مسئلہ۱۰تا۱۳:ازکانپور فیل خانہ کہنہ مسئولہ مولوی سید محمد آصف صاحب ۵شعبا ن ۱۳۳۹ھ
بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم، نحمدہ ونصلی علٰی رسولہ الکریم۔
یاحبیب محبوب اﷲ روحی فداک، قبلہ کونین و کعبہ دارین محی الملّۃ والدّین دامت فیوضہم۔ بعد تسلیمات
فدویانہ تمنائے حصولِ سعادت آستاں بوسی التماس ایں کہ بفضلہ تعالٰی فدوی بخیریت ہے، صحتوری مزاج اقدس مدام بدعائے سحری مطلوب۔
(۱) ذمی کفار کو ان کے مندر عبادت گاہ میں عبادت کرنے و نیز مراسم کفر کے کرنے کی سلطان اسلام اجازت دیتا ہے یانہیں؟درصورت اجازت دینے کے شبہہ ہوتا ہے کہ احکامِ کفر پر رضاکفر ہے جیسا کہ اتمامِ حجت تامہ میں ۴۳سوال کے آخر میں ہے(تقسیم ملک کہ اتنا آپ کا اتنا ہندؤوں کا، ان دونوں صورتوں میں احکامِ کفر تمام یا بڑے حصہ میں آپ کی رضا سے جاری ہوں گے کہ آپ ہی اس اشتراک یا تقسیم پر راضی ہوئے، احکامِ کفر پر رضا کفریا کم از کم بددینی ہے یانہیں)
(۲)کیا یہ حدیث صحیح ہے:
اخرجواالیھود والنصارٰی من جزیرۃ العرب۔
یہود ونصاری کو جزیرہ عرب سے نکال دو۔(ت)
اور کس زمانہ تک اس حدیث شریف پر عمل ہوتا رہا، اور کس بادشاہ کے وقت سے عدن وغیرہ میں نصارٰی کا قیام ہوا، حدیث شریف سے کیا مقصود ہے؟
(۳)کیاوہابیہ دیوبندیہ خذلھم اﷲ تعالٰی (اﷲ تعالٰی انہیں رسوافرمائے۔ت) بیت المقدس و مساجد کو مقاماتِ مقدسہ نہیں سمجھتے اگرچہ ترکوں کو مسلمان و نیز اور اماکن مقدسہ کو مقاماتِ مقدسہ نہ سمجھیں لیکن شاید مساجد کی وجہ سے ونیز اس حدیث شریف کی وجہ سے چاہتے ہوں کہ عراق عرب غیر مسلم کی ہستیوں سے پاک ہوجائے اور نصارٰی پریشان ہوکراسے چھوڑدیں۔
(۴)کیا ابن عبدالوہاب نجدی نے سنگِ اسود کوبھی نقصان پہنچایا تھا اور جگہ سے ہٹادیا تھا؟والسلام مع التکریم۔
الجواب
حبیبی ومحبی ومحبوبی احبکم اﷲ تعالٰی السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ،
(۱) سلطانِ اسلام ہر گزکفار کو مراسمِ کفر کی اجازت نہیں دے سکتا، کیا اجازت کفر دے کر خود کافر ہوگا بلکہ
نترکھم ومایدینون
(انہیں ہم ان کے دین پر چھوڑدیں گے۔ت) یعنی جہاں جس بات کا ازالہ کا حکم نہیں وہاں تعرض نہ کرے گا نہ یہ کہ ان سے کہے گاکہ ہاں ایسا کرو۔
رسالہ علامہ شرنبلالی پھر ردالمحتار میں ہے:
لیس المراد انہ جائز، نامرھم بہ بل بمعنی نترکھم ومایدینون فھو من جملۃ المعاصی التی یقرون علیھا کشرب الخمرونحوہ، ولانقول ان ذٰلک جائزلھم فلایحل للسلطان ولاللقاضی ان یقول لھم افعلوا ذٰلک ولاان یعینھم علیہ۱؎۔
جائز سے یہ مراد نہیں کہ ہم اس کا امرکرتے ہیں بلکہ معنٰی یہ ہے کہ ہم انہیں ان کے دین پر چھوڑتے ہیں پس یہ ان کے ان معاصی سے ہے جن پر وہ قائم رہتے ہیں مثلاً شراب پیناوغیرہ،اور یہ نہیں کہتے کہ انکو جائز ہیں تو بادشاہ اور قاضی کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ انہیں کہے تم یہ کام کرو اور نہ یہ کہ وہ ان کی مدد کریں۔(ت) بخلاف یہاں کے کہ ضرور جوکچھ ہوگا فریقین کی تراضی و قرار داد سے ہوگا۔
(۱؎ ردالمحتار کتاب الجہاد فصل فی الجزیہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۲۷۲)
(۲) یہ حدیث ان لفظوں سے صحیح نہیں مگر اس مضمون میں کہ جزیرہ عرب میں کوئی نامسلم نہ رہے، متعدد صحیح حدیثیں وارد ہیں، مقصود حدیث وحکم شرعی یہ ہے کہ جزیرہ عرب میں کسی غیر مسلم کا توطن وطول اقامت جائز نہیں، تجارت وغیرہ امورِ مرخصہ کے لئے آئیں اور چلے جائیں، ظاہراً سال بھر تک قیام کی اجازت کسی کو نہ دی جائیگی۔
تیسیرالمقاصد علامہ شرنبلالی پھر درمختار میں ہے: یمنعون من استیطان مکۃ والمدینۃ لانھما من ارض العرب قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لایجتمع فی ارض العرب دینان ولودخل لتجارۃ جاز ولایطیل۲؎۔
مکۃ المکرمہ اور مدینہ طیبہ کو انہیں وطن بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی کیونکہ یہ دونوں شہر ارضِ عرب ہیں، حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: زمینِ عرب میں دو دین جمع نہیں ہوسکتے، اگر تجارت کے لئے داخل ہو تو جائز ہے لیکن طویل مدت نہ رہے۔(ت)
(۲؎ درمختار کتاب الجہاد مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۵۲)
ردالمحتار میں ہے:
قولہ لانھما من ارض العرب افادان الحکم غیر مقصود علی مکۃ والمدینۃ بل جزیرۃ العرب کلھا کذٰلک کما عبربہ فی الفتح وغیرہ فیمنع من ان یطیل فیھا المکث حتی یتخذ فیھا مسکنا لان حالھم فی المقام فی ارض العرب مع التزام الجزیۃ کحالھم فی غیرھا بلاجزیۃ، وھنا لک لا یمنعون من التجارۃ بل من اطالۃ المقام فکذٰلک فی ارض العرب، شرح السیر وظاھرہ ان حد الطول سنۃ تأمل۱؎۔
قولہ''کیونکہ وہ ارض عرب میں سے ہیں'' بتارہا ہے کہ یہ حکم محض مکہ اور مدینہ تک ہی محدود نہیں بلکہ تمام جزیرہ عرب کا یہی حکم ہے جیسا کہ فتح وغیرہ میں بیان ہوا ہے لہذا ایسی طویل مدت تک وہاں ٹھہرنے سے منع کیا جائے گا کہ وہاں وہ رہائش وغیرہ بنائے کیونکہ زمین عرب میں ان کا التزام جزیہ کے ساتھ ٹھہرنا ایساہی ہے جیسے وہ دیگر مقام پر بلا جزیہ ٹھہریں تو وہاں ا نہیں تجارت سے منع نہیں کیا جائے گا، ہاں طویل قیام سے روکا جائے گا، اسی طرح زمین عرب کا معاملہ ہے، شرح السیر۔ ظاہر یہی ہے کہ طوالت مدت کی حد ایک سال تک ہے، تأمل۔(ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب الجہاد فصل فی الجزیۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۲۷۵)
اس حکم احکم کی تکمیل خلافت سیدنا فاروق اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ میں ہوئی بعد کے خلفا میں مستمر رہی قرامطہ ملاعنہ پھر عبیدی خبثاء پھر وہابیہ نجدیہ، ان کفار کا چند روزہ جبری تسلط نہ کسی خلیفہ یا سلطان کی اجازت سے تھا نہ کسی بین الاقوامی قانون مخترع کی قرار داد سے عدن میں نصارٰی کا قیام اور جدّہ میں ان کی سفارت کا مسکن سلطنت ترک کے اواخر سے ہے۔
(۳) وہابیہ مساجد کو مقدس سمجھا کریں مگر ساتھ ہی ترکوں کو بھی غیر مسلم ہستی مانتے ہیں جس طرح تمام اہلسنت کو جانتے ہیں، تو ان کے جیسے نصارٰی ویسے ہی ترک، بلکہ دل میں ترکوں کو بدتر سمجھتے ہیں کہ مشرک و مرتد جانتے ہیں۔
(۴)قرامطہ خبثا سنگ اسود کو لے گئے تھے، بیس برس کے بعد ان کے یہاں سے ملا، نجدیہ کا اسے جگہ سے ہٹانا منقول نہیں، ہاں سیف الجبار میں ان کے زدوضرب سے اس میں شق آجانا لکھا ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۱۴: از چکل ضلع بلڈانہ برارمسئولہ محمد شیر نوار خاں صاحب ۲۰رمضان ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین وہادیان مبین ومفتیانِ شرع متین اس باب میں کہ ان دنوں جب کہ دول یورپ نصارٰی نے سلطنت حضرت سلطان روم خلد اﷲ ملکہ و سلطنتہ کے بیشتر حصہ مملکت و دار الخلافہ پر تسلط اور جزیرۃ العرب واماکن مقدسہ پر بھی براہِ راست وبالواسطہ تسلط واقتدار جمالیا ہے کیا ان حالات میں مسلمانانِ ہند کے لئے ضروری ہے یانہیں کہ ایسا کوئی طرزِ عمل متفق طور پر اختیار کریں جو غاصبان سلطنت اسلام واماکن مقدسہ کو عاجز کرنے والااور نقصان پہنچانے والااور جس کا اثر سلطنت اسلام واماکنِ مقدسہ کی حفاظت کے لئے مدافعانہ پہلولئے ہوئے ہو،بینواتوجروا۔
الجواب: اس سوال کا جواب بھی بارہا چھپ چکا، بلاشبہہ سلطنت اسلام کی حمایت اور اماکن مقدسہ کا تحفظ مسلمانوں پر فرض ہے مگر ہر فرض بقدرِ قدرت ہے اور ہر حکم حسبِ استطاعت، ہندوؤں کی غلامی حرام ہے
اور ان سے اتحاد و وداد مخالفتِ قرآن ہے، جو شخص جوطریقہ برتنا چاہے اسے تین باتیں سوچ لینا ضرور ہے:
اول وہ طریقہ شرعاً جائز ہو، نہ محرمات و کفریات جیسے آجکل لوگوں نے اختیار کئے ہیں۔
دوم وہ طریقہ ممکن بھی ہو، اپنے آپ کو اس کے کرنے پر قدرت ہو کہ غیر مقدوریات کا اٹھانا شرعاً بھی ممانعت ہے عقلًا بھی حماقت۔
سوم وہ طریقہ مفید بھی ہو، وقت اٹھائے پریشانی اٹھائے بلا کے لئے سینہ سپر ہو، اورکرے وہ بات جو محض غیر مفید وبے اثر ہو، یہ بھی شرعاً عقلًا کسی طرح مقبول نہیں، واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۱۵: ازبنارس محلہ ابنیا کی منڈی مسئولہ محمد عمر صاحب رضوی ۲۴رمضان ۱۳۳۹ھ
کیاارشاد فرماتے ہیں علمائے دین حنفی اس مسئلہ میں کہ ہندوستان کے کافر ذمی ہیں یاحربی، کافر ذمی اور حربی کی صحیح تعریف کیا ہے، ہندوستان کے کفار سے لین دین بیع و شراء جائز ہے یانہیں؟بینواتوجروا۔
الجواب: ہندوستان کے کافر ذمی نہیں، ذمی وہ کافر ہے کہ سلطنتِ اسلام میں مطیع الاسلام ہوکر رہے اور جزیہ دینا قبول کرے، بیع وشراءلین دین کہ جائز ہو ہر کافر اصلی سے جائز ہے اگرچہ ذمی نہ ہو۔
ہندیہ میں ہے:
اذا اراد المسلم ان یدخل دارالحرب بامان للتجارۃ لم یمنع ذٰلک منہ وکذٰلک اذا اراد حمل الامتعۃ الیھم فی البحر فی السفینۃ ۱؎ملخصًا۔
جب کوئی مسلمان تجارت کے لئے امان کے ذریعے دارالحرب میں داخل ہوناچاہے تو اسے روکا نہیں جائیگا اسی طرح اس صورت میں ہے جب وہ سمندر میں کشتی کے ذریعے ان کی طرف سامان لے جانے کا ارادہ رکھتا ہو، ملخصًا۔(ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیۃ کتاب السیر الباب السادس فی المستامن نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۲۳۳ )
بلکہ کافر اصلی غیر ذمی وغیر مستامن سے اپنے نفع کے وہ عقود بھی جائز ہیں جو مسلم وذمی مستامن سے ناجائز ہیں، جن میں غدر نہ ہو کہ غدر و بدعہدی مطلقًا سب سے حرام، ہے، مسلم ہو یا کافر ذمی ہو یا حربی مستامن ہو یا غیر مستامن اصلی ہو یامرتد۔
ہدایہ و فتح القدیر وغیرہما میں ہے:
لان مالھم غیر معصوم فبای طریق اخذہ المسلم اخذ مالامباحامالم یکن غدرا۲؎۔
کیونکہ ان کا مال معصوم نہیں، اسے مسلمان جس طریق سے بھی حاصل کرلے وہ مال مباح ہوگا مگرشرط یہ ہے کہ دھوکا نہ ہو۔(ت)
(۲؎ فتح القدیر باب استیلاء الکفار مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۵/ ۲۵۴)
(درمختار کتاب الجہاد مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۴۱)
کفار ہند کے ذمی و مستامن نہ ہونے کے سبب ان سے بیع و شراءناجائز سمجھنا سخت جہالت ہے، یہ سبب تو اور موجبِ وسعت ہے نہ کہ وجہ ممانعت۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
رسالہ
نابغ النور علی سوالات جبلفور ( ۱۳۳۹ھ)
(جبلپور کے سوالات پر ظاہر ہونے والا نور)
بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم ونحمدہ ونصلی علٰی رسولہ الکریم۔
مسئلہ۱۶ تا۲۲: ازجبل پور کمانیہ بازار دکان سیٹھ عبدالغفور صاحب آئل مرچنٹ مرسلہ عبدالجبار صاحب ناظم جماعت خدام اہل سنت۲۰ شوال ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین مسائل مندرجہ ذیل میں:
(۱)ایک سچا پکا سنی پابندِ مذہب و ملت، تارکِ دنیا دینی عالم باعمل جو حکومتِ ترکی کوایک عظیم الشان سلطنت اسلامیہ سمجھے اور اپنی متعدد تقریروں میں اس عظیم سلطنتِ اسلامیہ بلکہ ہر مصیبت زدہ مسلمان کی مدد و اعانت و حمایت اور اماکن مقدسہ کی صیانت و حفاظت ہر مسلمان پر بقدر وسعت واستطاعت ہر جائز و ممکن ومفید طریقہ کے ساتھ ضروری و لازم و فرض فرمائے اور لوگوں کے بار بار نہایت اصرار کے ساتھ اس امر کے استفسار پر کہ''آپ ترکوں کی خلافت کو خلافتِ راشدہ کاملہ اور سلطان ترکی کو خلیفۃ المسلمین سمجھتے ہیں کہ نہیں'' اس کے جواب میں فرمائے''سلطنت ترکی خلدھا اﷲ تعالٰی وایدھا وحرسھا واخذل اعدائھا''(اﷲ تعالٰی اس سلطنت کو ہمیشگی بخشے، اس کی مدد فرمائے، اس کی حفاظت فرمائے اور اس کے دشمنوں کو ذلیل فرمائے۔ت) کے متعلق صرف اتنا عرض کرسکتا ہوں کہ میں بحمدہٖ تعالٰی سنی ہوں اور ہمیشہ ہر حال میں تحقیقات سلف اور مسلماتِ اہلسنت وتصریحاتِ محققین کا متبع اور امتِ مرحومہ کے اجماع و اطباقِ متوارث کا پابند رہا ہوں اور یہی میرا مذہب وعروہ وثقٰی ہے، مسئلہ خلافتِ عظمٰی کے متعلق جو ایک ثابت ومحقق وقطعی طے شد مذہبی قدیم مسئلہ ہے، میں احتیاط کے خلاف اتباعِ سلف پر، ایک جدید اختراع خلف کو ترجیح دینے سے قاصر ہوں اور آج کل کے بے جا اور ناجائز و مزاحم دین و ملت و مخالف کتاب و سنت شورشوں اور ایسی شورشی خلافت کمیٹیوں سے علیحدہ رہے، جن خلافت کمیٹیوں کا مقصد خاص ہندو، مسلم اتحاد ہے اور کفار ومشرکین کے ساتھ دلی محبت اور موالات قائم کرنا اور مسلمانوں کو ہندؤوں کا مطیع و منقاد وغلام بنانا، محرمات شرعیہ کو حلال اور حلال چیزوں کو حرام ٹھہرانا، خلافت کا نام کرکے، کام تمام منافی مقاصد خلافت و خلاف اسلام وموجب بربادی اسلام و تباہی اہل اسلام کرنا، نہایت مبالغہ کے ساتھ قولًا وفعلًا وتحریرًا کفارو مشرکین کی تعظیم وتوقیر خودکرنا اور مسلمانوں سے کرانا، بجائے دعائے نصرت اسلام ومسلمین، مشرکوں کی طرح کافر ومشرک کی جے پکارنا کسی کافر ومرتدووہابی کے مرنے یا جیل جانے پر اظہارِ غم اورماتم کے لئے بازار بند کرانا ہڑتالیں کرنا، مسلمانوں کو دکانیں بند کرنے پر مجبور کرنا، جو ان کاکہا نہ مانے اسے تکلیف دینے اور اس کی عزت و ناموس کو نقصان پہنچانے کی دھمکی دینا' اور بائیکاٹ کردینا، ترکی ٹوپیاں سروں سے اتار کرجلادینا، شعار مشرک گاندھی ٹوپی پہننے پر زور دینا وغیرہا من الشنائع، ایسی خلافت بلکہ ضلالت وہلاکت کمیٹیوں کے ان کے کفروں او رضلالتوں کو اہلِ اسلام پر اپنے بیانات میں ظاہر کرے اور لوگوں کو راہِ راست کی طرف بلائے ایسے عالم دین پر نفس خلافت کے انکار کا بہتان وافتراباندھ کر اسے دائرہ اہل سنت سے خارج کرنااور قطعاً قرآن کا منکر ٹھہراکر اس کے کفروارتداد پر فتوٰی شائع کرنا کیسا ہے اور اس کے مستفتی ومفتی و مصدقین اور ا س فتوٰی کے ماننے والوں اور اس پر عمل کرکے ایسے عالم باعمل کی شان میں ناشائستہ کلمات استعمال کرنے والوں کی نسبت شریعتِ مطہرہ کا کیا حکم ہے؟
(۲)کیاصرف موالات من الیہود والنصارٰی حرام ہے یاہر کافر ومشرک ومبتدع ووہابی وبے دین سے۔
(۳)کیا صرف ترک موالات من الیہود والنصارٰی کو فرض بتانے والے اور دوسرے کفار ومشرکین ومرتدین ہنود ووہابیہ سے موالات کرنے والے، اسے فرض جاننے والے کیا محرف ومکذب قرآن عظیم نہیں، اگرہیں تو ان کی نسبت شریعتِ مطہرہ کا کیا حکم ہے؟
(۴) جو عالم باعمل کافر ومشرک نصارٰی یہودی، ہندو مجوسی بلکہ ہر گمراہ بے دین وبدمذہب مرتد، وہابی اور ہردشمنِ دین اور ہر مخالف اسلام سے ترکِ موالات فرض اور اس کے ساتھ موالات حرام بتائے اور آج کل کے شورش پسندوں کامن گھڑت ترک موالات جو صرف نصارٰی سے کیا جارہا ہے وہ بھی ادھورا، اور کافروں، مشرکوں، مرتدوں، ہندؤوں، وہابیوں سے موالات فرض بتایا جاتا ہے، ایسے انوکھے اندھے ایجاد مشرک، ترک موالات کو منافقِ اسلام ومخالف کتاب وسنت فرمائے، ایسے عالم باعمل کو گورنمنٹ کا تنخواہ یافتہ کہنا، اور ترک موالات من الیہود والنصارٰی کی تصدیق کرنا ، اور ایسے مستفتی و مفتی ومصدقین اور اسے مان کر ایک عالم کی شان میں توہین آمیز الفاظ استعمال کرنے والے سب کے لئے شریعتِ مطہرہ کا کیا حکم ہے؟
(۵) جماعتِ اہلسنت میں تفرقہ ڈالنا، کافروں، مشرکوں کے اغواء سے مسلمانوں میں پھوٹ پیدا کرنا، مسجد الٰہی عید گاہ سے مسلمانوں کو علیحدہ کرکے کافروں کی مدد سے خیمے قائم کرکے نمازِ عید ادا کرنا، مسلمانوں کو دھوکادینے اورشیطانی چال اور مکر وفریب سے عید گاہ اہلسنت سے پھیر کر کافروں کی زمین گول بازار میں بھیجنے کےلئے کافروں کو راستوں پر مقرر کرنا اور مشرکوں کے کہنے سے عید گاہ چھوڑ کر جماعت اہل سنت سے منہ موڑ کر مسجد الٰہی کو ویران کرنے کے لئے کافروں کے زیر سایہ حفاظت و حمایت نماز ادا کرنا کیساہے اور ایسا کرنے والوں پر شریعت مطہرہ کاکیا حکم ہے؟
(۶) مشرکوں بت پرستوں کو خوش اور راضی کرنے کے لئے گائے کی قربانی چھڑانے کی کوشش کرنااور مسلمانوں کو گائے کی قربانی چھوڑنے پر زور دینا، انہیں مجبور کرنا کیسا ہے اور ایسا کرنے والوں کا کیا حکم ہے؟
(۷) جو گائے کی قربانی کرنا چاہتا ہے اس کا ان مشرک پرستوں کے بہکانے سے ان کے دام شیطنت میں پھنس کر گائے کی قربانی چھوڑنا کیسا ہے اور چھوڑنے والے کاکیا حکم ہے؟ بینواتوجروا، بہت ہی کرم ہوگا، ہر سوال کے جواب کے ساتھ دلیل ہواگرچہ مختصر۔
(۱) صورت مستفسرہ میں عالم موصوف سراسر حق پر ہے اور اس کے مخالفین گمراہ وضال،
قال اﷲ تعالٰی فماذابعدالحق الاالضلال۱؎۔
اﷲ تعالٰی نے فرمایا: پھر حق کے بعد کیا ہے مگر گمراہی ۔(ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۱۰/ ۳۲)
بلاشبہہ حمایت سلطنت اسلامیہ وحفاظت اماکن مقدسہ میں، وسعت واستطاعت کی شرط قرآن عظیم سے ہے، اور اس کے طرق میں جائز و ممکن ومفید کی تحدید شرع قویم وعقل سلیم سے ۔
قال اﷲ تعالٰی:
لایکلف اﷲ نفسًا الا وسعھا۲؎۔
اﷲ کسی جان پر بوجھ نہیں ڈالتا مگر اس کی طاقت بھر(ت)
(۲؎ القرآن الکریم ۷/ ۲۸۶)
وقال اﷲ تعالٰی فاتقوااﷲ مااستطعتم۔۱؎
اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا: تو اﷲ تعالٰی سے ڈر وجہاں تک ہوسکے۔(ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۲۴/ ۱۶ )
شرع الٰہی عزّوجل منزّہ ہے اس سے کہ ناجائز وحرام یا ناممکن وغیر مقدور یا نامفید عبث کا حکم دے۔
قال اﷲ تعالٰی ان اﷲ لایأمر بالفحشاء۲؎۔
اﷲ تعالٰی نے فرمایا: بیشک اﷲ تعالٰی بے حیائی کا حکم نہیں دیتا(ت)
(۲؎ القرآن الکریم ۷ /۲۸)
وقال تعالٰی: وینھی عن الفحشاء والمنکر ۳۔
اللہ تعالی نے فرمایا :اور وہ منع فرماتا ہے بے حیائی اور بری بات سے ۔(ت)
(۳؎ القرآن الکریم ۱۶/ ۹۰ )
وقال تعالٰی لا نکلف نفساالاوسعھا۴؎۔
اﷲ تعالٰی نے فرمایا: اور ہم کسی جان پر بوجھ نہیں رکھتے مگر اس کی طاقت بھر۔(ت)
(۴؎ القرآن الکریم ۲۳/ ۶۲)
وقال تعالٰی وماخلقنا السماء والارض ومابینھما لٰعبین۵؎۔
(۵؎ القرآن الکریم ۴۴/ ۳۸)
اﷲ تعالٰی نے فرمایا: اور ہم نے نہ بنائے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے کھیل کے طور پر ۔(ت)