| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۴(کتاب السیر) |
چہارم: اصل مقصود سلف گورنمنٹ ہے جس کی صاف تصریح بڑے بڑے(عہ۱) لیڈران نے کردی اس میں اپنی کمزوری بلکہ عجز دیکھ کر مشرکوں کا دامن پکڑااپنا یاروانصار بنایا اوروں کو چھوڑئے مولویوں میں گنے جانے والے لیڈرفرماتے ہیں ''ہم(عہ۲) تو ہندوستان کی آزادی کو ایک فرض اسلامی سمجھتے ہیں اس کے لئے ضرورت ہے کہ عام اتحاد ہو اور پوری کوشش سے مقصد حاصل کیا جائے حالانکہ مشرکوں سے ایسی استعانت نص قرآنی کے خلاف اور قطعا حرام بلکہ صراحۃً قرآن کریم کی تکذیب ہے۔
عہ۱: مثل شوکت علی ومحمد علی وابوالکلام آزاد ۱۲ حمشت علی غفرلہ عہ۲: وہی خطبہ صدارت مولوی عبدالباری صاحب ۱۲ حشمت علی غفرلہ
ہم اس بحث کو بعونہٖ چند فوائد میں روشن کریں: مشرکوں سے استعانت کی بحث جلیل ہے: فائدہ اولٰی آیات کریمہ: قرآن کریم نے منع موالات کفار کو بکثرت آیات میں ارشاد فرمایا وہ سب ان کو مدد گار بنانے سے ممانعت ہیں یہ اعلٰی درجہ موالات میں ہے، ولہذا کبار مفسرین نے جابجا ولی کو ناصر اور ولایت کو نصرت ومعونت ومظاہرت سے تفسیر کیا، مگر ہم یہاں صرف ان بعض آیات پر اقتصار کریں جو اپنے سوق نظم یا شان نزول سے اس مقصود کو بالخصوص افادہ فرمارہی ہیں: استعانت بمشرکین کے حرام ہونے پرآیات قرآنیہ
آیت نمبر۱:
یایھاالذین اٰمنوا لاتتخذوا بطانۃ من دونکم لایالونکم خبالا ودواماعنتم قد بدت البغضاء من افواھہم وماتخفی صدورھم اکبر قد بینا لکم الایت ان کنتم تعقلون ۱؎ o
اے ایمان والو! اپنے غیروں کو راز دار نہ بناؤ وہ تمھاری بدخواہی میں کمی نہ کریں گے ان کی دلی تمنا ہے تمھارا مشقت میں پڑنا، دشمنی ان کے مونہوں سے ظاہر ہوچکی ہے اور وہ جو ان کے سینوں میں دبی ہوئی ہے اور بڑی ہے بیشک ہم نے تمھارے سامنے نشانیاں صاف بیان فرمادیں اگر تمھیں عقل ہو۔
(۱؎ القرآن الکریم ۳/ ۱۱۸)
لیڈران نے اس آیہ کریمہ کو کیسا کیسا رد کیا کس کس طرح جھٹلایا: یہ آیہ کریمہ اپنے ایک ایک جملے سے اس طوفان بدتمیزی کو جو آج مشرکین ہند سے لیڈران برت رہے ہیں رد فرماتی ہے: ا۔ حالت کمزوری وعجز میں مدد کے لئے جس کسی کی طرف التجا لائی جائے ضرور ہے کہ اسے اپنا رازد ار بنایا جائے اور رب عزوجل فرماتاہے: کسی کافر کو راز دار نہ بناؤ، یہ واحد قہار کی نافرمانی ہوئی، ب۔ ظاہر ہے کہ اسے اپنا خیرخواہ سمجھا گیاکہ بدخواہ کے دامن میں کوئی نہ چھپے گا اور رب عزوجل فرماتاہے: وہ تمھاری بدخواہی میں کمی نہ کریں گے، یہ اللہ تعالٰی کی تکذیب ہوئی۔ ج۔ مصیبت میں التجا واستمداد اسی سے ہوگی جسے جانا جائے کہ ہمیں مشقت سے بچائے گا،ا ور رب عزوجل فرماتاہے : ان کی دلی تمناہے تمھارا مشقت میں پڑنا، یہ دوسری تکذیب ہوئی۔ د۔ چھپا دشمن جس سے اثر عداوت کبھی ظاہر نہ ہوا آدمی ا س کے دھوکے میں آسکتاہے اور جس کے منہ سے بغض کھل چکا ا س سے قطعی احتراز کرے گا، رب عزوجل نے فرمادیا تھا کہ دشمنی ان کے منہ سے ظاہر ہوچکی پھر بھی ان کی محبت نے وہ اندھا بہر ا کردیا کہ نہ اللہ تعالٰی کی سنی نہ ان کے منہ سے چھلکی یاد رہی۔ ہ۔ اگر ایک خفیف حدکی مخالفت ورنجش ظاہر ہوتی اور اطمینان ہوتاکہ دل میں اس سے زائد نہیں تو کچھ گنجائش ہوسکتی کہ یہ ہمارا اس حد کا بدخواہ نہیں جوایسی بھاری مصیبت میں ساتھ نہ دے اس خیال ارذل کو رب عزوجل نے ان تینوں جملوں سے رد فرمادیا کہ وہ کوئی ہلکے مخالف نہیں تمھاری بدخواہی میں کمی نہ کریں گے، یہ گمان نہ کرنا کہ وہ کسی سخت سے سخت مصیبت میں تم پر کچھ ترس کریں گے ان کی دلی تمناہے کہ تم مشقت میں پڑو کوئی خفیف رنجش ان کے منہ سے ظاہر نہ ہوئی بلکہ بغض اور پور ی دشمنی بَیر عداوت، اور اس پر چوتھا جملہ یہ ارشاد فرمادیا کہ ا س پر بس نہ جانو کہ ان کے دلوں کی دبی اور سخت ترہے مگر انھوں نے اس واحد قہار کریم مہربان پروردگار کی ایک نہ مانی اور جملے جملے کی تکذیب ہی ٹھانی ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔
آیت نمبر ۲:
بشر المنفقین بان لہم عذابا الیما ۱؎ o الذین یتخذون الکفرین اولیاء من دون المؤمنین ایبتغون عندھم العزۃ فان العزۃ ﷲ جمیعا ۱؎۔
اے محبوب! خوشخبری دو منافقوں کو کہ ان کے لئے دردناک عذاب ہے، وہ جو مسلمانوں کے سوا کافروں کو مددگار بناتے ہیں، کیا ان کے پاس عزت ڈھونڈتے ہیں عزت تو ساری اللہ کے قبضے میں ہے۔
(۱؎ القرآن الکریم ۴/ ۱۳۹)
ظاہر ہے کہ کمزوری میں کسی کی مدد چاہنے کا یہی مطلب ہوتاہے کہ ا س کے بل بازو سے ہمیں قوت ملے گی ہماری کمزوری وذلت، غلبہ وعزت سے بدلے گی، اللہ عزوجل فرماتاہے: یہ ان کی بدعقلی ہے کافروں کی مدد سے غلبہ وعزت کی تمنا ہوس باطل ہے۔ اورفرماتاہے کہ ایسا کرنے والے منافق ہیں اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔ تفسیر ارشاد العقل السلیم میں اسی آیہ کریمہ کے تحت ہے:
بیان لخیبۃ رجائہم ایطلبون بموالاۃ الکفر القوۃ والغلبۃ (فان العزۃ ﷲ جمیعا) تعلیل لبطلان رأیھم فان انحصار جمیع افراد العزۃ فی جنابہ عزوعلا بحیث لاینا لھا الا اولیاء ہ قال وﷲ العزۃ ولرسولہ وللمؤمنین یقضی ببطلان التعزز بغیرہ واستحالۃ الانتفاع بہ ۲؎ (مختصرا)
اس آیت میں ان کی نامرادی کا بیان ہے جو کافروں سے استعانت کرتے ہیں، فرماتاہے کیا کافروں کی دوستی سے غلبہ وقوت چاہتے ہیں عزت تو ساری اللہ کے لئے ہے اس میں ان کی رائے فاسد ہونے پر دلیل فرمائی کہ جب تمام عزتیں حضرت عزت کےلئے خاص ہیں کہ اس کے دوستوں کے سواکسی کو نہیں مل سکتیں کہ اللہ تعالٰی فرماتاہے عزت صرف اللہ تعالٰی ورسول اور مسلمانوں کے لئے ہے تو اس سے واجب ہو ا کہ غیروں سے عزت چاہنا باطل اور ان سے نفع پہنچنا محال (مختصرا)
(۲؎ ارشاد العقل السلیم (تفسیر ابی السعود) تحت آیۃ ۴/ ۱۳۸ ،۱۳۹ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۲۴۴)
آیت نمبر ۳:
لایتخذالمؤمنون الکفرین اولیاء من دون المؤمنین ومن یفعل ذٰلک فلیس من اﷲ فی شیئ ۳؎۔
مسلمان، مسلمانوں کے سوا کافروں کو مدد گار نہ بنائیں اور جو ایسا کرے گا اسے اللہ سے کچھ علاقہ نہیں۔
(۳؎ القرآن الکریم ۳/ ۲۸)