فضل بن موسٰی ومحمد بن عمرو بن علقمہ دونوں رجال جمیع صحاح ستہ سے ہیں ثقہ ثبت وصدوق اور یہ سعد بن منذر بن ابی حمید الساعدی ہیں کما فی مشکل الآثار، ابن حبان نے انھیں ثقات میں ذکر کیا، تقریب میں کہا مقبول ہیں۔
تہذیب التہذیب میں ہے:
روی عن جدہ وحمزۃ بن ابی اسید وعنہ محمد بن عمرو بن علقمۃ وعبدالرحمٰن بن سلیمن بن الغسیل ذکرہ ابن حبان فی الثقات ۳؎۔
انھوں نے اپنے دادا حضرت ابوحمید ساعدی رضی اللہ تعالٰی عنہ اور حمزہ بن اسید سے علم حاصل کیا اور ان سے محمد بن عمرو بن عقلمہ اور عبدالرحمن بن سلیمن ابن حضرت غسیل الملائکہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ابن حبان نے انھیں ثقات میں ذکر کیا۔
یہ حدیث طبرانی نے معجم کبیرومعجم اوسط میں بہ سند صحیح ابوحمید ساعدی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی۔
(۴؎ شرح الزرقانی علی المواہب المقصدا لاول غزوہ احد دارالمعرفۃ بیروت ۲/ ۲۵)
عہ: یہ طبرانی نے معجم کبیر ومعجم اوسط میں بہ سند صحیح ابوحمید ساعدی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی۔
حدیث ۴: عبد بن حمید وابویعلی وابناء جریر ومنذر وابی حاتم اور بیہقی شعب الایمان میں انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
امام حسن بصری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے اس کے معنی پوچھے گئے، فرمایا:
لاتستشیروا المشرکین فی شیئ من امورکم قال الحسن وتصدیق ذٰلک فی کتاب اﷲ یاایھا الذین لاتتخذوابطانۃ من دونکم لایالونکم خبالا ۲؎
ارشاد حدیث کے یہ معنٰی ہیں کہ مشرکوں سے اپنے کسی معاملہ میں مشورہ نہ لو، پھر فرمایا اس کی تصدیق خود کلام اللہ میں موجود ہے کہ فرمایا اے ایمان والو! غیروں کو اپنا راز دار نہ بناؤ وہ تمھاری بدخواہی میں کمی نہ کریں گے۔
(۲؎ شعب الایمان حدیث ۹۳۷۵ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۷/ ۴۰)
اقول یہ حدیث بھی اصول حنفیہ کرام پر حسن ہے، طبری کے یہاں اس کی سند یہ ہے:
حدثنا ابوکریب ویعقوب بن ابراہیم قالا حدثنا ھشیم اخبرنا العوام بن حوشب عن الازہر بن راشد عن انس بن مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ ۳؎۔
ابوکریب اور یعقوب بن ابراہیم نے ہمیں حدیث بیان کی اور کہا ہمیں ہشیم نے انھوں نے کہا ہمیں عوام بن حوشب نے ازہر بن راشد سے انھوں نے انس بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی۔ (ت)
(۳؎ جامع البیان (تفسیر ابن جریر) زیر آیہ لاتتخذوابطانۃ الخ المطبعۃ المیمنۃ مصر ۴/ ۳۸)
ابوکریب سے عوام بن حوشب تک سب اجلہ مشاہیر ثقہ عدول، رجال جملہ صحاح ستہ سے ہیں اور ازہر بن راشد رجال سنن نسائی وتابعین سے ہیں ان پر کسی(عہ) امام معتمد سے کوئی جرح ثا بت نہیں اور یہ کہ ان سے راوی صرف عوام بن حوشب ہیں جس کی بناء پر تقریب میں حسب اصطلاح محدثین نے مجہول کہا ہمارے نزدیک اصلا جرح نہیں خصوصا تابعین میں،
عہ: اماتضعیف ابن معین فلازہر بن راشد الکاھلی لافی ھذا البصری الراوی عن انس وقد فرق بینہما ابن معین فضعف الکاھلی لاھذا کما بینہ الحافظ المزی فی تھذیبہ والحافظ العسقلانی فی تقریبہ واما قول الازدی منکر الحدیث فالازدی نفسہ مجروح ضعیف بشدید التعنت فی الرجال معروف ثم قولہ منکر الحدیث جرح مبہم غیر مفسر کما نصوا علیہ ۱۲ منہ غفرلہ۔
لیکن ابن معین نے ضعیف کہا ہے تو ازہربن راشد کاہلی کو کہا ہے اس بصری راشد کو جو انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی ہے کی بابت نہیں کہا، ابن معین نے دونوں میں فرق کرتے ہوئے کاہلی کو ضعیف کہا ہے اس کو نہیں جیسا کہ حافظ مزی نے اپنی تہذیب میں اور حافظ عسقلانی نے اپنی تقریب میں بیان کیا ہے لیکن ازدی کا اس کو منکر الحدیث کہنا معتبر نہیں اس لئے کہ ازدی خود مجروح، ضعیف اور رجال حدیث پرطعن کرنیوالا مشہور ہے پھر منکر الحدیث کہنا یہ غیر واضح مبہم جرح ہے جیسا کہ علماء نقد نے تصریح کی ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
مسلم الثبوت میں ہے:
لاجرح بان لہ راویا واحدا وھو مجہول العین ۱؎۔ (ملتقطا)
یہ کوئی جرح کی بات نہیں کہ اس سے ایک ہی شخص نے روایت کی یا اسے مجہول العین کہتے ہیں۔
اور بعض نے کہا ایسا روای محدثین کے نزدیک مقبول نہیں اور یہ نری زبردستی ہے۔
(۲؎ فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت بذیل المستصفی مسئلہ مجہول الحال منشورات الشریف الرضی قم ایران ۲/ ۱۴۹)
فصول البدائع میں ہے:
العدالۃ فیما بین رواۃ الحدیث ھی الاصل ببرکتہ وھو الغالب بینہم فی الواقع کما نشاھدہ فلذا قبلنا مجہول القرون الثلثۃ فی الروایۃ ۳؎۔
راویان حدیث میں حدیث کی برکت سے عدالت ہی اصل ہے اور مشاہدہ شاہد کہ واقع میں ثقہ ہوناہی ان میں غالب ہے اس لئے قرون ثلثہ کے مجہول کی روایت ہمارےائمہ قبول کرتے ہیں۔