۰۸ تا ۲۱۰)
ربنا علیک توکلنا والیک انبنا والیک المصیر o ربنا لاتجعلنا فتنۃ للذین کفروا و اغفرلنا ربنا انک انت العزیز الحکیم o ربنا افتح بیننا وبین قومنا بالحق وانت خیرا الفاتحین o
امین یاارحم الراحمین o وصلی اﷲ تعالٰی علی سیدنا ومولٰنا وملجانا ومأوٰنا محمد واٰلہ وصحبہ اجمعین دائما ابدا الاٰبدین، عدد کل ذرۃ الف الف مرۃ فی کل اٰن وحین والحمد ﷲ رب العلمین، واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ 

                                فقیر احمد رضا قادری غفرلہ
Flag Counter