Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۴(کتاب السیر)
110 - 150
 اقول مستامن کے لئے خود قرآن عظیم سے اشارہ نکال سکتے ہیں کہ:
ان احدمن المشرکین استجارک فاجرہ حتی یسمع کلام اﷲ ثم ابلغہ مأمنہ ۲؎۔
اے محبوب! اگر کوئی مشرک تم سے پناہ چاہے تو اسے پناہ دو کہ اللہ کاکلام سنے پھر اسے اس کی امن کی جگہ پہنچادو۔
 (۲؎ القرآن الکریم          ۹/ ۶)
حضور انور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے لئے کوئی مجلس نہ تھی سوامسجد کریم کے ولہذا وفود یہیں حاضر ہوتے اور اس میں متون کا خلاف نہیں، ہدایہ سے گزرا کہ مستامن جب تک دارالاسلام میں ہے بمنزلہ ذمی ہے ذمہ مؤیدہ وموقتہ دونوں طرح ہوتے ہیں، کافی امام نسفی فصل امان میں ہے:
المراد بالذمۃ العہد مؤقتا کان اومؤبدا وذٰلک الامان وعقد الذمۃ ۳؎۔
ذمہ سے عہد مراد ہے ایک میعادمعین تک ہو یاہمیشہ کے لئے، یہ امان وعقدذمہ ہے۔
(۳؎ کافی للنسفی)
یہی کہہ سکتے ہیں کہ ذمی وحربی برابر ہیں یعنی مستامن کہ اس کے لئے بھی ایک وقت تک ذمہ ہے بالجملہ جوازخاص ذمی کے لئے تھا اوریہ حربی لے دوڑے۔

ثانیا یہاں بھی امام بدرالدین محمود عینی وغیرہ اکابر کی روایت یہ ہے کہ ہمارے امام مذہب سیدنا امام اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کے مذہب میں ذمیوں میں جواز صرف کتابی کے لئے ہے یہ مشرک حربی لے دوڑے۔

 عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری میں ہے:
قال ابوحنیفۃ یجوز الکتابی دون غیرہ واحتج بمارواہ احمد فی مسندہ بسند (عہ) جیدعن جابررضی اﷲ تعالٰی عنہ قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لایدخل مسجدنا ھذا بعد عامنا ھذا مشرک الااھل العہد وخدمہم ۱؎۔
امام ابوحنیفہ نے فرمایامسجد میں کتابی (ذمی) کا آنا جائزہے اور کفار کا نہیں اور امام اس پر اس حدیث سے سند لائے جو امام احمد نے اپنی مسند میں کھری اسناد کے ساتھ جابررضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا اس سال کے بعد ہماری اس مسجد میں کوئی مشرک نہ آنے پائے سوائے ذمیوں اور ان کے غلاموں کے۔
 (۱؎ عمدۃ القاری        باب الاغتسال اذا أسلم    ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت    ۴/ ۲۳۷)
عہ: قول الامام العینی بسند جید اقول ای علی اصولنا و مالنا ان نترک اصولنا الی اصول المحدثین فضلاعن قول عالم متاخر شافعی فلا علیک مما فی التقریب وذٰلک ان مخرجہ اشعث بن سوار عن الحسن عن جابر رضی اﷲ تعالٰی عنہ واشعث من شیوخ شعبۃ والثوری ویزید بن ھارون وغیرھم من الاجلاء وانتفاء شعبۃ فی من یأخذ منہ معلوم قال الذھبی وحدث من اشعث لجلالتہ من شیوخ ابواسحٰق السبیعی ۱؎ اھ
امام عینی کا قول جید سندسے اقول (میں کہتاہوں) کہ یہ سند ہمارے قاعدہ پر جید ہے اور ہم محدثین کے اصول کی خاطر اپنے اصول نہ چھوڑیں گے چہ جائیکہ ایک متاخر شافعی عالم کے قول کی خاطر چھوڑیں تو تقریب میں مذکور بیان تمھارے خلاف نہیں ہے یہ اس لئے کہ حضرت جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے بواسطہ حسن اس حدیث کی تخریج کرنے والے اشعث بن سوارہیں جبکہ اشعث، شعبہ، ثوری، یزید بن ہارون وغیرہم کے اکابرشیوخ میں سے ہیں اور شعبہ کا انتخاب ان میں جن سے اس نے روایت کی ہے وہ معروف ہے ذہبی نے کہا اشعث کی جلالت شان کی وجہ سے اس کے شیوخ میں سے ابو اسحٰق سبیعی نے اس سے حدیث روایت کی ہے اھ
 (۱؎ میزان الاعتدال للذھبی    ترجمہ۹۹۶     اشعث بن سوار    دارالمعرفۃ بیروت    ۱/ ۲۶۴)
وقد قال سفین اشعث اثبت من مجالدوقال ابن مہدی ھوارفع من مجالد ومجالد من رجال صحیح مسلم وقال ابن معین اشعث احب الی من اسمٰعیل بن مسلم، وقال الامام احمد و العجلی ھوامثل فی الحدیث من محمد بن سالم وروی ابن الدورقی عن ابن معین انہ ثقۃ وقال عثمن بن ابی شیبۃصدوق وذکرہ ابن شاھین فی الثقات وقال ابن عدی لم اجد لہ فیما یرویہ متنامنکرا وقال البزار لا نعلم احدا ترک حدیثہ الامن ھو قلیل المعرفۃ واختلاف قول ابن معین فی رجل یکون انہ دون الثقۃ وفوق الضعیف و ھذاھوشرط الحسن قال الذھبی فی محمد بن حفصۃ فیہ شیئ ولہذا وثقہ ابن معین مرۃ وقال مرۃ صالح ومرۃ لیس بالقوی ومرۃ ضعیف ۱؎ اھ ومحمد ھذا من رجال الصحیحین وبالجملۃ وقد وثق اشعث ولم یرم بقادح قط بل لیس فیہ جرح مفسراصلافحدیثہ حسن ولاشک لاجرم ان حکم العینی علی اسنادہ انہ جید حق واﷲ تعالٰی اعلم ۱۲ منہ غفرلہ
اور سفیان نے کہا کہ اشعث مجالد کی نسبت زیادہ قوی ہے، اور ابن مہدی نے کہا وہ مجالد سے بلند ترین ہے جبکہ مجالد صحیح مسلم کے راویوں میں شمار ہیں اور ابن معین نے کہا میرے نزدیک اشعث زیادہ محبوب ہیں اسمعیل بن مسلم سے، اور امام محمد اور عجلی نے کہا وہ محمد بن سالم سے حدیث میں زیادہ مقبول ہے، اور ابن دورقی نے ابن معین سے روایت کی کہ اشعث ثقہ ہے اور عثمان نے کہا وہ نہایت صادق ہے ابن شاہین نے اس کو ثقہ لوگوں میں ذکر کیا اور ابن عدی نے کہا میں نے اس کے روایت کردہ متن کو منکرنہیں پایا اور بزار نے کہا کہ اس کی مروی حدیث کو ترک کرنیوالا صرف وہی ہے جو خود معرفت میں کمزور ہے اور ابن معین کا اس شخص کے بارے میں اختلاف ہے جو ثقہ نہ ہو اور ضعف سے بالاتر ہو اوریہی حدیث حسن کی شرط ہے، ذہبی نے محمد بن حفصۃ کے متعلق  کہا کہ اس میں کچھ ضعف ہے اس لئے ابن معین نے کبھی اس کی توثیق کی اورکبھی صالح کہا اور کبھی "لیس قوی0"کہا ور کبھی ضعیف کہا اھ اور یہ محمد نامی صحیحین کے رجال میں رہے، خلاصہ یہ ہے کہ اشعث کی توثیق کی گئی او رکسی اعتراض کا نشانہ ہر گز نہیں بنایا گیا بلکہ کوئی مفسر جرح اس پر قطعا نہ ہوئی لہذا اس کی حدیث حسن ہے تو بیشک لازم طورپر عینی کا اس کی سند کو جید کہنا حق ہے واللہ تعالٰی اعلم ۲ ۱منہ غفرلہ (ت)
 (۱؎ میزان الاعتدال للذھبی    ترجمہ ۷۴۲۹     محمد ابن ابی حفصہ    دارالمعرفۃ بیروت    ۳/ ۵۲۵)
غمزالعیون والبصائر میں ہے:
لایمنع من دخول المسجد الذمی الکتابی بخلاف غیرہ واحتج الامام رحمہ اﷲ تعالٰی بمارواہ احمد عن جابر رضی اﷲ تعالٰی عنہ ۲؎۔
ذمی کتابی کو مسجد میں آنے سے نہ روکا جائےگا بخلاف اور کافرکے اور اس پر امام اعظم اس حدیث سے سند لائے جو امام احمد نے جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی۔
 (۲؂غمز العیون والبصائر مع الاشباہ والنظائر الفن الثالث احکام الذمی    ادارہ القرآن کراچی    ۲/ ۱۷۶ و ۱۷۷، ۵۷۷ و ۵۷۸)
غایۃ البیان علامہ اتقائی کتاب القضاء میں ہے:
قال شمس الائمۃ السرخسی فی شرح ادب القاضی وقد ذکر فی السیر الکبیر ان الشرک یمنع من دخول المسجد عملا بقولہ تعالٰی انما المشرکون نجس ۳؎۔
امام شمس الائمہ سرخسی نے شرح ادب القاضی میں فرمایاکہ امام محمدنے سیرکبیر میں فرمایا کہ مشرکوں کو مسجد میں نہ آنے دیا جائے گا اس ارشاد الہٰی پر عمل کے لئے کہ مشرک نرے ناپاک ہیں۔
 (۳؎ غایۃ البیان    کتاب القضاء)
اگرکہئے حدیث میں تو مطلق ذمی کا اسثناء فرمایا کتابی کی تخصیص کہاں ہے۔ اقول (میں کہتاہوں۔ت) مشرکین عرب کو ذمی بنانا روا نہ تھا ان پر صرف دوحکم تھے اسلام لائیں ورنہ تلوار تو وہاں ذمی نہ تھے مگر کتابی، تو استثناء منقطع ہے بلکہ ہم نے مسند میں دیکھا اوراخر مسند جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ میں حدیث اس طرح ہے کہ مذکور ہوئی اور اس سے ۲۷ ورق پہلے یوں ہے:
لایدخل مسجد نا ھذامشرک بعد عامنا ھذا غیر اھل الکتاب و خدمہم ۴؎۔
اس سال کے بعد ہماری اس مسجدمیں کوئی مشرک نہ آنے پائے سوائے کتابی اور ان کے غلام کے۔

تو یہاں خود کتابی کی تصریح ہے۔
 (۴؎ مسند امام احمد بن حنبل مروی از جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ  دارالفکر بیروت ۳/ ۳۳۹)
ثالثا اقول (میں کہتاہوں۔ ت) للہ الحمد اس حدیث حسن نے صاف ارشاد فرمایا کہ اس سے پہلے جو کسی مشرک یا کافر غیر ذمی کے لئے اجازت تھی منسوخ ہوگئی کہ فرمایا
''بعد عامنا ھذا''
(اس سال کے بعد کوئی مشرک مسجد میں نہ آنے پائے سوا ذمیوں کے) مخالفین جتنی روایات پیش کریں ان کے ذمہ لازم ہے کہ اس واقعہ کے اس ارشاد کے بعد ہونے کا ثبوت دیں ورنہ سب جوابوں سے قطع نظر ایک سیدھا سایہی جواب بس ہے کہ وہ منسوخ ہوچکا اور وہ ہر گز اس کا ثبوت نہیں دے سکتے''خصوصا بعد عامنا ھذا کا لفظ ارشاد فرمارہاہے کہ یہ ارشاد بعد نزول سورہ برأت ہے غالبا ا س کا یہ لفظ اس پاک ارشادا لہٰی
انما المشرکون نجس فلا یقربوالمسجد الحرام بعدعامہم ھذا ۱؎
(مشرک نرے ناپاک ہیں تو اس برس کے بعد وہ مسجد حرام کے پا س نہ آنے پائیں۔ت) سے ماخوذ ہے تو پہلے کے وقائع پیش کرنا محض نادانی لیکن لیڈران تو ڈھونڈھ کر منسوخات ہی پرعمل کررہے ہیں کہ اس میں اپنا بچاؤ دیکھتے ہیں
وخسرھنالک المبطلون ۲؎
(اور باطل والوں کا وہاں خسارہ۔ ت)
(۱؎ القرآن الکریم            ۹/ ۲۸)

(۲؎القرآن الکریم            ۴۰/ ۷۸)
Flag Counter