Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۴(کتاب السیر)
109 - 150
سادسا مشرکوں پر اعتماد حرام قطعی بلکہ تکذیب کلام الہٰی تھا جس کا بیان زیر آیت اولٰی گزرا انھوں نے اعتماد درکنار قطعا التجاکی، التجاء واعتماد کے جو معنی گزرے ان کے آئینہ میں ان کی صورتیں منقوش دیکھ لیجئے ۲۳ کروڑ ہندؤوں کو اپنا یارو یاور بنانا کیا دلی خیرخواہی پر پورے اعتماد کے بغیر ممکن ہے بداہت عقل کو مکرائے تو لیڈران کے گیت سن لیجئے جو مشرکین کواپنا دلی خیرخواہ سمجھنے کے گائے ہیں'' ان(عہ۱) کی ہمدردی ہماری مصیبت کے وقت ظاہر ہوئی جس وقت کلمہ گو بھی معاونت حق سے گریزان تھے ان کا دست اتحاد ہماری طرف بڑھا جب یاراغیار ہو گئے ہیں برداران وطن کوان کی  ہمدردی کی اجرت دے کر ان کے مرتبہ کو گھٹانا نہیں چاہتا وہ بہادر قوم ہماری مصیبت کے وقت خلوص کے ساتھ ہمدردی کرکے ہم ان کو اپنا دلی دوست بنانا چاہتی ہے نہ ہماری لفظی شکر گزاری کی محتاج ہے ہمارے دل میں ان کے اخلاص (عہ۲) نے گھر کرلیا ہے۔''دیکھئے کیسی دل کھول کر قرآن کی تکذیبیں کیں، اب اتنا مسلمان دیکھ لیں گے کہ یہ سچے یااللہ واحدقہار سچا کہ
لایالونکم خبالا ۲؎
وہ تمھاری بدخواہی میں گئی نہ کریں گے
قل صدق اﷲ وماللظلمین من انصار ۳؎۔
عہ۱:خطبہ صدارت مولوی عبدالباری صاحب ۵و ۶۔ ۱۲ حشمت علی لکھنوی عفی عنہ

عہ۲: رسالہ قربانی گاؤ مولوی عبدالباری ۱۲ حشمت علی عفی عنہ
 (۲؎ القرآن الکریم            ۳/ ۱۱۸)(۳؎القرآن الکریم          ۲/ ۲۷۰)
دربارہ استعانت فتوٰی میں لیڈران کی موت: (عہ۳)
عہ۳: دربارہ استعانت جو فتوٰی شاہجہانپور لیڈران نے شائع کیا اس میں خود ان کی موت ہے مگر لیڈران کونہیں سوجھتی۔
سابعا سب جانے دو اتنا تو مفتی لیڈران کو بھی مسلم کہ اگر ان کی طرف حاجت پڑے اور ان سے غدر کا امن ہو تو استعانت درست یعنی حاجت نہ ہو تو حرام اور ان کے غدر سے امن نہ ہو توحرام حاجت کاانکارخود لیڈران کو ہے اور ان کے غدرسے امن پر کیا دلیل قائم کرلی۔ کیا نرا وعدہ، اور اللہ تعالٰی فرماتاہے:
وما یعدھم الشیطن الا غرورا ۱؎ o
شیطان تو انھیں وعدہ نہیں دیتا مگر فریب سے۔
 (۱؎ القرآن الکریم                ۴/ ۱۲۰)
یا انھوں نے تمھارے خیر خواہ بنے رہنے کی قسمیں کھائی ہیں۔ اللہ تعالٰی فرماتاہے۔
انہم لاایمان لہم ۲؎
ان کی قسمیں کچھ نہیں، یاتمھیں وحی آئی کہ یہ جانی دشمن یہ دینی اعداء یہ خونخوار بدخواہ یہ کبھی دغا نہ کریں گے،
 (۲؎القرآن الکریم                ۹/ ۱۲)
اوراللہ تعالٰی فرماتاہے:
ومن اظلم ممن افتری علی اﷲ کذبا او قال اوحی الی ولم یوح الیہ شیئ ۳؎۔
ا س سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ پر جھوٹ باندھے یا کہے مجھے وحی ہوئی حالانکہ اسے کچھ بھی وحی نہ ہوئی۔
 (۳؎القرآن الکریم                ۶/ ۹۳)
ان کے غدر سے امن کی توایک وہی صورت تھی کہ وہ ایسے ذلیل وقلیل ہمارے ہاتھ میں مجبور و مقہور ہوں کہ سرتابی کی قدرت ہی نہ رکھیں، کیا یہ ۲۳ کروڑہندو تمھارے ہاتھ میں ایسے ہی ہیں۔ جھوٹ جھوٹ جھوٹ اور پورے ۲۳ کروڑ جھوٹ، دیکھو تمھارے ہی شائع کردہ فتوے نے تمھیں گھر تک پہنچادیا اور اس استعانت میں تم پر فرد قرارداد جرم لگاکر مرتکب حرام ٹھہرادیا احمق اسے شائع کروانے اور اپنی سند ٹھہراتے ہیں، اور نہیں جانتے کہ وہ انھیں پر رد ہے۔ ہمارے دوست مفتی صاحب نے مروان کے خفیہ خط کی طرح ملتمس کا ساصحیفہ ان کے ہاتھ میں دے دیا جس میں ان کی موت ہے اور یہ خوشی خوشی لئے پھرتے ہیں، نہیں نہیں نرے نامشخص نہیں سمجھتے ہیں مگر مقصودہی دین کو بدلنا احکام کو کچلنا عوام کوچھلنا ہے، جاہل بیچارے اتنا دیکھ لیں گے کہ دیکھو "ج ائی ز" لکھا ہے اب اتنی سمجھ کسے کہ جسے جائز لکھا ہے لیڈران کی استعانت کو اس سے مس نہیں اور ان کی جو استعانت ہے فتوے میں ہر گز اسے جائز نہ لکھا بلکہ صاف عدم جواز کا اشعار کیا۔

مفتیوں کو ہدایت:

ہاں جب مفتی کوواقعہ معلوم ، تو فتوٰی اگرچہ بجائے خو د صحت سے موسوم ایسا غلط انگیز لکھنا مذموم جسے اہل باطل اپنے باطل پرڈھالیں اور اس سےاپنی تقویت کی راہ نکالیں یہ سمجھ لینا کہ فتوے کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ ان کے غدر سے امن کی صورت یہاں متصور نہیں عوام جاہلوں کو میسر نہیں،
عقود الدریہ میں ہے:
اذا علم المفتی حقیقۃ الامر ینبغی لہ ان لایکتب للسائل لئلا یکون معینا لہ علی الباطل ۱؎۔
مفتی کو جب اصل واقعہ معلوم ہو تو اسے سزاوار نہیں کہ سائل کو اس کے حوالے کے موافق فتوٰی لکھ دے تاکہ باطل پر اس کا مدد گار نہ ہو۔
 (۱؎ العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوٰی الحامدیۃ    قبیل کتاب الطہارۃ        حاجی عبدالغفار پسران قندھار افغانستان        ۱/ ۳)
اسی میں اپنے شیخ المشائخ شیخ عبدالقادر صفوری سے ہے:
ان بعض المبطلین اذا صار بیدہ فتوی صال بھا علی خصمہ وقال المفتی افتی لی علیک بکذا، والجاھل اوضعیف الحال لایمکنہ منازعۃ فی کون نصہ مطابقا اولا ۲؎۔
بعض اہل باطل کے ہاتھ میں جب فتوٰی آجاتاہے اپنے فریق پر اس سے حملہ کرتاہے اور کہتاہے مفتی نے میرے لئے تجھ پر فتوٰی دیااور بے علم یاکمزور اس سے یہ بحث نہیں کرسکتا کہ ا س کی عبارت صورت واقعہ سے مطابق بھی ہے یا نہیں۔
 (۲؎ العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوٰی الحامدیۃ    قبیل کتاب الطہارۃ        حاجی عبدالغفار پسران قندھار افغانستان          ۱/ ۳)
مولٰی تعالٰی ہمیں اور ہمارے احباب کو باطل واعانت باطل واختلاط اہل باطل سے بچائے اور حق پر استقامت تامہ عطا فرمائے والحمدللہ رب العالمین۔

مساجد میں مشرک کے لے جانے کا رد:

(۱۰) لیڈران نے شریعت مطہرہ پر ایسے ہی شدید ظلم مسئلہ دخول کافر بمسجد میں کئے ہیں، 

اولا یہ مسئلہ تمام متون مثل تحفۃ الفقہاء وہدایہ ووقایہ وکنز ووافی ومختار واصلاح وغرر وملتقی وتنویر اور ان کے سوا محیط سرخسی واشباہ والنظائر ووجیز کردری وخزانۃ المفتین وفتاوٰی ہندیہ سب میں ذمی کے ساتھ مقید ہے فتوٰی شائع کردہ لیڈران نے بھی یہاں عبارت درمختار میں گنجائش نہ پائی یونہی نقل کرنی پڑی کہ
"جاز دخول الذمی مسجدا ۳؎
ذمی کا مسجد میں جانا جائزہے۔
 (۳؎ الدرالمختار  کتاب الحظروالاباحۃفصل فی البیع     مطبع مجتبائی دہلی     ۲/ ۲۴۶)
سب سے اجل واعظم خود محرر مذہب امام محمد کا جامع صغیر میں ارشاد ہے:
محمد عن یعقوب عن ابی حنیفۃ لاباس بان یدخل اھل الذمۃ المسجد الحرام ۴؎
''یعنی امام محمد امام ابویوسف سے راوی کہ امام اعظم نے فرمایا رضی اللہ تعالٰی عنہم ذمیوں کا مسجد حرام میں جانا مضائقہ نہیں''
 (۴؎ جامع الصغیر        مسائل من کتاب الکراھیۃ        مطبع یوسفی لکھنو            ص۱۵۳)
ذمی مراد ہو اور کافر سے تعبیر کریں کیا بعید ہے ذمی بھی کافر ہی ہے اطلاق کی سندیں اوپر گزریں کہ "اراد بالکافر الذمی" کافر سے ذمی مراد ہے۔ یونہی مستامن مرادہو اور حربی سے تعبیر کریں کیا عجب ہے مستامن بھی حربی ہے اطلاق کی سند محیط وعالمگیریہ سے گزری کہ "اراد بالمحارب المستامن" حربی سے مستامن مرادہے۔ مگر ذمی بولیں اور اس سے حربی بھی مراد ہو یہ کس طرح منقول کہ اب تخصیص ذمی محض بے معنی وموجوب غلط فہمی ہوگی کہ حربی ہر گز معنی ذمی میں نہیں، لاجرم علامہ سید احمد طحطاوی وعلامہ سید محمد محشیان درمختارکو اس میں تردد ہوا کہ مستامن کے لئے بھی جواز ہے یانہیں پھر اس استدلال علماء بالحدیث سے سند لاکر بھی جزم نہ کیا اور کتب سے تحقیق کرنے کاحکم دیا دونوں کتابوں کی عبارت یہ ہے:
انظر ھل المستامن ورسول اھل الحرب مثلہ ومقتضی استدلالہم علی الجواز بانزال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وفد ثقیف فی المسجد جوازہ ویحرر ۱؎۔
غور طلب ہے کہ مستامن اور حربیوں کا ایلچی بھی کہ وہ بھی مستامن ہوتاہے اس حکم میں ذمیوں کے مثل ہے یا نہیں۔ علماء کہ جواز پر اس سے دلیل لائے کہ نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے وفد ثقیف کو مسجد شریف میں اتارا یہ مستامن کے لئے جواز چاہتاہے بات ہنوز  تحقیق طلب ہے۔
 (۱؎ ردالمحتار    کتاب الحظروالاباحۃ     فصل فی البیع         مکتبہ ماجد کوئٹہ    ۵/ ۲۷۴)
Flag Counter