Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۴(کتاب السیر)
111 - 150
لیڈران کی بہی خواہی اسلام:

رابعا یہ نہ سہی اختلاف احوال زمانہ وعادات قوم کو ہمیشہ مسائل تعظیم وتوہین میں دخل تام ہے پھر غیر اسلامی سلطنت اور کافروں کی کثرت میں اس کی اجازت اوراس کی اشاعت اور مساجد کو پامالی کفار کے لئے وقف کرنا کس قدر بہی خواہی اسلام ہے ع
اے راہ روپشت بمنزل ہشدار
 (اے منزل کی طرف پشت کرکے چلنے والے! ہوش کر۔ ت)

لیڈران کی اسلامی غیرت:

خامسا واقعی بندگی بیچارگی جب ہندوؤں کی غلامی ٹھہری پھر کہاں کی غیرت اور کہاں کی خودداری، وہ تمھیں ملیچھ جانیں، بھنگی مانیں، تمھارا پاک ہاتھ جس چیز کو لگ جائے گندی ہوجائے سودا بیچیں تو دو رسے ہاتھ میں ڈال دیں، پیسے لیں تو دور سے، یاپنکھا وغیرہ پیش کرکے اس پر رکھوا لیں حلانکہ بحکم قرآن خود وہی نجس ہیں اور تم ان نجسوں کو مقدس مطہربیت اللہ میں لے جاؤ جو تمھارے ماتھا رکھنے کی جگہ ہے وہاں ان کے گندے پاؤں  رکھواؤ تم کو اسلامی حس ہی نہ رہامحبت مشرکین نے اندھا بہرا کردیا۔
لیڈران محض اغواکے لئے مسئلہ دخول مساجد کا نام لیتے ہیں انھوں نے جوکیا بالاجماع حرام قطعی ہے:
سادسا ان باتوں کا ان سے کیا کہنا جس پر
حبک الشیئ یعمی ویصم ۱؎
(تیرا کسی چیز سے محبت کرنااندھا اوربہرکردیتا ہے) کارنگ پھر گیا سب جانے دو خدا کو بھی منہ دکھانا ہے یاہمیشہ مشرکین ہی کی چھاؤں میں رہنا ہے جواز تھا تو یوں کوئی کافر دبالچا،ذلیل وخوار مثلا اسلام لانے یا اسلامی تبلیغ سننے یا اسلامی حکم لینے کے لئے مسجدمیں آئے یا اس کی اجازت تھی کہ خود سرمشرکوں نجس پرستوں کو مسلمانوں کو واعظ بناکر مسجد میں لے جاؤ اسے مسند مصطفی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر بٹھاؤ مسلمانوں کو نیچا کھڑا کرکے اس کا واعظ بناؤ، کیا اس کے جواز کی کوئی حدیث یاکوئی فقہی روایت تمھیں مل سکتی ہے حاشا ثم حاشا للہ انصاف ! کیا یہ اللہ ورسول سے آگے بڑھنا شرع مطہر پر افتراء گھڑنا احکام الہٰی دانستہ بدلنا سؤرکو بکری بتاکر نگلنا نہ ہوگا۔
 (۱؎ مسند احمد بن حنبل    حدیث ابی الدرداء رضی اللہ تعالی عنہ    دارالفکربیروت    ۵/ ۱۹۴)
ابونعیم حلیۃ الاولیاء میں جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہماسے روایت کرتے ہیں:

نھی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ان یصافح المشرکون اویکنوا اویرجب بہم ۲؎۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ مشرکوں سے مصافحہ کیا جائے یا انھیں کنیت سے یادکریں یاآتے وقت مرحبا کہیں۔
(۲؎ حلیۃ الاولیاء    ترجمہ ۴۴۶ اسحٰق بن ابراہیم الحنظلی   دارالفکربیروت    ۹/ ۲۳۶)
یہ ادنٰی درجہ تکریم کا ہے کہ نام لے کر نہ پکارا، فلاں کا باپ کہا یاآتے وقت جگہ دینے کو آئیے کہا اللہ اکبر حدیث اس سے بھی منع فرماتی ہے اورائمہ دین ذمی کافر کی نسبت وہ احکام تحقیر وتذلیل فرماچکے جن کا نمونہ ابھی گزرا کہ اسے محرر بنانا حرام کوئی کام ایسا سپرد کرنا جس سے مسلمانوں میں اس کی بڑائی ہو حرام اس کی تعظیم حرام، مسلمان کھڑا ہو تو اسے بیٹھنے کی اجازت نہیں، بیماری وغیرہ ناچاری کے باعث سواری پر ہو تو جہاں مسلمانوں کا مجمع آئے فورا اترپڑے۔

بدایونی لیڈر بننے والے اپنے حق میں احکام ائمہ کرام دیکھیں:

حتی کہ فتاوٰی ظہیریہ و اشباہ والنظائر وتنویر الابصار ودرمختار وغیرہامعتمدات اسفار میں ہے:
لو سلم علی الذمی تبجیلا یکفرلان تبجیل الکافر کفر ۱؎۔
اگرذمی کو تعظیما سلام کرے کافرہوجائے گا کہ کافر کی تعظیم کفرہے۔
 (۱؎ الدرالمختار        کتاب الحظروالاباحۃفصل فی البیع    مطبع مجتبائی دہلی    ۲/ ۲۵۱)
فتاوٰی امام ظہیر الدین واشباہ درمختار وغیرہا میں ہے:
لوقال لمجوسی یااستاذ تبجیلا کفر ۲؎۔
اگرمجوسی کو بطور تعظیم ''اے استاد'' کہا کافر ہوگیا۔
 (۲؎ الدرالمختار        کتاب الحظروالاباحۃفصل فی البیع    مطبع مجتبائی دہلی    ۲/ ۲۵۱)
اوریہاں حربی مشرک کی یہ کچھ تعظیم یہ کچھ مسلمانوں پر اس کی رفعت وتقدیم ہورہی ہے اور پھر کفر بالائے طاق ان کے جواز کو بھی ٹھیس نہیں لگتی، اس حرام قطعی کو حلال کی کھال پہنا کر فتوے اور رسالے لکھے جارہے ہیں، مجوسی کوتعظیما زبان سے استاد کہہ دینے والا کافرہو لیکن مشرک بت  پرست کو اسٹیج پر کھڑے ہو کر کہنے والا ''کہ خدانے ان(عہ) کو مذکر بنا کر تمھارے پاس بھیجا ہے'' گاندھی کو پیشوا نہیں بلکہ قدرت نے تم کو سبق پڑھانے والا مد بر بناکر بھیجا ہے ٹھیٹ مسلمان بنارہے ہیں سبق پڑھانے والا اور سبق بھی کسی دنیوی حرفت کا نہیں بلکہ صاف کہاکہ تمھارا فرض دینی یاد دلانے کو تو استاذ نے علم دین بتایا اور علم دین بھی کسی مستحب وغیرہ کا نہیں بلکہ خاص فرض دینی کا معلم استاذ بنایا اور کسی کے سر میں دماغ اوردماغ میں عقل۔ پہلو میں دل اور دل میں اسلام کی قدرہو تو وہ ان لفظوں کو دیکھے کہ ''خدا نے ان کو مذکر بناکرتمھارے پاس بھیجا ہے'' خدا لگتی کہنا یہ رسالت ٭٭٭سے کے سیڑھی نیچے رہا ان لیڈربننے والوں کااسلام کیا ہے؟ ع
چوں وضوے محکم بی بی تمیز
 (یہی جیسے بی بی تمیز کا محکم وضو ہو۔ ت)

کہ کس طرح ٹوٹنا کیا اس میں دراڑ تک نہ پڑتی
وسیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ۳؎ o
 (اب جانا چاہتے ہیں ظالم کہ کس کروٹ پلٹا کھائیں گے۔ ت)
 (۳؎ القرآن الکریم                   ۲۶/ ۲۲۷)
عہ: دیکھو اخبار فتح دہلی جلد ۲ نمبر ۲۴۲ جلسہ جمعیۃ العلماء ہند میں مولانا عبدالماجد بدایونی کی تقریر ص ۴ کالم اول ۱۲ حشمت علی
دربارہ مساجد لیڈران کاپیش کردہ شاہجہانپوری فتوٰی خودانھیں پر رد ہے:

سابعا ائمہ دین نے صاف تصریحیں فرمائیں کہ کافر کا بطور استعلاء مسجد میں جانا مطلقا حرام ہے، ہدایہ میں ہے:
الاٰیۃ محمولۃ علی الحضور استیلاء واستعلاء ۱؎۔
آیت اس پر محمول کی گئی ہے کہ وہ غلبہ وبلندی کے طوپر نہ آئیں۔
 (۱؎ الہدایہ    کتاب الکراھیۃ مسائل متفرقۃ    مطبع یوسفی لکھنؤ    الجزء الرابع /۴۷۲)
کافی امام نسفی میں ہے:
الاٰیۃ محمولۃ علی منعہم ان یدخلوھا مستولین وعلی اھل اسلام مستعلین ۲؎۔
آیت کے یہ معنی قرار دئیے گئے ہیں کہ ان کے ایسے آنے سے منع کیا جاتا ہے کہ بطور غلبہ آئیں اور مسلمانوں پر بلند ہوں۔
 (۲؎ کافی امام النسفی)
مگر ہدایہ وکافی کا ان لوگوں کے سامنے ذکر کیا جو قرآن عظیم کے نصوص قاہرہ نہیں سنتے، ہاں یہ کہئے کہ اگر حق مانیں تولیڈران کی خوبی قسمت ورنہ سخت نصیبوں کی شامت کہ خود لیڈری شائع کردہ فتوے نے بحوالہ ردالمحتار یہی عبارت ہدایہ نقل کردی کہ قرآن عظیم نے مشرک کا بطور استعلاء مسجد میں آناحرام فرمایا ہے، ہمارے دوست مفتی صاحب نے یہ دوسرا متلمس کا صحیفہ مروانی خط کی طرح ان کے ہاتھ میں دے دیا، مروانی خط ان کے ہاتھ تھا اور متلمس کا صحیفہ بند، ان کے ہاتھ میں کھلا ہوافتوی دے دیا اور ان کو اپنی موت نہ سوجھی اسے شائع کراتے عوام کو بہلاتے بھلاتے ہیں۔

مفتی کو ہدایت:

ہاں اتنی شکایت دوستانہ مفتی صاحب سے بھی ہے کہ ذمی کا حکم حربیوں یا کتابی یا مشرکوں پر ڈھالنا درکنار صورت استعلاء اگرمعلوم تھی کہ طشت از بام ہے تو اسے جانتے ہوئے باطل پرستوں کے ہاتھ میں فتوٰی دینا نہ چاہئے تھا جس سے وہ عوام کوبہکائیں اوراپنے حرام قطعی بلکہ اس سے بھی اشد کوحلال کردکھلائیں، پھر عجب یہ کہ بیان حکم میں عدم استعلاء کی قید رہ جانے نے مطلقا جواز کی سنائی اگرچہ عبارت کتاب سے اطلاق پر آئی کتاب کی عربی عبارت عوام کیا سمجھیں انھیں گمراہ کرلینے کی لیڈروں نے راہ پائی نسأل اﷲ العفووالعافیۃ ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ۔
Flag Counter