شریعت کے ساتھ لیڈروں کی حالت:
مسلمانو! تم نے دیکھا یہ حالت ہے ان لیڈر بننے والوں کے دین کی، کیسا کیسا شریعت کو بدلتے مسلتے، پاؤں کے نیچے کچلتے، اورخیر خواہ اسلام بن کر مسلمانوں کو چھلتے ہیں، موالات مشرکین ایک، معاہدہ مشرکین دو، استعانت بمشرکین تین، مسجد میں اعلائے مشرکین چار، ان سب میں بلا مبالغہ یقینا قطعا لیڈروں نے خنزیر کو دنبے کی کھال پہناکر حلال کیا ہے، دین الہٰی کوپائمال کیا ہے، اورپھر لیڈر ہیں، ریفامر ہیں،مسلمانوں کے بڑے راہبر ہیں، جو ان کی ہاں میں ہاں نہ ملائے مسلمان ہی نہیں، جب تک اسلام کو کندچھری سے ذبح نہ کرے ایمان ہی نہیں۔
رب اعوذبک من ھمزٰت الشیطین o واعوذبک رب ان یحضرون ۱؎
اے میرے رب تیری پناہ شیاطین کے وسوسوں سے، اور اے میرے رب تیری پناہ کہ وہ میرے پاس آئیں۔
(۱؎ القرآن الکریم ۲۳/ ۹۷ و ۹۸)
آہ آہ آہ انا ﷲ وانا الیہ راجعون o ع
اند کے پیش تو گفتم دل ترسیدم کہ دل آزردہ شوی ورنہ سخن بسیار ست
(آپ کے سامنے تھوڑا سا غم دل پیش کیا ہے، مجھے ڈر ہے کہ آپ کادل آزردہ ہوگا ورنہ باتیں بہت ہیں۔ ت)
ضروری عرض واجب اللحاظ:
میں جانتاہوں کہ میرا کلام انھیں برالگے گااور حسب معمول تحقیق حق واظہار احکام رب الانام کانام گالیاں رکھاجائیگا ہمیشہ عاجزوں نے اپنا عجز یونہی چھپایا ہے احکام حق کو سختی بتاکر گالیاں ٹھہراکر جواب سے گریز کاحیلہ بنایا ہے لہذا دست بستہ معروض کہ تھوڑی دیر نیچری تہذیب سے تنزل فرماکروہ آیتیں کہ شروع فتوٰی میں تلاوت ہوئیں ان پر ایمان لاکر ان مباحث علمیہ واحکام الہٰیہ کو بغور سن لیجئے اگر بفرض باطل ہماری غلط فہمی ہے حق وانصاف سے بتادیجئے ہمیں بحمداللہ ہر گز وہ نہ پائے گا جو سمجھ لینے کے بعد باطل پر اصرار حق سے انکار نا ر پر عار اختیار کررہے ہیں، اوراگر سمجھ جاؤسمجھ کیا جاؤ گے تمھارے سمجھ وال سمجھ رہے ہیں کہ دیدہ ودانستہ حق سے الجھ رہے ہیں یہ حرام کو حلال، حلا ل کوحرام کاجامع پہنایا، اسلام کو کفر، کفر کو اسلام بناکر دکھایا ہے تو ماننے نہ ماننے کاتمھیں اختیار ہے اور جزاء وحساب وکشف حجاب روز شمار۔
یوم تبلی السرائر فمالہ من قوۃ ولاناصر ۱؎۔
جس دن سب چھپی باتیں جانچ میں آئیں گی تو آدمی کو نہ کچھ زورہوگا نہ کوئی مددگار۔
(۱؎ القرآن الکریم ۸۶/ ۹ و ۱۰)
ترک معاملت پر ایک نظر :
(۱۱) حضرات لیاڈر نے مسئلہ موالات میں سب سے بڑھ کر اودھم مچائی اوروں میں افراط یا تفریط ایک ہی پہلو پر گئے،اس میں دونوں کی رنگت رچائی، افراط وہ کہ نصارٰی سے نری معاملت بھی حرام قطعی، اور تفریط یہ کہ ہندوؤں سے اتحاد بلکہ ان کی غلامی فرض شرعی،پھر بھی ان کے اس افراط وتفریط میں اتنا فرق ہے کہ دوم نے بذاتہٖ دین کو برباد کردیا، اور اول پر عمل میں فی نفسہٖ ضرر اسلام نہ تھا، مباح کوکوئی حرام جان کر چھوڑے تو اس چھوڑ نے میں حرج نہیں کہ مباح ہی تھا نہ کہ واجب، ضلالت ہے اس اعتقاد تحریم میں، لیکن حرام قطعی فرض منانا ایمان وعمل دونوں کا تباہ کن ہوا اور اپنے ہر پہلو سے اسلام کا بربادکرنے والا، لہذا اول سے بحث ضرور نہ تھی حکم بتادیا معاندوں کا عناد ان کے ساتھ ہے لیکن عملی حیثیت سے بھی اس خصوص میں مسلمانو ں کو بہت ضرر پہنچتے دکھائی دیتے ہیں سخت مشکلات کا سامنا ہے جن کاحل ان بزعم خود گہری نگاہ والے انجام شناس لیا ڈر الناس نے کچھ سوچ رکھا ہوگا، نظر بعادات و حالات کسی طرح عقل باور نہیں کرتی کہ ان کی چیخ پکار سے تمام ہندو سند وبنگال وبرہما وافریقہ و جاوہ حتی کہ عدن تک کے مسلمان سب نوکریاں،ملازمتیں، زمینداریاں، تجارتیں یکلخت چھوڑدیں، یہ شورشیں تو دو دن سے ہیں صدہا (عہ) حرام نوکریاں پہلے ہی سے کررہے ہیں وہ تو چھوڑیں نہیں مباح نوکریاں اور حلال تجارتیں، زمینداریاں کس طرح چھوڑدیں گے،
عہ: مثلا حظر کی نوکری اعلاء کلمۃ اللہ کے سو ا کسی مسلمان بادشاہ کی بھی جائز نہیں، یونہی خلاف ماانزل اللہ حکم کرنے کی، یونہی جس میں سودکالینا دینا یاحساب کرناہو یا دستاویز سود کا کاتب یا شاہد بننا پڑے، بالجملہ حرام کام یا خود اعانت حرام کی ملازمت کی کہ اسلامی سلطنت وریاست کی بھی حرام ہے اور بلا ملازمت ایسے کاموں کا انجام دینا اور زیادہ شرع پر اُجرت،یہی حال کالجوں کی ملازمت اور ان کے تعلیم و تعلم کاہے، جہاں تعلیم مخالف شرع واسلام ہواگرچہ اسلامی کہلائے تعلم حرام، اور اس کی کسی طرح امداد حرام مگر جو دین رکھنے والا تعلیم دینیات پر یوں رہے کہ طلبہ کے عقائد کی حفاظت کرے ضلالتوں کا بطلان انھیں بتایا کرے وہ بازار میں ذکر الہٰی کرنے والے سے بھی زائد ہوگا جسے حدیث نے فرمایا مردوں میں زندوں کی طرح ہے۔
ان جلسوں ہنگاموں، تبلیغوں کہراموں سے اگر سو دو سو نے نوکریاں یا دس بیس نے تجارتیں یا دو ایک نے زمینداریاں چھوڑ بھی دیں تو اس سے تُرکوں (عہ۱) کا کیا فائدہ یا انگریزوں کا کیانقصان، غریب نادار مسلمان کی کمائی کا ہزار ہا روپیہ ان تبلیغوں میں برباد جارہا ہے اور جائے گا اور محض بیکار و نامراد جارہا ہے اور جائے گا، ہاں لیڈروں مبلغوں کی سیر وسیاحت کے سفرخرچ اور جلسہ واقامت کے پلاؤ قورمے سیدھے ہوگئے اور ہوں گے، اگر یہ فائدہ ہے تو ضرور نقد وقت ہے اور سیر یورپ کے حساب کا راز تو روزحساب ہی کھلے گا،
یوم تبلی السرائر o فمالہ من قوۃ ولاناصر ۱؎ o
(جس دن سب چھپی باتیں جانچ میں آئیں گی توآدمی کونہ کچھ زورہوگا نہ کوئی مددگار۔ ت) کیا لیڈر صاحبان فہرست دکھائیں گے کہ ان برسوں کی مدت اور لاکھوں روپے کی اضاعت میں اتنا فائدہ مرتب ہوا، اتنوں نے نوکریاں چھوڑیں اتنوں نے تجارتیں اتنوں نے زمینداریاں۔
(۱؎ القرآن الکریم ۸۶/ ۱۰۔ ۹)
عہ۱: تنبیہ، تنبیہ، تنبیہ: مسلمانو! ترکوں کی حمایت اماکن مقدسہ کی حفاظت سلطنت اسلامی کی اعانت یہ سب دکھانے کے دانت تھے کہ کسی طرح مسلمانوں میں اشتعال ہو لاکھوں روپے کاچندہ ہاتھ آئے ورنہ بڑے ساعی لیڈروں علی برادروں سے صاف منقول ہواکہ ''مسئلہ خلافت اب طے کررکھو، ہندوستان کی آزادی کی فکر کروہم ہندو قوم پرست ہیں ہمارا فرض ہے کہ اگر ترکی بھی ہندوستان پرچڑھائی کرے توہم ان کے خلاف تلوار اُٹھائیں ہمارانصب العین سلطنت کی خود اختیاری حاصل کرنا ہے ترک موالات اس کا ذریعہ ہے'' ابوالکلام آزاد سے منقو ل ہوا: ''لڑائی ہندوستان کو خود اختیاری حکومت دلانے کے لئے ہے اگرخلافت کا خاطر خواہ فیصلہ ہو بھی جائے تاہم ہماری جدوجہد جاری رہے گی اس وقت تک کہ ہم گنگا وجمنا کی مقدس زمین کو آزاد نہ کرالیں'' مسلمانو! اب بھی تمہاری آنکھیں نہ کھلیں اور خلافت واماکن مقدسہ کے حیلہ پرفریب کھاتے رہو تو خدا حافظ، حشمت علی عفی عنہ
اخبارات ومطابع کیوں نہیں بند کرتے:
طرفہ یہ کہ ان کے خون گرم حامی ہمدم و محرم (عہ۲) اخبارات اس ترک تعاون پر بڑے بڑے زورلگارہے ہیں خود اپنے اخبارات ومطابع کیوں نہیں بند کرتے، ان صیغوں کو توانگریزون سے جو گہرے تعلقات ہیں دوسرے صیغوں کو کم ہوں گے کیا اوروں کے لئے شوروفغاں اور اپنے لئے نوشجاں،
عہ۲: خصوصا روزنامہ ہمدم لکھنؤ جس کے ہر پرچہ کی پیشانی پر یہ ساقط الوزن رباعی لکھی ہوتی ہے،
پابند اگرچہ اپنی خواہش کے رہو حامی نہ کسی خراب سازش کے رہو
قانون سے فائدہ اٹھاناہے اگر لائل سبجکٹ تم برٹش کے رہو
اتباع ہوا کی اجازت دی جو اللہ کی راہ سے گمراہ کرنے والی ہے، قال تعالٰی: ولاتتبع الھوی فیضلک عن سبیل اﷲ ۲؎
اپنی خواہش کا پابند نہ ہو کہ وہ تجھے اللہ کی راہ سے گمراہ کردے گی، خیر گمراہی تو ان صاحبوں کے یہاں بہت آسان بلکہ محبوب تر چیز ہے، مگر پچھلے مصرع پراپنے لیڈروں اور کمیٹی کا فتوٰی لیں جس میں کہا کہ انگریزوں کے وفا دار، ان کے حکم کے نیچے چلنے والے رہوا ور اتنی تاکید ہے کہ ہر پیشانی پر اسی کی تجدید ہے اس سے مقاطعہ کیوں نہ فرض ہوا، اسے پارٹی بلکہ اسلام سے کیوں نہ خارج کیا، ہاں شاید ساقط الوزن کرنے میں اس نے اپنے لئے کچھ رات لگارکھی ہو یعنی انگریزوں کے دکھانے کو اس طرح ہو اورلیڈروں کے سنانے کو یہ کہ آپ دیکھتے نہیں اس میں وزن ہی کہاں ہے یوں ہے: ع
لائل سبجکٹ تم نہ برٹش کے رہو حشمت علی عفی عنہ
(۲؎ القرآن الکریم ۳۸/ ۲۶)
لیڈران اوروں کو ترک تعاون کی طرف بُلاتے ہیں اور خود ان کا عمل اس کے خلاف ہے:
اور ایک اخباری ومطابعی کیا کریں گے بڑے بڑے لیڈر بننے والے اسی مرض میں گرفتار ہیں
دیگراں رانصیحت خود رافضیحت ع
حیرتے دارم زدانشمند مجلس بازپرس توبہ فرمایا چراخود توبہ کمتر مے کنند
(مجھے حیرت ہے، مجلس کے دانشمند سے پھر پوچھو تو بہ کا مشورہ دینے والے خود بہت کم تو بہ کرتے ہیں۔ ت)
ہجرت کا غل مچایا اور اپنے آپ ایک نہ سرکا جو اُبھارنے میں آگئے ان مصیبت زدوں پر جو گزری سو گزری یہ سب اپنے جو روبچوں میں چین سے رہے، ہرا لگانہ پھٹکری، اور ترک تعاون میں بھی کیا کسی لیڈر یا مبلغ کے پاس زمینداری یا کسی قسم کی تجارت نہیں۔ نہ ان کا کوئی انگریزی یا ریاست میں ملازم ہے پھر انھیں کیوں نہیں چھوڑتے، کیا واحد قہار نے نہ فرمایا:
لم تقولون مالا تفعلون o کبر مقتا عند اﷲ ان تقولوا مالا تفعلون ۱؎ o
(۱؎ القرآن الکریم ۶۱/ ۲، ۳)
کیوں کہتے ہو وہ جو نہیں کرتے، کیسی سخت ناپسند ہے اللہ کو وہ بات کہ وہ کہوجو نہ کرو۔
کیا خدا کاسخت دشمن بننا آسان سمجھا ہے کیا تمھارے یہاں سے نہ چھپا (عہ)کہ ''اگرکسی مسلمان رئیس نے دباؤ یا خوشامد سے کوئی ایسی کارروائی کی جس سے ثابت ہو کہ وہ دشمنان اسلام کا ساتھ دیتے ہیں تو فورا ان کا شمار مرتدین میں ہوگا اور مرتد کی سزا اسلام کے آئین میں کیا ہے ہر شخص کومعلوم ہے'' کیا کوئی ریاست آپ کے نزدیک اسی سے بری ہے کیا اس میں سب سے پیش قدم سلطنت علیہ دکن نہیں، کیا اس کے احکام اور چھپے ہوئے فرمان ملاحظہ نہ ہوئے، کیا آپ کے لیڈٖروں میں اسی کے وظیفہ خوار نہیں، کیا مدخیرات سے گیارہ گیارہ روپے یومیہ پانے والوں نے اپنا یومیہ بندکرالیا، کیا جسے اوروں کے لئے حرام بتاتے ہو آپ خوشی سے کھاتے ہو۔
عہ: دیکھو تقریر صدارت شیخ مشیر حسن قدوائی بیرسٹرایٹ لاء تعلقدار گدیا مطبوعہ لکھنؤ ص ۴۹ یہ بھی مولوی عبدالباری صاحب فرنگی محلی کے ان مسائل میں امام ومتبوع ہیں، دیکھو خطبہ صدارت مولوی عبدالباری مطبوعہ لکھنؤ ص ۱۰ ''میں ان مسائل میں کبھی مشیر حسن صاحب کے خلاف مشورہ نہیں کرتا'' آپ بیرسٹر بھی ہیں اور تعلقدار بھی، بھلا انگریزوں سے آپ کو کیا تعلق لہذا صرف اسلامی ریاستوں کو مرتد فرمایا۔ حشمت علی لکھنوی عفی عنہ
لیڈروں پر لیڈروں سے مقاطعہ فرض ہے:
بلاپس ہوان کے منہ لگا حرام ان سے نہ چھوٹا، اورلیڈروں کا منہ کس نے بند کیا ان پر ان لیڈروں سے مقاطعہ واجب تھا یا قرآن مجید بدل کر جو احکام دل سے گھڑے ہیں وہ کس طرح لیڈروں کے لگ بھگ نہیں اوروں کے سر پڑے ہیں یہ قانون کے مستثنیات عامہ ہیں، اور جب لیڈر خودہی اپنے کہے پر عامل نہیں تو ان کی چیخ وپکار اوروں سے کیا عمل کرائے گی
ع اوخویشتن گم ست کرارہبری کند
(وہ تو خود گم ہے کس کی کیار ہبری کرے۔ ت)
مانا کہ تم میں وہ بھی ہوں جوان تینوں علتوں سے بری ہیں، نہ زمینداری نہ تجارت نہ اجازت کہ مالگزاری یا ابواب یا ٹیکس یا چنگی دینی پڑے اور انگریزوں سے تعلق تعاون پیداہوکر حرمت قطعیہ کا حکم جڑے، فرض کردم کہ خود اس سے پاک ہیں نرے مفلس محتاج بے نواز ہیں پھر یہاں تو عام ذرائع رزق یہی ہیں، کیمیا تو نہ بناتے ہوں گے، اوروں کے سرکھاتے ہوں گے، ان کا مال انھیں وجوہ سے ہوگا جو تمھارے نزدیک علی الاطلاق حرام ہے، تو حرام ہی کھایا یاحرام ہی کمایا۔ ہر طرح گرفتارحرام ہی رہے، نجات کی صورت بتائے پھر ترک معاملت کی فرضیت گائے، اور یہ روپیہ کہ ان جلسوں میں صرف کررہے ہو یہ بھی تو اس حرام کاہے، سچ کہنا کیا دل میں سمجھ لئے ہو اگرچہ زبان سے نہ کہو کہ ع
مال حرام بود بجائے حرام رفت
اورریل تار، ڈاک کیا انگریزوں سے معاملت نہیں اس میں تو سب چھوٹے بڑے مبتلا ہو اگر کہو انھیں سہولت کے لئے رکھ چھوڑاہے تو اعلان کردو کہ ہمارے یہاں سہولت کے لئے حرام روا ہے، اگر کہو کہ زمینداری وتجارت چھوڑیں تو کھائیں کیا، تو ملازم اگر ملازمتیں چھوڑیں توکھائیں کیا، جو جواب تمھارا ہے وہ سب کا ہے، غرض یہ نہ چلی نہ چل سکتی ہے، نہ تم نے خود اس پرعمل کیا، نہ کرسکتے ہو، اس کی پوری تصویر یہی ہے کہ ع
وہ کرتے ہیں اب جو نہ کیا تھا نہ کریں گے
پھر بے معنی چیخ وپکار سے کیاحاصل سوا اس کے کہ ع