لیڈروں نے احکام شریعت کو کیسے بدلا
فائدہ سابعہ: یہ تھا حکم شرعی جس کی تحقیق وتنقیح بحمدہ تعالٰی اس وجہ جلیل پر ہوئی کہ ان سطور کے غیر میں نہ ملے گی، اب لیڈران اپنی تحریفیں دیکھیں احکام دین کو کتنا کتنا بدلا، شرعی مسئلہ کیسا کیسا مسلا،
اولا ذکر تھا ذمی کا، لے دوڑے حربی۔
ثانیا بروایت امام طحطاوی حضرت امام اعظم وامام ابویوسف امام محمد جملہ ائمہ حنفیہ رضی اللہ تعالٰی عنہم کے نزدیک جواز کتابی سے خاص تھا یہ لے دوڑے مشرک۔
ثالثا جواز باجماع قائلین حاجت سے مقید تھا اور یہ خود اپنا جرم قبولے کہ ہم(عہ۱) کو احتیاج نے اتحاد برادران ہند کی جانب مائل نہیں کیا۔
عہ۱: خطبہ صدارت مولوی عبدالباری ص ۵۔ حشمت علی غفرلہ
رابعا انھیں راز دار ودخیل کار بنانا حرام قطعی تھا یہ اس سے بھی بدرجہا بڑھ کر قطعی تھا یہ اس سے بھی بدر جہا بڑھ کر ان کے ہاتھ بک گئے انھیں اپنا امام وپیشوا بنالیا ان(عہ۲) کو اپنا رہنما بنالیا ہے جو وہ کہتے ہیں ''وہی مانتا ہوں میرا حال تو سردست اس شعر کے موافق ہے:'' ع
عمرے کہ بآیات واحادیث گزشت
رفتی ونثار بت پرستی کردی
(وہ عمر کہ آیات واحادیث کے ساتھ گزری ختم ہوگئی، اور بت پرستی کی نذر کردی۔ ت)
کذٰلک یطبع اﷲ علی کل قلب متکبر جبار ۱؎۔
اللہ یونہی چھاپ لگادیتاہے ہر مغرور ستمگر کے دل پر۔
(۱؎ القرآن الکریم ۴۰/ ۳۵)
عہ۲: خط مولوی عبدالباری صاحب جس کافوٹو حسن نظامی نے چھاپا۔ ۱۲ حمشت علی عفی عنہ
خامسا ان کی تعظیم انھیں مسلمانوں پر استعلاء دینا حرام قطعی تھا، انھوں نے صرف ظاہری سجدہ کسی مصلحت سے بچا رکھا باقی کوئی دقیقہ مشرکوں کی تعظیم واعلاء میں نہ چھوڑا مسلمان کہلانے والوں نے ان کی جیئیں پکاریں، بیل بن کر گئوپتروں کی گاڑیاں کھینچیں، ان کی مدح میں غلوواغراق کئے حتی کہ گاندھی کو کہہ بھاگے ع
''خاموشی از ثنائے توحدثنائے ست''(عہ۳)
(تیری تعریف سے خاموش رہنا تیری تعریف کی انتہا ہے۔ ت)
عہ۳: انجمن اسلامیہ کی طرف سے گاندھی کا سپاسنامہ شعر ۱۸۔ حشمت علی
"نبوت(عہ۴) ختم نہ ہوتی تو گاندھی جی نبی ہوتے" ایک متلڈر (عہ۵) ہزاروں کے مجمع میں اسٹیج پر چہکتاہے کہ ''اگر اللہ تعالٰی نے ان کو (گاندھی کی طرف اشارہ کرکے کہا) تمھارے لئے مزکر بناکر بھیجاہے''
عہ۴: تقریر ظفر الملک دررفاہ عام لکھنؤ ''اگر نبوت ختم نہ ہوگئی ہوتی تو مہاتماگاندھی نبی ہوتے'' اخبار اتفاق دہلی ۲۷ اکتوبر ودبدبہ سکندریہ یکم نومبر وپیسہ اخبار ۱۸ نومبر ۱۲حشمت علی
عہ۵: تقریر عبدالماجد بدایونی جلسہ جمعیۃ العلماء ہند دہلی فتح اخبار دہلی جلد ۲ نمبر ۲۴۲۔ ۱۲ حشمت علی عفی عنہ
خطبہ جمعہ میں گاندھی کی تعریف داخل کرنے کا رد:
دوسرا(عہ۱) جمعہ کا خطبہ اردو میں پڑھتا ہے، نہیں نہیں خطبہ کی جگہ لکچر دیتاہے اور اس میں خلفائے راشدین وحسن وحسین رضی اللہ تعالٰی عنہم کے بدلے گاندھی کی مدح مقدس ذات ستودہ(عہ۲) صفات وغیرہا لفاظیوں کے ساتھ گاتاہے،
عہ۱: اخبار مشرق گوکھپور ۱۳ جنوری ۲۱ ء وعینی شہادت مولوی احمد مختار صاحب صدیقی میرٹھی رکن خلافت کمیٹی ۱۲ حشمت علی۔
عہ۲: یہ مولوی صاحب شاہد عینی کا بیان ہے اور اخبار مشرق میں مقدس ذات پاکیزہ خیالات ہے۔ ۱۲ حشمت علی۔
اللہ تعالٰی فرمائے:
انما المشرکون نجس ۱؎
مشرک تو نہیں مگرناپاک۔
یہ کہیں مقدس ذات۔ اللہ فرمائے:
اولئک ھم شرالبریۃ ۲؎
وہ تمام مخلوق سے بدترہیں۔
یہ کہیں ستودہ صفات۔ غرض خطبہ جمعہ کیا تھا قرآن عظیم کا رد تھا۔ آج خطبہ جمعہ میں یہ ہوا کل نماز میں "اھدنا الصراط المستقیم" کی جگہ "اھدنا الصراط الگاندھی" پڑھیں گے اور کیوں نہ پڑھیں جسے جانیں کہ اس مقدس ذات ستودہ صفات کو اللہ تعالٰی نے مذکر بناکر مبعوث فرمایاہے اس کی راہ آپ ہی طلب کیا چاہیں اور بالفرض یہ تبدیل نہ کریں، تو "صراط الذین انعمت علیہم" میں تو گاندھی کو ضرور داخل مان چکے۔ اللہ جسے مقدس ذات ستودہ صفات کرے اور خلق کےلئے مذکربناکر بھیجے اس پر انعام الہٰی تام وکامل ہے،
الذین انعم اﷲ علیہم ۳؎
(وہ جن پر اللہ نے احسان کیا)کا بیان قرآن کریم نے
"من النبیین والصدیقین والشھداء والصٰلحین" ۴؎
(وہ کون ہیں نبی اور صدیق اور شہید اور نیک لوگ)فرمایاہے۔
(۱؎ القرآن الکریم ۹/ ۲۸)(۲؎ القرآن الکریم ۹۸/ ۶) (۳؎ القرآن الکریم ۴/ ۶۹) (۴؎ القرآن الکریم ۴/ ۶۹)
یہ سب مقدس ذات ستودہ صفات ہیں لاکھوں شہداء وصالحین کو اللہ تعالٰی نے مذکر بناکر مبعوث نہ فرمایا توگاندھی جی اول نمبر کے "انعمت علیہم" ہوئے مگر قرآن تو کفار پر اپنا غضب اور لعنت بتاتا اور انھیں ہر مخلوق سے بدتر ہر ذلیل سے ذلیل تر فرماتاہے اگر اس کا نام انعام ہے تو ضرور کفار سے بڑھ کر کوئی "انعمت علیہم" نہیں۔
قاتلہم اﷲ انی یؤفکون ۵؎
(اللہ انھیں مارے کہاں اوندھے جاتے ہیں۔ ت)
(۵؎ القرآن الکریم ۹/ ۳۰ و ۶۳/ ۴)
مشرک کو مسجد جامع میں مسلمانوں کا واعظ بنایا جاتا ہے ہزارہا مسلمانوں سے اونچا کھڑا کرکے مسند رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر جمایا جاتاہے کیا مسئلہ استعانت کا یہ مطلب تھاکیا درمختار میں اس کا جواز لکھا تھا،اجازت تھی تو استخدام کی، وہ بھی ایسا جیسے کتے سے جوپورا مسخرہولیا ہو۔ تم نے الٹی خدمت گاری بلکہ غلامی کی
وسیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ۱؎ o
(اور اب جانا چاہتے ہیں ظالم کہ کس کروٹ پلٹا کھائیں گے۔ ت)