Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۴(کتاب السیر)
104 - 150
بعض روایات کہ استعانت میں پیش کی جاتی ہیں ان کا حال:

فائدہ ثالثہ: بعض روایات کہ ان احادیث صحیحہ بلکہ آیات صریحہ کے مقابل پیش کی جاتی ہیں ان میں کوئی صحیح ومفید مدعائے مخالف نہیں۔ محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں انھیں ذکرکرکے فرمایا:
ولاشک ان ھذہ لاتقاوم احادیث المنع فی القوۃ فکیف تعارضھا ۱؎۔
کوئی شک نہیں کہ یہ روایتیں قوت میں احادیث منع کو نہیں پہنچتیں توکیونکر انکے معارض ہوسکتی ہیں۔
 (۱؎ فتح القدیر                کتاب السیر فصل فی کیفیۃ القسمۃ    مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۵/ ۲۴۳)
خودابوبکر حازمی شافعی نے کتاب الاعتبار میں حدیث صحیح مسلم دربارہ ممانعت روایت کرکے کہا:
وما یعارضہ لایوازیہ فی الصحۃ والثبوت فتعذرادعاء النسخ ۲.؎
اور اس کاخلا ف جن روایتوں میں آیا ہے وہ صحت وثبوت میں ان کے برابر نہیں تو ممانعت استعانت کومنسوخ ماننے کا ادعانا ممکن ہے۔
 (۲؎ نصب الرایۃ بحوالہ الحازمی فی کتاب الناسخ والمنسوخ     فصل فی کیفیۃ القسمۃ        کتب خانہ رشیدیہ دہلی    ۳/ ۴۲۴)
یہ اجمالی جواب بس ہے، اور مجمل کی تفصیل یہ کہ یہاں دو واقعے پیش کئے جاتے ہیں جن سے احادیث منع کو منسوخ بتاتے ہیں کہ وہ واقعہ بدرواُحد ہیں اور نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے غزوہ خیبر میں کہ ان کے کئی برس بعد ہے بعض یہود بنی قینقاع سے یہود خیبر پر استعانت فرمائی پھر سنہ ۸ہجری غزوہ حنین میں صفوان بن امیہ سے اور وہ اس وقت مشرک تھے تو اگر ان پہلے واقعات  میں نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا مشرک یا مشرکوں کو رد فرمانا اس بناء پر تھا کہ حضور کو رد قبول کااختیارتھا جب تو حدیثوں میں کوئی مخالفت ہی نہیں اور اگر اس وجہ سے تھاکہ مشرک سے استعانت ناجائز تھی تو ظاہر ہے کہ بعد کی حدیث نے ان کو منسوخ کردیا یہ تمام وکمال کلام امام شافعی رضی اللہ تعالٰی عنہ کا ہے کہ ان سے فتح اور فتح سے ردالمحتارمیں نقل کیا اور ناوافقوں نے نہ سمجھایہ بعینہٖ کتاب الاعتبار حازمی شافعی میں امام شافعی سے مروی ہے:
حیث قال قرأت علی روح بن بدر اخبرک احمد بن محمدبن احمد فی کتابہ عن ابی سعید الصیر فی اخبرنا ابوالعباس انا الربیع انا الشافعی قال الذی روی مالک  کماروی رد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم مشرکا ومشرکین فی غزوۃ بدر وابی ان یستعین الابمسلم ثم استعان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بعد بدر فی غزوۃ خبیر بیھود من بنی قینقاع کانوا اشداء واستعان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی غزوۃ حنین سنۃ ثمان بصفوان بن امیۃ وھو مشرک فالرد الاول ان کان بان لہ الخیار بان یستعین بمشرک و ان یردہ ''کما لہ ردالمسلم'' من معنی مخافۃ اولشدۃ بہ فلیس واحد من الحدیثین مخالفا للاخر وان کان ردہ لانہ لم یر ان یستعین بمشرک فقد نسخہ مابعدہ من استعانتہ بالمشرکین اذا خرجوا طوعا ویرضخ لہم ولایسہم لہم ولا یثبت عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم انہ اسہم لہم انتہی ۱؎۔
میں نے روح بن بدر پر پڑھا کہ آپ کو احمد بن محمد بن احمد نے اپنی کتاب میں ابو سعید صیر فی سے خبر دی کہ انھوں نے کہا ہمیں ابوالعباس نے خبر دی کہ ہمیں ر بیع نے خبر دی کہ ہمیں امام شافعی نے خبر دی کہ وہ جو امام مالک نے روایت فرمایا وہ ویسا ہی ہے جیسا انھوں نے روایت فرمایا، غزوہ بدر میں رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ایک مشرک اور دومشرکوں کو واپس فرمادیا اور غیر مسلم سے استعانت کرنا قبول نہ فرمایا، پھر نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے غزوہ بدر کے بعد غزوہ خیبر میں بنی قینقاع کے کچھ یہودیوں سے کام لیا کہ زورآور تھے اور سنہ ۸ہجری غزوہ حنین میں نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے صفوان بن امیہ سے جس وقت میں کہ وہ مشرک تھے کچھ امداد لی تو پہلا رد فرمادینا اگر اس بنا پر تھا کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو اختیار تھاکہ کسی مشرک سے کام لیں یا اسے واپس فرمادیں جیسا کہ انھیں مسلمان کے واپس فرمادینے کا اختیار ہے اس پر کسی خوف یا مشقت کے باعث، جب تو حدیثوں میں باہم کچھ اختلافات ہی نہیں اور اگر وہ واپس فرمادینا اس بناء پر تھاکہ حضو ر نے مشرک سے مددلینا ناجائز جانا توبعد کے واقعہ نے کہ مشرکوں سے کام لیا اسے منسوخ کردیا اور اس میں کوئی حرج نہیں کہ مشرکوں سے لڑنے میں مشرکوں سے مدد لے جبکہ وہ اپنی خوشی سے لڑنے کوچلیں اور غنیمت میں سے انھیں کچھ تھوڑا سا دیا جائے پوراحصہ نہ دیا جائے اورنبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے ثابت نہیں  کہ حضور نے انھیں پورا حصہ دیا ہوا نتہی (یہ تمام کلام امام شافعی کاہے)۔
 (۱؎ نصب الرایۃ بحوالہ الحازمی فی کتاب الناسخ والمنسوخ  فصل فی کیفیۃ القسمۃ کتب خانہ رشیدیہ دہلی۳/ ۴۲۴)
اس کے بعد جو فقرہ فتح میں ہے وہ بھی زیر قال الشافعی داخل،ا ور انھیں کا قول ہے جسے بیہقی شافعی نے ان سے روایت کیا۔

 نصب الرایہ میں ہے:
قال الشافعی ولعلہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم انما رد المشرک الذی ردہ فی غزوۃ بدر رجاء اسلامہ وقال وذٰلک واسع للامام ان یرد المشرک اویاذن لہ انتہی وکلام الشافعی کلہ نقلہ البیھقی عنہ ۱؎۔
امام شافعی نے فرمایا کہ وہ مشرک جسے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے غزوہ بدر میں واپس فرمایا تھا شاید یہ اس امید کی بناپر ہو کہ وہ اسلام لے آئے گا اور امام شافعی نے کہاسلطان اسلام کو گنجائش ہے چاہے مشرک کو واپس کردے یا اجازت دے انتہی اور امام شافعی کا یہ ساراکلام بیہقی نے ان سے روایت کیا۔
 (۱؎ نصب الرایۃ        کتاب التفسیر فصل فی کیفیۃ القسمۃ    کتب خانہ رشیدیہ دہلی            ۳/ ۴۲۴)
یہود سے استعانت کے پانچ جواب:

واقعہ یہود بنی قینقاع کا جواب تو واضح ہے جو محقق علی الاطلاق اور خود حازمی شافعی نے ذکر کیا کہ وہ روایت کیا اس قابل ہے کہ احادیث صحیحہ کے سامنے پیش کی جائے اس کا مخرج الحسن بن عمارۃ عن الحکم عن مقسم عن ابن عباس ہے قطع نظر انقطاع سے کہ حاکم نے مقسم سے صرف چار حدیثیں سنیں جن میں یہ نہیں، اورامام شافعی کے نزدیک منقطع مردود ہے، حسن بن عمارہ متروک ہے کما فی التقریب، اورمرسل زہری مروی جامع الترمذی ومراسیل ابی داؤد ایک تومرسل کہ امام شافعی کے یہاں مہمل اقول او رسند مراسیل میں ایک انقطاع حیوۃ بن شریح وزہری کے درمیان ہے،
تہذیب التہذیب میں امام احمد سے ہے:
لم یسمع حیوۃ من الزہری ۲؎۔
حیوۃ نے زہری سے کوئی حدیث نہ سنی۔
 (۲؎ تہذیب التہذیب    ترجمہ ۱۳۵ حیوۃ بن شریح        دائرۃ العمارف النظامیہ حیدر آباد دکن بھارت    ۳/ ۷۰)
دوسرے مرسل بھی زہری کا جسے محدثین پابرہواکہتے ہیں تیسرے ضعیف بھی کمافی الفتح (جیسا کہ فتح میں ہے۔ ت) 

یونہی بیہقی نے کہا:
اسنادہ ضعیف ومنقطع ۳؎۔
اس کی سند ضعیف اور بیچ میں کٹی ہوئی ہے۔
 (۳؎ نصب الرایۃ بحوالہ البیہقی    کتاب السیر فصل فی کیفیۃ القسمۃ    المکتبۃ الاسلامیہ ریاض            ۳/ ۴۲۲)
نصب الرایہ میں ہے:
انہا ضعیفۃ ۴؎
یہ سب روایتیں ضعیف ہیں۔
 (۴؎ نصب الرایۃ بحوالہ البیہقی    کتاب السیر فصل فی کیفیۃ القسمۃ    المکتبۃ الاسلامیہ ریاض     ۳/ ۴۲۳)
اقول اورکچھ نہ ہواس میں یہ تو ہے کہ:
اسہم النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لقوم من الیہود قاتلوا معہ ۱؎۔
نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ان یہودیوں کو جنھوں نے ہمراہ رکاب اقدس قتال کیا تھا حصہ عطا فرمایا ۔
 (۱؎ نصب الروایۃ    کتاب السیر فصل فی کیفیۃ القسمۃ    کتب خانہ رشیدیہ دہلی    ۳/ ۴۲۲)
اس سے استعانت کہاں  ثابت، ممکن کہ انھوں نے بطور خود قتال کیا ہو، اورپانچواں جواب امام طحاوی سے آتاہے کہ سرے سے قاطع استناد ہے۔

صفوان بن امیہ سے استعانت کے روشن جواب:

رہا قصہ صفوان رضی اللہ تعالٰی عنہ ان کا قبل از اسلام غزوہ حنین شریف میں ہمراہ رکاب اقدس ہونا ضرور ثابت ہے مگر ہر گز نہ ان سے قتال منقول نہ یہی کہ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ان سے قتال کو فرمایا ہو صرف اس قدر ہے کہ سو زرہ خود بکتر اور ایک روایت میں چار سو ان سے عاریۃً لئے اور وہ بطمع پرورش سرکار عالم مدار کہ مؤلفۃ القلوب سے تھے ہمراہ لشکر ظفر پیکر ہولئے ان کی مراد بھی پوری ہوئی اور اسلام بھی پختہ راسخ ہوگیا سرکار اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے غنائم سے اتنا عطا فرمایا اتنا عطا فرمایا کہ یہ بے اختیا رکہہ اٹھے:
واﷲ ماطابت بھذا الا نفس نبی ۲؎۔
خدا کی قسم اتنی عطائیں خوش دلی سے دینا نبی کے سوا کسی کاکام نہیں۔
 (۲؎ الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ    باب ص ف ترجمہ ۴۰۷۳        دارصادر بیروت    ۲/ ۱۸۷)
اشھدان لا الہ الا اﷲ واشہد ان محمد ا عبدہ ورسولہ (صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم)
امام ابن سعد طبقات پھر حافظ الشان عسقلانی اصابہ فی تمییز الصحابہ میں انہی صفوان رضی اللہ تعالٰی عنہ کی نسبت فرماتے ہیں:
لم یبلغنا انہ غزا مع النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ۳؎۔
ہمیں روایت نہ پہنچی کہ انھوں نے حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسل کی ہمراہی میں جہاد کیا ہو۔
 (۳؎ الاصابۃ فی تمیز الصحابۃ    باب ص ف ترجمہ ۴۰۷۳        دارصادر بیروت    ۲/ ۱۸۸)
Flag Counter