Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۴(کتاب السیر)
106 - 150
تحقیق مقام استعانت کے اقسام او ران کے احکام

فائدہ سادسہ: اقول تحقیق مقام بتوفیق منعام یہ ہے کہ یہاں استعانت کی تین حالتیں ہیں:

التجا، اعتماد، استخدام 

التجا: یہ کہ قلیل گروہ اپنے کو ضعیف وکمزور یا عاجز پاکر کثیروقوی و طاقتور جتھے کی پناہ لے اپناکام بنانے کے لئے اس کا دامن پکڑے یہ بداہۃً اپنے آپ کو ان کے ہاتھ میں دینا ہوگا اور انھیں خواہی نخواہی ان کے اشارے پر چلنا ان کی پس روی کرنی پڑےگی۔ 

اعتماد (عہ): یہ کہ گروہ مساوی سے یا رانہ گانٹھیں انھیں اپنا یاورو یار ومعین ومددگار بنائیں ان کی مدد وموافقت سے اپنے لئے غلبہ وعزت وکامیابی چاہیں یہ اگرچہ اپنے آپ کو ان کے رحم پر چھوڑ دینا نہیں مگر ان کی ہمدردی وخیروخواہی پر اعتماد یقینا ہے کوئی عاقل خون کے پیاسے دشمن بدخواہ کو معین وناصر نہ بنائے گا، یہاں مساوات کے یہی معنی نہیں کہ ہر طرح قوت میں ہمارا ہم سنگ ہو بلکہ خود سر گروہ کہ ہمارےہاتھ میں مجبور نہیں اور ہمارے ساتھ اظہار بدخواہی کرسکتاہے اسی شق میں ہے کہ باوصف خود سری اسے ناصر بنانا بے اعتماد نہ ہوگا۔ یہ دونوں صورتیں کفارکے ساتھ یقیناقطعا نصوص قطعیہ قرآنیہ سے حرام قطعی ہیں جن کی تحریم کو پہلی اور دوسری دوہی آیتیں کافی ووافی ہیں ہر گز کوئی مسلمان انھیں حلال نہیں کہہ سکتا۔
عہ: اعتماد ہر استعانت میں ہے اوریہاں یہ مراد کہ صرف اعتماد ہے استیلاء نہ ان کا نہ اپنا ۲ ۱منہ غفرلہ
استخدام: یہ کہ کافر ہم سے دباہو اس کی چٹیا ہمارے ہاتھ میں ہوکسی طرح ہمارے خلاف پر قادر نہ ہو، وہ اگرچہ اپنے کفر کے باعث یقینا ہمارا  بدخواہ ہوگا مگر بے دست وپا ہے ہم سے خوف وطمع رکھتا ہے خوف شدید کے باعث اظہار بدخواہی نہ کرسکے گا بلکہ طمع کے سبب مسلمان کے بارے میں نیک رائے ہوگا

الحمداللہ! یہ تقریر غفرلہ القدیر نے تفقہاً لکھی تھی پھرامام شمس الائمہ سرخسی کی شرح سیر صغیر امام محمد رضی اللہ تعالٰی عنہ دیکھی عظیم وجلیل تائید ملی، فائدہ خامسہ میں امام طحاوی وعلامہ یوسف حنفی کی عبارتیں سن چکے کہ جواز اس وقت ہے جب ہمارا ہی حکم غالب ہو اور امام ابوجعفر کاارشاد کہ ہمیں بلند وبالا ہوں اور وہ ہمارے تابع، بعینہٖ یہی شرط سیر صغر میں کہ کتب ظاہرالروایۃ سے ہے امام محمد نے سیدنا امام اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی کہ فرمایا:
سالتہ عن المسلمین یستعینون باھل الشرک علی اھل الحرب، قال لاباس بذٰلک اذا کان حکم الاسلام ھوالظاھر الغالب ۱؎۔
میں نے عرض کی کہ مسلمان اگر حربیوں پر مشرکوں سے مدد لیں تو کیسا ہے فرمایا مضائقہ نہیں بشرطیکہ اسلام ہی کاحکم روشن وزبردست ہو۔
(۱؎ المبسوط للسرخسی    باب آخر فی الغنیمۃ    دارالمعرفۃ بیروت    ۱۰/ ۱۳۸)
مشرکوں سے ذمی مراد ہیں کہ اس سے دو ورق پہلے فرمایا:
لاباس بان یستعین اھل العدل بقوم من اھل البغی واھل الذمۃ علی الخوارج اذاکان حکم اہل العدل ظاھرا ۲؎۔
اہل عدل کاباغیوں اورذمیوں سے خوارج کے خلاف مددلینے میں کوئی حرج نہیں ہے بشرطیکہ اہل عدل کاحکم غالب ہو۔ (ت)
(۲؎ المبسوط للسرخسی      باب الخوارج         دارالمعرفۃ بیروت     ۱۰/ ۱۳۴)
یہاں تو استخدام بتایا تھا  مگر اس کی تعلیل وہ فرمائی جس نے استخدام کی پوری تصویر بھی کھینچ دی اور اس کی نوعیت بھی بتادی کہ کس طرح کا استخدام ہو۔

کافر کو کتّا بناکر استعانت جائز ہے جب وہ ہمارے ہاتھ میں کتے کی طرح مسخر ہو۔

ارشاد ہوا:
لان قتالہم بھذہ الصفۃ لاعزاز الدین والاستعانۃ علیہم باھل الشرک کالاستعانۃ بالکلاب ۱؎۔
دو ورق پہلے فرمایا:
والاستعانۃ باھل الذمۃ کالاستعانۃ بالکلاب ۲؎۔
 (یعنی اس لیے کہ جب وہ اس حالت پر ہوں تو ان کا لڑنا ہمارے ہی دین کے اعزاز کو ہوگا اورحربیوں پر ان ذمی مشرکوں سے استعانت ایسی ہوگی جیسے شکار میں کتوں سے مدد لیتے ہیں دوسرے یہ کہ وہ ہمارے ہاتھ میں کتوں کی طرح مسخر ہوں کہ ان کا فعل ہمارے ہی لئے ہو ہمارے ہی دین کے اعزاز کے واسطے ہو)
 (۱؎ المبسوط للسرخسی    باب آخر فی الغنیمۃ        دارالمعرفۃ بیروت    ۱۰/ ۱۳۸)

(۲؎المبسوط للسرخسی      کتا ب السیر ۱۰/ ۲۳ باب الخوارج  دارالمعرفۃ بیروت     ۱۰/ ۱۳۴)
کتے سے شکار میں استعانت کب جائز ہوتی ہے جبکہ وہ وقت شکار سارا کام ہمارے ہی لئے کرے اس میں سے اپنے واسطے کچھ نہ کرے اگر شکار مارا اور ماشہ بھراس کا گوشت کھالیا شکار حرام ہے، تو استخدام بتایا اور وہ بھی سب سے ذلیل تر یعنی جیسے کتے سے خدمت لیتے ہیں اور شرط فرمادی کہ وہ خود سری سے یکسر نکل کر محض ہمارے لئے آلہ بن گئے ہوں یہ نہ ہوگا مگراسی صورت میں کہ ہم نے منقح کی واللہ الحمد۔

ذلیل وقلیل کافروں سے استعانت کی اجازت ہوگی نہ کہ انبوہ کثیر سے:

اقول اور اس کے لئے ضرور ہے کہ وہ معدودے چند ذلیل قلیل ہوں کہ بڑا گروہ ہوا تو ممکن کہ میدان میں پہنچ کر کافروں کا لشکردیکھ کر شرارت پر آئے اور پھن دکھائے ممکن کہ یہی حکمت ہو کہ روز احد چھ سو یہود کو واپس فرمادیا کہ یہ بڑا جتھا ہوا خصوصا ا س حالت میں کہ مسلمان صرف سات سو اور مغلطائی کی روایت میں چھ ہی  سو تھے اور غزوہ خیبر میں حسب (عہ) روایت واقدی صرف دس یہود کو ہمرا ہی کا حکم فرمایا کہ مسلمان ایک ہزار چار سوتھےاور غزوہ حنین میں تو صفوان جیسے ستر اسی بھی مان لیجئے تو کچھ نہ تھے کہ الہٰی لشکر بارہ ہزار تھا جس کی کثر ت کا ذکر خود قرآن عظیم میں ہے اسی طرف اشارہ ہے کہ ہمارے علماء ان مسائل میں ذمی وکافر بصیغہ مفرد لکھتے ہیں نہ بصیغہ جمع۔
عہ: اخرج الواقدی فی مغازیہ عن حرام بن سعد بن محیصہ قال خرج رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بعشرۃ من یھود المدینۃ غزابہم الی خیبر ۲؎ ۱۲ منہ غفرلہ
واقدی نے اپنے مغازی میں حرام بن سعد بن محیصہ سے راوی کہ انھوں نے کہا کہ حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام مدینہ کے دس یہودکو غزوہ خیبر میں ہمراہ لے گئے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
 (۲؎ کتاب المغازی للواقدی        غزوہ خیبر        منشورات موسسۃ الاعلمی للمطبوعات بیروت    ۲/ ۶۸۴)
استخدام کی چار صورتیں اور ان کے احکام کافرکو رازدار بنانا مطلقا حرام ہے۔

اب چارصورتیں ہیں:ـ

اول اس سے ایسی استعانت جس میں وہ ہمارا راز دار ودخیل کار بنے یہ مطلقاحرام ہے جس کے لئے پہلی آیہ کریمہ بس ہے، 

نیز فرماتاہے جل وعلا:
ام حسبتم ان تترکوا ولمایعلم الذین جاھدوا منکم ولم یتخذوا من دون اﷲ ولارسولہ ولا المؤمنین ولیجۃ ط واﷲخبیر بما تعملون ۱؎ o
کیا اس گھمنڈ میں ہو کہ یونہی چھوڑ دئے جاؤ گے اور ابھی وہ لوگ علانیہ ظاہر نہ ہوئے جو تم میں سے جہاد کریں اور اللہ ورسول ومسلمین کے سوا کسی کو اپنا راز دار ودخیل کار بنائیں اور اللہ تعالٰی تمھارے کاموں سے خبردار ہے۔
 (۱؎ القرآن الکریم                ۹/ ۱۶)
کافروں کو محرری پر نوکر رکھنے کی ممانعت:

ولہذا حدیث چہارم میں ان سے مشورہ لینا ناجائزفرمایا، تفسیر کبیرمیں کریمہ اولٰی کے تحت میں ہے:
ان المسلمین کانوایشاورونہم فی امورھم ویؤانسونہم لما کان بینہم من الرضاع والحلف ظنا منہم انہم وان خالفوھم فی الدین فہم ینصحون لہم فی اسباب المعاش فنہاھم اﷲ تعالٰی بھذہ الاٰیۃ عنہ۔ فمنع المؤمنین ان یتخذوا بطانۃ من غیر المومنین فیکو ن ذٰلک نھیا عن جمیع الکفار وقال تعالٰی ''یایھاالذین اٰمنوا لاتتخذوا عدوی وعدوکم اولیاء'' ومما یؤکد ذٰلک ماروی انہ قیل لعمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ ھٰھنا رجل من اھل الحیرۃ نصرانی لایعرف اقوی حفظا واحسن خطا منہ فان رأیت ان تتخذہ کاتبا فامتنع عمر من ذٰلک وقال اذن اتخذت بطانۃ من غیر المومنین ۱؎۔
یعنی کچھ مسلمان بعض یہود سے اپنے معاملات میں مشورہ کرتے اور باہم دل بہلاتے کہ کسی سے دودھ کی شرکت تھی کوئی کسی کا حلیف تھا یہ گمان کرتے تھے کہ وہ اگرچہ دین میں ہمارے خلاف ہیں دنیوی باتوں میں توہماری خیرخواہی کریں گے اس آیہ کریمہ میں رب العزت جل وعلا نے انھیں منع فرمایا اور حکم دیا کہ کسی غیر مسلم کو اپنا راز دار نہ بناؤ، تو یہ نہ صرف یہود بلکہ جملہ کفار سے ممانعت ہوئی اور اللہ تعالٰی عزوجل نے فرمایا: ''اے ایمان  والو! میرے اور اپنے دشمن کو یارنہ بناؤ'' اوراس کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے جو امیر المؤمنین عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہوئی کہ ان سے عرض کی گئی کہ شہر حیرہ میں ایک نصرانی ہے اس کا ساحافظہ اور عمدہ خط کسی کامعلوم نہیں حضور کی رائے ہو تو ہم اسے محرر بنائیں امیر المومنین نے اسے قبول نہ فرمایا اور ارشاد کیا کہ ایسا ہو تو میں غیر مسلم کو راز دار بنانے والا ٹھہروں گا۔
 (۱؎ مفاتیح الغیب (التفسیر الکبیر)    آیہ لاتتخذوابطانۃ الخ کے تحت    المطبعۃ البہیۃ المصریۃ مصر    ۸/ ۱۰ و ۲۰۹)
Flag Counter