ان عبادۃ بن الصامت کان لہ حلفاء من الیھود فقال یوم الاحزاب یارسول اﷲ معی خمسمائۃ من الیھود وقدرأیت ان استظہربہم علی العدوفنزلت ھذہ الاٰیۃ وقولہ (لایتخذ المؤمنون) الاٰیۃ یعنی انصار ا واعوانا (من دون المؤمنین) یعنی من غیر المؤمنین والمعنی لایجعل المؤمن ولایتہ لمن ہو غیر مؤمن نھی اﷲ المؤمنین ان یوالوا الکفار اویلا طفوھم لقرابۃ بینہم اومحبۃ اومعاشرۃ والمحبۃ فی اﷲ والبغض فی اﷲ باب عظیم واصل من اصول الایمان ۱؎۔
یعنی عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالٰی عنہ کے کچھ یہودی حلیف تھے غزوہ احزاب میں انھوں نے عرض کی : یارسول اللہ! میرے ساتھ پانسویہود ی ہیں میری رائے ہوتی ہے کہ دشمن پر ان سے مددلوں، اس پر یہ آیہ کریمہ اتری کہ مسلمان غیرمسلم کو مدد گار نہ بنائیں کہ یہ مسلمانوں کوحلال نہیں اللہ تعالٰی نے مسلمانوں کو منع فرمایا کہ رشتے، خواہ یارانے، خواہ نرے میل کے باعث کافروں سے دوستانہ برتیں یا ان سے لطف ونرمی کے ساتھ پیش آئیں اور اللہ تعالٰی کے لئے محبت اور اللہ تعالٰی کے لئے عداوت ایک عظیم باب اور ایمان کی جڑ ہے۔
(۱؎ لباب التاویل (تفسیر الخازن) تحت آیہ ۳/ ۲۸ مصطفی البابی مصر ۱/ ۳۳۶)
مدارک شریف پار ہ ۶ میں ہے:
ای لاتتخذوھم اولیاء تنصرونہم تستنصرونھم وتوأخونہم وتعاشرونہم معاشرۃ المؤمنین ۲؎۔
یعنی رب عزوجل فرماتاہے کافروں کو دوست نہ بناؤ کہ تم ان کے معاون ہو، اور ان سے اپنے لئے مدد چاہو انھیں بھائی بناؤ، دنیوی برتاؤ ان کے ساتھ مسلمانوں کا سارکھو، اس سب سے منع فرماتاہے ۔
المراد ان اﷲ تعالٰی امرالمسلم ان لایتخذالحبیب والناصر الامن المسلمین ۳؎۔
یعنی مراد آیت یہ ہے کہ اللہ تعالٰی مسلمانوں کو حکم فرماتاہے کہ صرف مسلمانوں ہی کو اپنا دوست مدد گار بنائیں۔
(۳مفاتیح الغیب( التفسیر الکبیر) تحت آیۃ انما ولیکم اللہ ورسولہ الخ المطبعۃ البہیۃ المصریۃ مصر ۱۲/ ۳۰)
اسی میں ہے:
یعنی لا تتخذوھم اولیا ء ای لا تعتمدوا علی الاستنصار بھم ولا تتوددواالیھم۱۔
یعنی مراد آیت یہ ہے کہ کافروں کی مدد ویاری پر اعتماد نہ کرو ۔
(۱؎ مفاتیح الغیب (التفسیر الکبیر ) زیرآیہ لا تتخذواالیہودالخ المطبعۃ البہیۃ المصریۃ مصر ۱۲/ ۱۶)
تفسیر ابی السعود وتفسیر فتوحا ت الہیہ میں زیر آیہ مذکورہ ہے :
نھوا عن موالاتھم لقرابۃ او صداقۃ جاھلیۃ ونحوھما من اسباب المصادقۃ والمعاشرۃ وعن الاستعانۃ بھم فی الغزو وسائر الامور الدینیۃ ۲۔
یعنی مسلمان منع کئے گئے کافروں کی دوستی سے خواہ وہ رشتہ داری ہی ہو یا اسلام سے پہلے کا یارانہ یا کسی سبب یاری خواہ میل جول کے سبب اور منع کئے گئے اس سے کہ جہاد یا کسی دینی کا م میں کافروں سے استعانت کریں ۔
(۲؎ ارشاد العقل السلیم (تفسیر ابی السعود) زیرآیہ لا یتخذالمؤمنون الکافرین اولیاء الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۳۲)
آیت نمبر ۴:
فان تولوا فخذوھم واقتلوھم حیث وجدتموھم ولاتتخذوامنھم ولیا ولانصیر ا۳
اگرکافر ایمان لا نے سے منہ پھیریں توانھیں پکڑو اورجہاں پاؤ قتل کرو اور ان میں کسی کو دوست نہ بناؤ نہ مددگار ۔
(۳؎ القرآن الکریم ۴/ ۸۹)
اس آیہ کریمہ میں ولی کے ساتھ لفظ نصیر خود ہی صاف ارشاد ہےکہ انھیں دوست ٹہہرانا بھی حرام اور مددگار بنانا بھی حرام ہے۔
تفسیر مدارک التنزیل میں ہے :
اگروہ ایمان لا نے سے منہ پھیریں توانھیں پکڑو اورجہاں پاؤمارو اور ان میں کسی کونہ دوست بناؤ نہ مددگار ۔ اور اگر وہ بلامعاوضہ بھی تمھاری دوستداری ومددگاری بگھاریں جب بھی قبول نہ کرو مگر جو اہل معاہدہ سے ملے یہ پکڑنے اور قتل کرنے سے استثناء ہے نہ دوستی سے کہ وہ تو ہر کافر سے مطلقا حرام ہے ۔
استثناء من مفعول فاقتلوھم لامن قولہ ولاتتخذوا منہم ولیا ولانصیرا وان کان اقرب مذکور لان اتخاذ الولی منہم حرام بلااستثناء بخلاف قتلہم ۵۔
معاہدوں سے ملنے والوں کا استثناء ان سے ہے جن کی بابت حکم فرمایا تھا کہ انھیں قتل کرو، اس ارشاد سے استثناء نہیں کہ ان میں نہ کسی کو دوست بناؤ نہ مددگار اگرچہ ذکر میں یہی قریب تر ہے ا س واسطے کہ کافروں سے کسی کو دوست بنانا بلا استثناء حرام ہے بخلاف ان کے قتل کے کہ اس سے معاہدین مستثنٰی ہیں۔
(۵؎ تفسیر کرخی)
تفسیر عنایۃ القاضی میں ہے:
قال الطیبی لامن الضمیر فی ولاتتخذوا وان کان اقرب لان اتخاذ الولی منہم حرام مطلقا ۱؎۔
طیبی نے کہا دوست یا مددگار بنانے کی ممانعت سے استثناء نہیں اگرچہ وہ قریب تر ہے اس لئے کہ کافروں میں سے کسی کو دوست بنانا مطلقا حرام ہے اگرچہ معاہد ہو۔
(۱؎ عنایۃ القاضی علی تفسیر البیضاوی زیر آیۃ ۴/ ۸۹ دار صادر بیروت ۳/ ۱۶۵)