تفسیر لباب التاویل وغیرہ پارہ۶ میں ہے: روی ان اباموسٰی الاشعری رضی اﷲ تعالٰی عنہ قال قلت لعمر بن الخطاب رضی اﷲ تعالٰی عنہ ان لی کاتبا نصرانیا فقال مالک ولہ قاتلک اﷲ الا اتخذت حنیفا یعنی مسلما اماسمعت قول اﷲ عزوجل ''یا یھا الذین اٰمنوا لاتتخذوا الیہود والنصرٰی اولیاء'' قلت لہ دینہ ولی کتابتہ فقال لا اکرمہم اذا اھانہم اﷲ، ولااعزھم اذا اذلہم اﷲ ولاادنیہم اذا ابعد ھم اﷲ، قلت انہ لایتم امر البصرۃ الا بہ فقال مات النصرانی والسلام یعنی ھب انہ مات فما تصنع بعدہ فما تعملہ بعد موتہ فاعلمہ الاٰن واستغن عنہ بغیرہ من المسلمین ۱؎۔
یعنی ابوموسی اشعری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہوا کہ میں نے امیر المومنین عمر فاروق اعظم سے عرض کی کہ میرا ایک محرر نصرانی ہے، فرمایا تمھیں اس سے کیا علاقہ خدا تمھیں سمجھائے کیوں نہ کسی کھرے مسلمان کو محرر بنایا کیا تم نے یہ ارشاد الہٰی نہ سنا کہ اے ایمان والو! یہود ونصارٰی کو یار نہ بناؤ، میں نے عرض کی اس کا دین اس کے لئے ہے مجھے تو اس کی محرری سے کام ہے، فرمایا میں کافروں کو گرامی نہ کرو ں گا جبکہ انھیں اللہ نے خوارکیا نہ انھیں عزت دوں گا جبکہ اللہ نے انھیں ذلیل کیا نہ ان کو قُرب دوں گاجبکہ اللہ نے انھیں دور کیا، میں نے عرض کی بصرہ کا کام بے اس کے پورانہ ہوگا۔ فرمایا مرگیا نصرانی والسلام یعنی فرض کرلو کہ وہ مرگیا تو اس کے بعد کیا کرو گے جو جب کروگے اب کرو اور کسی مسلمان کو مقرر کرکے اس سے بے پروا ہوجاؤ۔
(۱؎ لباب التاویل (تفسیر الکبیر) زیر آیہ لاتتخذوا الیہود والنصارٰی اولیاء مصطفی البابی مصر ۲/ ۶۲)
کافر کی تعظیم حرام ہے:
دوم اسے بعض مسلمانوں پر کوئی عہدہ ومنصب دینا جس میں مسلم پر اس کا استعلاء ہو مثلا مسلمان فوج کے کسی دستے کا افسر بنانا یہ بھی حرام ہے، ابھی امیر المومنین فاروق اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کا ارشاد سن چکے کہ اللہ نے انھیں خوار کیا میں گرامی نہ کروں گا اللہ نے انھیں ذلت دی میں عزت نہ دوں گا، کتب حدیث میں یوں ہے کہ جب ابوموسٰی اشعری رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اسے محرری پر مقرر کیا امیر المومنین رضی اللہ تعالٰی عنہ نے انھیں فرمان میں لکھا :
لیس لنا ان نأتمنہم وقد خونہم اﷲ ولا ان نرفعہم وقد وضعہم اﷲ ولاان نعزوھم وقد امرنا بان یعلم الجزیۃ عن یدوھم صاغرون ۔
ہمیں روانہیں کہ کافروں کو امین بنائیں حالانکہ اللہ تعالٰی انھیں خائن بتاتاہے یا ہم انھیں رفعت دیں حالانکہ اللہ سبحٰنہ نے انھیں پستی دی، یاانھیں عزت دیں حالانکہ ہمیں حکم ہے کہ کافر ذلت وخواری کے ساتھ اپنے ہاتھ سے جزیہ پیش کریں۔
درمختارمیں ہے:
یمنع من استکتاب ومباشرۃ یکون بھا معظما عند المسلمین وتمامہ فی الفتح وفی الحاوی ینبغی ان یلازم الصغار بینہ وبین المسلم، فی کل شیئ وعلیہ فیمنع من القعود حال قیام المسلم عندہ بحر، ویحرم تعظیمہ ۳؎۔
(۳؎ الدرالمختار فصل فی الجزیۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۵۲)
یعنی ذمی کافر کو محرر بنانا یااور کوئی عمل ایسا سپر د کرنا جس سے مسلمانوں میں اس کی بڑائی ہوجائز نہیں، اس کا پوار بیان فتح القدیر میں ہے، حاوی میں ہے وہ مسلمان کے ساتھ ہر معاملہ میں دبا ہوا ذلیل رہے تو جب تک ا س کے پاس کوئی مسلمان کھڑا ہواُسے بیٹھنے نہ دیں گے، یہ بحرالرائق میں ہے، اور اس کی تعظیم حرام ہے۔
ہدایہ میں ہے:
قالوا الاحق ان لایترکوا ان یرکبوا الا لضرورۃ واذارکبوا للضرورۃ فلینزلوا فی مجامع المسلمین ۱؎۔
علماء نے فرمایا: سز اوارتریہ ہے کہ انھیں سوار ہونے ہی نہ دیں مگر (مرض وغیرہ کی) ناچاری سے پھر جب مجبوری کو سوار ہو تو ضرور ہے کہ مسلمانوں کے مجمع میں اترلیں۔
(۱؎ الہدایۃ باب الجزیۃ المکتبۃ العربیہ کراچی ۲/ ۵۷۸)
بے تعظیمی کے ساتھ بھی کافر سے استعانت صرف وقت حاجت جائزہے:
سوم بے حاجت اس سے استعانت کرنا یہ بھی ناجائز ہے، خود فتوائے شائع کردہ لیڈران میں درمختار سے ہے:
مفادہ جوا ز الاستعانۃ بالکافر عند الحاجۃ ۲؎۔
اس عبارت سے سمجھاگیا کہ حاجت کے وقت کافر (ذمی) سے استعانت جائز ہے۔
کافر سے صرف اس صورت کی استعانت جائز ہے:
چہارم اب ایک صورت یہ رہی کہ دبے ہوئے مقہور کافر سے بشرط حاجت ایسی استعانت جس میں نہ اسے راز دار ودخیل کاربنانا ہو نہ کسی مسلمان پر اس کا استعلاء ہو یہ ہے وہ جس کی ہمارے علماء اور امام شافعی رضی اللہ تعالٰی عنہم نے رخصت دی پچھلی دو قیدیں تو منتظر ثبوت بلکہ محتاج بیان بھی نہیں دین متین سے ضرورۃً معلوم ہیں جن کا کچھ بیان ابھی گزرا تو ان کی نظیر نماز کے لئے شرط وضو ہے کسی نماز کامسئلہ بتائے تو یہ کہنا کچھ ضرور نہیں کہ بشرطیکہ باوضو پڑھی جائے، رہیں پہلی دو، وہ ہمارے ائمہ کی طرح امام شافعی نے بھی بتائیں امام اجل ابو زکریا نووی شافعی شرح صحیح مسلم میں فرماتے ہیں:
قولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فارجع فلن استعین بمشرک، وقد جاء فی الحدیث الاخران النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم استعان بصفوان بن امیۃ قبل اسلامہ فاخذ طائفۃ من العلماء بالحدیث الاول علی اطلاقہ، وقال الشافعی واخرون ان کان الکافر حسن الرأی فی المسلمین ودعت الحاجۃ الی الاستعانۃ بہ استعین بہ والا فیکرہ حمل الحدیثین علی ھذین الحالین ۱؎۔
نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا ارشاد کہ واپس جا ہم ہر گز کسی مشرک سے استعانت نہ کریں گے، اورد وسری حدیث میں آیا ہے کہ نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے صفوان بن امیہ سے اس حال میں امدا د لی کہ وہ ابھی مسلمان نہ ہوئے تھے تو ا یک جماعت علماء نے پہلی حدیث کا مطلق حکم اختیار کیا اور شافعی اور کچھ اوروں نے کہا کافر اگر مسلمانوں کے حق میں نیک رائے رکھتا ہواور اس سے استعانت کی حاجت پڑے تو استعانت کی جائے ورنہ منع ہے، امام شافعی نے ان دونوں حدیثوں کو ان دونوں حالوں پر محمول کیا۔
(۱؎ شرح صحیح مسلم مع مسلم کتاب الجہاد و السیر کراھیۃ الاستعانۃ فی الغز وبکافر الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۱۸)
شرط حاجت تو صاف ذکر فرمائی اور شرط اول کا یوں اشعارکیا کہ کسی کافر کی رائے مسلمانوں کے بارے میں اچھی ہو تو اس سے اس استعانت جائزہے، اسی شرط کو حاذمی نے یوں ذکر کیا:
والثانی ان یکونوا ممن یوثق بھم فلا تخشٰی نائرتہم فمتی فقد ھٰذا ن الشرطان لم یجز للامام ان یستعین بہم ۲؎۔
یعنی حاجت کے ساتھ دوسری شرط یہ ہے کہ ان کافروں پر وثوق ہو کہ ان کی شرارت کا اندیشہ نہ رہے ان دونوں شرطوں میں سے کوئی کم ہوگی تو سلطان اسلام کو کافروں سے استعانت جائز نہ ہوگی۔
(۲؎ الناسخ والمنسوخ للحاذمی)
اقول اللہ عزوجل فرماتاہے: اور اللہ سب سے زیادہ سچاہے
لا یألونکم خبالا ودواماعنتم ۱؎
کافر تمھاری بدخواہی میں کمی نہ کریں گے تمھا رامشقت میں پڑنا ان کی دلی تمناہے۔
(۱؎ القرآن الکریم ۳/ ۱۱۸)
تو محال ہے کہ خود سر کافر مسلمانوں کے لئے کوئی اچھی رائے رکھیں ان کی خیرخواہی پر وثوق ہو سکے ان کا خود سرکافر ہونا ہی ان پر بے اطمینانی کا پورا موجب ہے،
محقق علی الاطلاق فتح القدیرباب الموادعۃ میں فرماتے ہیں:
امید ہے کہ خوف خیانت آپ ہی لازم ہے کہ ان کا کافر اور ہم سے مقاتل ہونا معلوم ہے۔
(۲؎ فتح القدیر باب الموادعۃ مکتبۃ نوریہ رضویہ سکھر ۵/ ۲۰۶)
تو مسلمانوں کے خیرخواہ وقابل وثوق نہیں ہوسکتے مگر معدود چند ذلیل قلیل مجبور مقہور کا فرجن کو سرکشی کی مجال نہیں ولہذا تمام علماء نے مسئلہ رضخ کو ذمی کے ساتھ مقید فرمایا اوراسے مفرد ذکر کیا۔
ثم اقول ان کا شروط وقیود سے مشروط استعانت سے نہ ان کو راز دارودخیل کار بناناہے کہ آیت اولٰی کے خلاف ہو، نہ ان سے عزت چاہنا کہ آیت دوم کے مخالف ہوں، ذلیل قلیل سے کون عزت چاہے گا، نہ اسے کوئی ولی و نصیر بنانا کہے گا کہ باقی آیات کے خلاف ہو۔ یہ استعانت اگر ایسی نہیں جیسے
کتبت بالقلم
(میں نے قلم کی مدد سے لکھا۔ت) میں سے تو ایسی ضرور ہے جیسے لوگ چماروں کو پکڑا کربیگار لیتے ہیں بلکہ جب انھیں کچھ مال دیا جاتاہے تو ایسی جیسے چمار کو پیسہ دے کر جو تا گنٹھوالینا، کیا اسے کوئی کہے گا کہ چمار کوولی وناصر بنایا۔ لاجرم کلمات علماء مخالف آیات نہ ہوئے (عہ)
وللہ الحمد، ھکذا ینبغی التحقیق واﷲ تعالٰی ولی التوفیق۔