ہندوؤں کی دیگ موافقت سے بانگی کا چاول:
اور بفرض غلط وبفرض باطل اگر سب مسلمان زمیندایاں تجارتیں نوکریاں تمام تعلقات یکسر چھوڑدیں تو کیا تمھارے جگری خیرخواہ جملہ ہنود بھی ایسا ہی کریں گے اور تمھاری طرح نرے ننگے بھوکے رہ جائیں گے، حاشا ہر گز نہیں، زنہار نہیں، اور جو دعوٰی کرے اس سے بڑھ کر کاذب نہیں مکار نہیں، اتحاد ووداد کے جھوٹے بھروں پر بھولے ہو منافقانہ میل پر پھولے ہو سچے ہو تو موازنہ نہ دکھاؤ کہ اگر ایک مسلمان نے ترک کی ہو تو ادھر پچاس ہندؤوں نے نوکری تجارت زمینداری چھوڑدی ہو کہ یہاں مالی نسبت یہی یا اس سے بھی کم ہے، اگر نہیں دکھاسکتے توکھل گیاکہ ع
خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا جو سنا افسانہ تھا
لاجرم نتیجہ کیا ہوگا یہ کہ تمام اموال کل دولتیں دنیا وی جمیع اعزاز جملہ وجاہتیں صرف ہندوؤں کے ہاتھ میں رہ جائیں اور مسلمان دانے دانے کو محتاج بھیک مانگیں اور نہ پائیں، ہندو کہ اب انھیں پکائے ڈالتے ہیں جب بے خوف وخطر کچا ہی چبائیں، یہ ہے لیڈر صاحبوں کی خیرخواہی یہ ہے حمایت اسلام میں جانکاہی، ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔
ہندوکیوں ملے ہیں، اس کا راز:
میں نے اپنی ایک تقریر میں اس ہندو الفت وگاندھی رغبت کا راز بیان کیا تھا جسے بعض احباب نے تحریر میں لیا، اس کا اعادہ موجب افادہ۔ مسلمانوں کار ب جل وعلا فرماتاہے:
یایھاالذین اٰمنوا لاتتخذوابطانۃ من دونکم لایألونکم خبالا ودواماعنتم قد بدت البغضاء من افواھہم وما تخفی صدورھم اکبر قدبینا لکم الاٰیت ان کنتم تعقلون ۱؎۔
اے ایمان والو! کسی کافر کو اپنا ہم راز نہ بناؤ وہ تمھارے نقصان رسانی میں کمی نہ کریں گے، ان کی دلی تمناہے تمھارا مشقت میں پڑنا، دشمنی ان کے مونہوں سے کھل چکی ہے اور وہ جو ان کے سینوں میں دبی ہے بہت بڑی ہے بیشک ہم نے تمھیں صاف صاف نشانیاں بتادیں اگر عقل رکھتے ہو۔
(۱؎ القرآن الکریم ۳/ ۱۱۸)
قرآن عظیم گواہ ہے اور اس سے بہتر کون گواہ
ومن اصدق من اﷲ قیلا ۲؎
(اور اللہ سے زیادہ کس کی بات سچی ہے۔ ت)کہ مشرکین ہر گز ہماری خیرخواہی نہ کریں گے، خیر خواہی درکنار کبھی بدخواہی میں گئی نہ کریں گے، پھر انھیں یاروانصار بنانا ان سے وداد واتحاد منانا ان کے میل سے نفع کی امید رکھنا صراحۃً قرآن عظیم کی تکذیب ہے یانہیں ہے، اور ضرور ہے،
ولکن لاتبصرون ۳؎
(مگر تمھیں نگاہ نہیں۔ ت)
(۲؎ القرآن الکریم ۴/ ۱۲۲) (۳؎القرآن الکریم ۵۶/ ۸۵)
آؤ اب ہم تمھیں قرآن عظیم کی تصدیق دکھائیں اور ان کی طرف سے اس میل اورمَیل کا راز بتائیں، دشمن اپنے دشمن کے لئے تین باتیں چاہتاہے:
اول اس کی موت کہ جھگڑا ہی ختم ہو۔
دوم یہ نہ ہو تو اس کی جلاوطنی کہ اپنے پاس نہ رہے۔
سوم یہ بھی نہ ہو سکے تو اخیر درجہ اس کی بے پری کہ عاجز کررہے۔
مخالف نے یہ تینوں درجے ان پر طے کردئے اور ان کی آنکھیں نہیں کھلتیں خیرخواہی سمجھے جاتے ہیں
اولا جہاد کے اشارے ہوئے اس کا کھلا نتیجہ ہندوستان کے مسلمانوں کا فنا ہونا تھا، ثانیا جب یہ نہ بنی ہجرت کا بھرادیاکہ کسی طرح یہ دفع ہو ملک ہماری کبڈیاں کھیلنے کو رہ جائے یہ اپنی جائدادیں کوڑیوں کے مول ہمیں یایوں ہی چھوڑ جائیں، بہرحال ہمارے ہاتھ آئیں ان کی مساجد ومزارات اولیاء ہماری پامالی کو رہ جائیں، ثالثا جب یہ بھی نہ نبھی تو ترک موالات کا جھوٹا حیلہ کرکے ترک معاملت پر ابھارا ہے کہ نوکریاں چھوڑدو کسی کو نسل کمیٹی میں داخل نہ ہو، مالگزاری ٹیکس کچھ نہ دوخطابات واپس کردو امر اخیر تو صرف اس لئے ہے کہ ظاہری نام کام دنیوی اعزاز بھی کسی مسلمان کے لئے نہ رہے اور پہلے تین اس لئےکہ ہر صیغہ وہر محکمہ میں صرف ہنود رہ جائیں، جہاں ہنود کا غلبہ ہوتاہے حقوق اسلام پر جو گزرتی ہے ظاہر ہے، جب تنہاوہی رہ جائیں گے تو اس وقت کااندازہ کیا ہوسکتاہے، مالگزاری وغیرہ نہ دینے پر کیا انگریز چپ بیٹھے رہیں گے ؟ ہر گز نہیں ، قر قیاں ہو ں گی تعلیقےہوں گے ،جائدادیں نیلام ہوں گی اور ہندوخریدیں گے، نتیجہ یہ کہ مسلمان صرف قلی بن کر رہ جائیں، یہ تیسرا درجہ ہے، دیکھا تم نے قرآن عظیم کا ارشاد کہ ''وہ تمھاری بدخواہی میں گئی نہ کریں گے'' ان کی دلی تمنا ہے کہ تم مشقت میں پڑو والعیاذباﷲ تعالٰی
منکر پررد وانکار کس حالت میں فرض ہے اورکہاں اس کاحکم نہیں:
(۱۲) منکر کا ازالہ ضرور فرض ہے اپنے مراتب ثلاثہ پر جن میں تیسرا مرتبہ کہ تغییر بالقلب ہے یعنی دل سے اسے برا جاننا مطلقا ہرحال میں فرض عین ہے، او رپہلے دونوں بشرط قدرت علی الترتیب فرض کفایہ مگر دوسرا یعنی تغییر باللسان اس حالت میں ہر گز فرض نہیں کہ مرتکب اس کی شناعت سے خود آگاہ ہوجان بوجھ کر اس کا مرتکب ہواور امید واثق نہ ہو کہ منع کئے سے باز رہے گا ایسی حالت میں اس زبان یا قلم سے کہ وہ بھی ایک زبان ہے ردوانکار اصلا واجب نہیں رہتا خصوصا جبکہ مظنہ فتنہ وشورش ہو۔
فتاوٰی امام قاضی خاں وفتاوٰی عالمگیریہ میں ہے:
انما یجب الامر بالمعروف اذا علم انہم یستمعون ۱؎۔
امربالمعروف اسی وقت واجب ہے جب یہ جانے کہ وہ کان لگا کر سنیں گے۔
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ الباب السابع عشر فی الغناء واللہوا لخ نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۵۳)
نصاب الاحتساب میں ہے:
المقصودمنہ الائتمار فاذا فات ذٰلک لایجب ۲؎۔
امر بالمعروف سے مقصود تو یہ ہے کہ لوگ مانیں جب اس کی امید نہ ہو تو وہ واجب نہیں۔
(۲؎ نصاب الاحتساب )
بستان امام فقیہ ابواللیث ومحیط وہندیہ وغیرہما میں ہے:
ان کان یعلم باکبررأیہ انہ لو امر بالمعروف یقبلون ذٰلک منہ و یمتنعون عن المنکر فالامرواجب لایسعہ ترکہ ولوعلم باکبررأیہ انہ لو امرھم بذٰلک قذفوہ وشتموہ فترکہ افضل ولوعلم انہم لایقبلون منہ ولایخاف منہ ضربا ولاشتمافھو بالخیار والامر افضل ۱؎۔ (ملخصا)
اگر اپنے غالب گمان سے جانتا ہو کہ امر بالمعروف کرے گا تو یہ لوگ مان لیں گے اور بُری بات سےبازآئیں گے تو امر بالمعروف واجب ہے اسے چھوڑنے کی گنجائش نہیں اور اگر اپنے غالب گمان سے جانتاہو کہ امر بالمعروف کرے گا تو یہ لوگ پتھر پھینکیں گے گالی دیں گے تو اس وقت امربالمعروف نہ کرنا ہی افضل ہے اور اگر جانیں مانیں گے تو نہیں مگر ان سے گالی کابھی اندیشہ نہیں تواختیار ہے چاہے امر بالمعروف کرے یا نہ کرے اور کرنا بہترہے ۔
(۱؎ فتاوٰی ہندیۃ الباب السابع فی الغناء واللہوالخ نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۵۳۔ ۳۵۲)
وجیز امام کردری وعالمگیریہ میں ہے:ـ
اللحن حرام بلاخلاف فاذاقرأ بالالحان و سمعہ انسان ان علم انہ ان لقنہ الصواب لایدخل الوحشۃ یلقنہ وان دخلہ الوحشۃ فھو فی سعۃ ان لایلقنہ۔ فان کل امر بمعروف یتضمن منکر ایسقط وجوبہ ۲؎۔
قرآن عظیم کا غلط پڑھنا بالاتفاق حرام ہے تو اگر کوئی شخص غلط پڑھ رہا ہو اور دوسرا سنے اگر یہ سننے والا جانے کہ اسے صحیح بتاؤں گا تو اسے وحشت پیدا نہ ہوگی تو بتائے، اوراگر بتانے سے اسے وحشت پیدا ہوتو اسے گنجائش ہے کہ نہ بتائے کہ جو امربالمعروف کسی منکر کومتضمن ہو اس کا وجوب ساقط ہوجاتاہے۔
(۲؎فتاوٰی ہندیۃ کتاب الکراھیۃ الباب الرابع فی الصلوٰۃ الخ نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۱۷)
مثلا کوئی مسلمان نہیں جانتا کہ ناحق قتل یاغارت مسلم حرام وموجب عذاب نار ہے، کون نہیں جانتاکہ اس میں کسی طرح کی اعانت مطلقا حرام ومستوجب غضب جبارہے، کون نہیں جانتاکہ زناحرام ہے، کون نہیں جانتا کہ شراب پینا سخت خبیث کام ہے اور ہزاروں لاکھوں اس کے مرتکب ہیں،پھر کبھی نہ سنا ہوگا کہ علماء یاا ن کی تحریریں ہر چکلے ہر بھٹی کاگشت کریں اصلا ہر گز تمام جہان میں کوئی عالم بلکہ کوئی عاقل اس کا قائل نہیں، اورخود ان لیڈروں میں جو جامہ مولویت میں ہیں وہ بھی اس کے عامل نہیں، آخریہ اس لئے کہ وہ لوگ دانستہ مرتکب ہیں، اور مظنون نہیں کہ منع سے مانیں بلکہ شورش و شرکا احتمال بیشتر کا ایسی جگہ جب تغییر بالید مقدور نہیں تغییر باللسان کچھ ضرور نہیں، غیر ضروری اور اس پر طرہ یہ کہ نامفید ایسا شور مچانا اور بلاوجہ شرعی شورشوں کے لئے مفید سپر ہوجانا کون سی شریعت نے واجب مانا، ایسے ہی مواقع کے لئے ارشاد الہٰی ہے:
یایھاالذین اٰمنوا علیکم انفسکم لایضرکم من ضل اذا اھدیتم ۱؎۔
اسے ایمان والو! تم اپنے آپ کو سنھبالے رہو دوسروں کا گمراہ ہونا تمھیں نقصان نہ دے گا جب تم راہ پر ہو۔
(۱؎ القرآن الکریم ۵/ ۱۰۵)
ہاں اگر کسی منکر شرعی پر گمراہان گمراہ گرفرقہ بندی کریں اوراسے بزور زبان وزور وبہتان معروف شرعی کاجامہ پہنائیں اور اس کےلئے آیات واحادیث واقوال ائمہ کی تحریف وتصحیف منائیں احکام الہٰیہ کو کایا پلٹ کرکے حرام کو حلال حلال کو حرام دکھائیں، جیسا اب گاندھی مت اور گاندھوی امت مسائل موالات مشرکین، ومعاہدہ مشرکین واستعانت مشرکین،ودخول مشرکین فی المساجد وغیرہا میں کررہی ہے، تو اس وقت ان منکرات کبرٰی وواہیات عظمٰی کا ازالہ فرض اعظم ہوگا،
خطیب بغدادی جامع میں راوی رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اذا ظھرت الفتن اوقال البدع فلیظھر العالم علمہ ومن لم یفعل ذٰلک فعلیہ لعنۃ اﷲ والملئکۃ والناس اجمعین۔ لایقبل اﷲ منہ صرفا ولاعدلا ۲؎۔
جب فتنے یا فرمایا بدمذہبیاں ظاہر ہوں تو فرض ہے کہ عالم اپنا علم ظاہر کرے اور جو ایسا نہ کرے اس پر اللہ اور فرشتوں اورآدمیوں سب کی لعنت، اللہ نہ اس کافرض قبول کرے نہ نفل۔