Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۴(کتاب السیر)
105 - 150
امام طحاوی مشکل الآثارمیں فرماتے ہیںـ:
صفوان کان معہ لاباستعانتہ ایاہ منہ فی ذٰلک ففی ھذا مایدل علی انہ انما  امتنع من الاستعانۃ بہ وبامثالہ ولم یمنعہم من القتال معہ باختیار ھم لذلک ۱؎۔
یعنی صفوان خود ہی حضوراقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے ساتھ ہولئے تھے حضورنے ان سے استعانت نہ فرمائی، اس میں دلیل ہے اس پر کہ حضور مشرکوں سے استعانت سے باز رہتے تھے اور وہ اپنے اختیار سے ہمراہی میں لڑیں تو اس میں منع نہ فرماتے تھے۔
 (۱؎مشکل الآثار للطحاوی    باب بیان مشکل ماروی فی الاستعانۃ من الکفار    دارصادر بیروت    ۳/ ۲۳۹)
اسی میں ہے:
حدثنا ابوامیۃ قال حدثناء بشربن عمرالزہرانی قال قلت لما لک الیس ابن شہاب کان یحدث ان صفوان بن امیۃ سارمع رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فشہد حنینا والطائف وھو کافر قال بلی ولکن ھو سارمع رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ولم یأمرہ رسول اﷲ صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم بذٰلک ۲؎۔
ہم سے ابوامیہ نے حدیث بیان کی کہ ہم سے بشر بن عمر زاہرانی نے حدیث بیان کی کہ میں نے امام مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ سے گزارش کی کیا زہری یہ حدیث بیان نہ کرتے تھے کہ صفوان بن امیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ رکاب اقدس چل کر حنین وطائف کے غزووں میں بحالت کفر حاضر ہوئے، فرمایا ہاں مگر وہ خود رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے ہمرکاب ہولئے تھے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ان سے نہ فرمایا تھا۔
 (۲؎ مشکل الآثار للطحاوی    باب بیان مشکل ماروی فی الاستعانۃ من الکفار    دارصادر بیروت   ۳/ ۲۳۷)
علامہ جلال الدین ابوالمحاسن یوسف حنفی معتصر میں فرماتے ہیں:
لامخالفۃ بین حدیث صفوان و بین قولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لانستعین بمشرک لان صفوان قتالہ کان باختیارہ دون ان یستعین بہ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وان الاستعانۃ بالمشرک غیر جائزۃ لکن تخلیتہم للقتال جائزۃ لقولہ تعالٰی لاتتخذوا بطانۃ من دونکم والاستعانۃ اتخاذ بطانۃ وقتالہم دون استعانۃ بخلاف ذٰلک ۱؎۔ (مختصرا)
یعنی حدیث صفوان اور رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے اس ارشاد میں کہ ہم کسی مشرک سے مدد نہیں لیتے کچھ مخالفت نہیں کہ صفوان کا قتال کو جانا اپنے اختیار سے تھا، نہ یہ کہ رسو ل اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ان سے استعانت فرمائی ہے مشرک سے استعانت حرام ہے لیکن وہ خود لڑیں تو لڑنے دینا جائزہے اس لئے کہ رب عزوجل نے فرمایا غیروں کو اپنا راز دار نہ بناؤ مشرک سے استعانت کرنا اسے رازداربنانا ہے اور بلا استعانت خود اس کے لڑنے میں یہ بات نہیں۔ (مختصرا)
 (۱؎ المعتصر من المختصر ''فی الاستعانۃ بالمشرک''                 دائرۃ المعارف العثمانیۃ حیدر آباد دکن    ۱/ ۲۲۹)
استعانت جائز ہے تو صرف ذمی سے ہے حربی سے مطلقا حرام

فائدہ رابعہ: اقول یہ مسئلہ کہ ذمی اگر مسلمانوں کے ہمراہ قتال کرے یا راستہ بتائے تو سلطان اسے غنیمت سے کچھ عطا فرمائے جو مسلمانوں کے حصہ سے کم ہو اور راہ بتانے میں بقدر اجرت تمام متون مثل ہدایہ ووقایہ وتحفۃ الفقہاء وکنز ووافی و مختار واصلاح وغرر و ملتقی وتنویر اور ان کے سوا جن جن کتب میں اس کا ذکر ہے جیسے خزانۃ المفتین و اشباہ والنظائر وغیرہا سب میں ذمی کے ساتھ مقید ہے حتی کہ علامہ محمد بن عبدالرحمن دمشقی نے رحمۃ الامہ اور امام عبدالوہاب شعرانی نے میزان الشریعہ میں اسے ائمہ اربعہ رضی اللہ تعالٰی عنہم سے اسی قید کے ساتھ ذکر کیا، 

رحمۃ الامہ کی عبارت یہ ہے:
اتفقوا علی ان من حضرالغنیمۃ من مملوک اوامرأۃ اوصبی اوذمی فلہم الرضخ ۲؎۔
علماء کا اتفاق ہے کہ غلام یا عورت یا لڑکا یا ذمی جو غنیمت میں حاضر ہو تو انھیں کچھ دیا جائے گا پورا حصہ نہیں۔
 (۲؎ رحمۃ الامۃ فی اختلاف الائمۃ     کتاب السیر فصل اختلف الائمۃ ھل یملک الکفار الخ    مطابع قطرا لوطنیۃ قطر        ص۳۸۷)
بعض شراح نے اسی سے مسئلہ استعانت استنباط کیا، فتوائے شائع کردہ لیڈری نے درمختارکی یہ عبارت تو نقل کی:
مفادہ جواز الاستعانۃ بالکافر عند الحاجۃ ۳؎۔
اس سے سمجھا گیا کہ حاجت کے وقت کافر سے مددلینی جائزہے۔
 (۳؎ الدرالمختار            فصل فی کیفیۃ القسمۃ            مطبع مجتبائی دہلی        ۱/ ۳۴۳)
اور متن کی عبارت چھوڑ دی جو ضمیر مفادہ کا مرجع بتاتی کہ یہ کاہے کا مفاد ہے وہ عبارت یہ ہے:
لالعبد وصبی وامرأۃ وذمی ورضخ لہم اذاباشرواالقتال اوکانت المرأۃ تقوم بمصالح المرضی اودل الذمی علی الطریق ۱؎۔
غلام او رلڑکے اور عورت اور ذمی کے لئے غنیمت کاحصہ نہیں ہاں کچھ دیا جائے گا اگرلڑیں یا عورت مریضوں کی تیمار داری کرے یا ذمی راستہ بتائے۔
(۱؎ الدرالمختار        فصل فی کیفیۃ القسمۃ    مطبع مجتبائی دہلی    ۱/ ۳۴۳)
اس کے متصل بلافصل درمختار کی وہ عبارت ہے تو کافر سے مطلقا وہی مراد  جو متن میں مذکور ہے یعنی ذمی کہ حربی ہر گز اس کے معنی میں نہیں جس کے سبب بدلیل الویت یا مساوات تعمیم کرلی جائے اس کی نظیر ابھی عبارت قدوری وہدایہ سے گزری جن میں لفظ کافر تھا اور تمام اکابر نے تصریح فرمادی کہ کافر سے مراد ذمی ہے۔

ذمی میں بھی خاص کتابی سے استعانت جائزہے مشرک سے مطلقا حرام ہے

فائدہ خامسہ: امام اجل زینت حنفیت سیدنا احمد طحاوی رحمہ اللہ تعالٰی عنہ نے اس میں اور تخصیص فرمائی اور اسی کو حضرت سیدنا امام اعظم وجملہ ائمہ  حنفیہ کامذہب بتایاکہ مسئلہ استعانت کاکتابی سے خاص ہے، جہاد میں وقت حاجت دبے ہوئے یہودی یا نصرانی سے مدد لے سکتے ہیں مشرک سے اصلا جائز نہیں مشکل  الآثار میں استعانت بمشرک سے ممانعت کی حدیثیں روایت فرمائیں  پھر استعانت بہ یہود کی حدیث اعتراضاً وارد کی پھر اس سے جواب میں فرمایا:
لیس فی ذٰلک مایخالف شیئا مما رویناہ فی ھذاالباب لان الیہود لیسوامن المشرکین الذین قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی الاثار الاول انہ لانستعین بہم اولئک عبدۃ الاوثاب وھؤلاء اھل الکتب والغلبۃ لنا لانا الاعلون علیہم وھم اتباع لنا وھکذا حکمہم الاٰن عند کثیر من اھل العلم منہم ابوحنیفۃ واصحابہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم یقولون لاباس بالاستعانۃ باھل الکتاب فی قتال من سواھم اذا کان حکمنا ھوالغالب ویکرھون ذٰلک اذاکان احکامنا بخلاف ذٰلک ونعوذ باﷲ من تلک الحال ۱؎۔
وہ حدیثیں کہ اس باب میں ہم نے ذکر کیں یہ روایت ان سے کچھ مخالفت نہیں رکھتی اس لئے کہ یہود مشرک نہیں ہیں جن کے بارے میں نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اگلی حدیثوں میں فرمایا کہ ہم ان سے استعانت نہیں کرتے وہ بت پرست ہیں اور یہ کتابی ہیں اور یہ غلبہ ان پر ہمیں کو ہے کہ ہمیں ان پر بالادست ہیں اور وہ ہمارے تابع ہیں اور اب بھی اکثر علماء کے نزدیک ان کا یہی حکم ہے از انجملہ امام ابوحنیفہ اوران کے اصحاب رضی اللہ تعالٰی عنہم

وہ فرماتے ہیں کہ غیر کتابی کے مقابلہ میں کتابیوں سے مددلینے میں حرج نہیں جبکہ ہمارا ہی حکم غالب ہواور کتابیوں سے بھی مدد لینے کوناجائز رکھتے ہیں جبکہ حالت اس کے خلاف ہو یعنی وہ ہمارے تابع و پیرونہ ہوں اور اس حالت سے اللہ کی پناہ۔
 (۱؎ مشکل الآثار للطحاوی    باب بیان مشکل ماوری فی الاستعانۃ من الکفار    دارصادر بیروت        ۳/ ۲۴۰)
معتصر علامہ یوسف حنفی میں ہے:
الممتنع الاستعانۃ بالمشرک والیہود لیسوا من المشرکین ھکذا حکمہم عند ابی حنیفۃ واصحابہ اذاکان حکمنا ھوالغالب بخلاف مااذا لم یکن غالبا نعوذ باﷲ ۲؎ (ملتقطا)
مشرک سے استعانت ناجائز ہے اور یہود مشرک نہیں امام اعظم اور ان کے تلامذہ کے نزدیک یہی حکم ہے جبکہ ہمارا ہی حکم غالب ہو بخلاف اس کے کہ معاذاللہ ہمارا حکم ان پر غالب نہ ہو۔ (ملتقطا)
 (۲؎ المعتصر من المختصر    فی الاستعانۃ بالمشرک            دائرۃالمعارف العثمانیۃ حیدرآباد دکن    ۱/ ۲۲۹)
Flag Counter