Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۴(کتاب السیر)
102 - 150
اقول اس پر خود سیاق کریمہ دال کہ قتل وقتال ہی کے منع ورخصت کا ذکر ہے یونہی عموم حکم نفس استثناء کا مفاد کہ مجاہرین متصلین بالمعاہدین ومعاہدین غیر جانبدارطرفین مستثنٰی فرمائے واللہ تعالٰی اعلم۔

استعانت بمشرکین کی تحریم پر صحیح حدیثیں :

فائدثانیہ: صحاح احادیث ناطق۔

حدیث ۱: صحیح مسلم وسنن اربعہ ومشکل الآثار امام طحاوی میں ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے ہے جب حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم بدر کو تشریف لے چلے سنگستان وبرہ میں (کہ مدینہ طیبہ سے چار میل ہے) ایک شخص جس کی جرأت وبہادری مشہور تھی حاضرہوا، اصحاب کرام اسے دیکھ کر خوش ہوئے، اس نے عرض کی: میں اس لئے حاضر ہوا کہ حضو رکے ہمراہ رکاب رہوں اورقریش سے جو مال ہاتھ لگے اس میں سے میں بھی پاؤں، حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
اتؤمن باﷲ ورسولہ
کیا تم اللہ ورسول پر ایمان رکھتاہے ؟ کہا: نہ۔ فرمایا: ''
فارجع فلن نستعین بمشرک'
' تو پلٹ جا ہم ہر گز کسی مشر ک سے مدد نہ چاہیں گے۔ پھر حضور تشریف لے چلے جب ذوالحلیفہ پہنچے (کہ مدینہ سے چھ میل ہے) وہ پھر حاضر ہوا، صحابہ خوش ہوئے کہ واپس آیا وہی پہلی بات عرض کی اورحضو رنے وہی جواب ارشاد فرمایا کہ کیا تو اللہ ورسول پر ایمان لاتاہے؟ کہا : نہَ فرمایا:
''فارجع فلن نستعین بمشرک''
واپس جا ہم ہر گز کسی مشرک سے مدد نہ لیں گے، پھر حضور تشریف لے چلے جب وادی میں پہنچے وہ پھر آیا اور صحابہ خوش ہوئے اس نے وہی عرض کی۔ حضور نے فرمایا: کیا تو اللہ ورسول پر ایمان لاتاہے؟ عرض کی : ہاں۔ فرمایا:
فنعم اذن ۱؎
ہاں اب چلو۔
 (۱؎ صحیح مسلم        کتاب الجہاد والسیر باب کراھیۃ الاستعانۃ فی الغزو الخ        قدیمی کتب خانہ کراچی    ۲/ ۱۱۸)

(مشکل الآثار للطحاوی باب بیان مشکل ماروی فی الاستعانۃ من الکفار            دارصادر بیروت    ۳/ ۲۳۷)
حدیث ۲: امام احمد وامام اسحق بن راہویہ مسانیداور امام بخاری تاریخ اور ابوبکر بن ابی شیبہ مصنف میں اور امام طحاوی مشکل الآثار اور طبرانی معجم کبیر اورحاکم صحیح مستدرک میں خبیب بن اساف رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ایک غزوہ (عہ۱) کو تشریف لئے جاتے تھے میں اور میری قوم سے ایک شخص حاضر ہوئے میں نے عرض کی: یا رسول اللہ(عہ۲)! ہمیں شرم آتی ہے کہ ہماری قوم کسی معرکہ میں جائے اورہم نہ جائیں( یہ قوم خزرج سے تھے کہ انصار سے ایک بڑا گروہ ہے) حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم دونوں مسلمان  ہوئے کہا : نہ۔ فرمایا:
فانالا نستعین بالمشرکین علی المشرکین
تو ہم مشرکوں سے مشرکوں پر مدد نہیں چاہتے۔ اس پر ہم دونوں  اسلام لائے اور ہمراہ رقاب اقدس شریک جہاد ہوئے ۲؎۔

حاکم نے کہا: یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔ یونہی تنقیح میں اس کے رجال کی توثیق کی۔
عہ۱: یہ غزوہ غزوہ بدر ہے کما فی اسدالغابہ ۱۲ منہ غفرلہ

عہ۲:  اقول یہ لفظ مستدرک میں ہے اور مشکل الآثار ومسند احمد میں نہیں قبل اسلام اس کا کہنا باعتبار عرف مسلمین ہوگا یایوں کہ اس وقت بھی ایقان تھا اگرچہ اذعان بعد کو ہوا ۱۲ منہ غفرلہ
 (۲؎مشکل الآثار للطحاوی باب بیان مشکل ماروی فی الاستعانۃ من الکفار            دارصادر بیروت  ۳/ ۲۳۹)
حدیث ۳: امام واقدی مغازی اورامام اسحق بن راہویہ مسند اور امام طحاوی مشکل الآثار اورطبرانی معجم کبیر ومعجم اوسط میں ابوحمید ساعدی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم روز احد تشریف لے چلے جب ثنیۃ الوداع سے آگے بڑھے ایک بھاری لشکر ملاحظہ فرمایا ارشاد ہوا : یہ کون ہیں؟ عرض کی گئی:ـ یہودی بنی قینقاع قوم عبداللہ بن سلام خلفائے عبداللہ بن اُبی (یہ لفظ طحاوی ہیں اور لفظ ابن راہویہ یوں ہی عرض کی گئی یہ عبداللہ بن اُبی ہے اپنے حلیفوں کے ساتھ کہ قوم عبداللہ بن سلام کے یہود ہیں، اور لفظ واقدی میں ہے یہ ابن اُبی کے حلیف یہودی ہیں اورلفظ طبرانی میں ہے یہ عبداللہ بن اُبی ہے چھ سو یہودیوں کے ساتھ کہ اس کےحلیف ہیں فرمایا : کیا اسلام لئے آئے؟ عرض کی: نہ۔ وہ اپنے دین پر ہیں۔ 

فرمایا:
قل لہم فلیرجعوا فانا لانستعین بالمشرکین علی المشرکین ۱؎۔
ان سے کہہ دو لوٹ جائیں ہم مشرکوں پر مشرکوں سے مدد نہیں لیتے۔
 (۱؎ مشکل الآثار  للحطاوی     باب بیان مشکل ماروی فی الاستعانۃ من الکفار    دارصادر بیروت    ۳/ ۲۴۱)
اقول یہ حدیث بھی حسن صحیح ہے مسند امام اسحق میں اس کی سند یوں ہے:
اخبرنا الفضل بن موسٰی عن محمد بن عمرو بن علقمۃ عن سعد بن المنذر عن ابی حمید الساعدی رضی اﷲ تعالٰی عنہ ۲؎۔
ہمیں خبر دی فضل بن موسی نے محمد بن عمرو بن علقمہ سے انھوں نے سعد بن منذر سے انھوں نے ابوحمید ساعدی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے۔
 (۲؎ نصب الرایہ     بحوالہ اسحاق بن راہویہ فی مسندہ کتاب السیر    کتب خانہ رشیدیہ دہلی    ۳/ ۴۲۳)
Flag Counter