Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
99 - 175
بابُ الحضانۃ

(پرورش کا بیان)
مسئلہ۱۳۵: ۲۴رجب ۱۳۰۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مسمی زید نے رحلت کی، دوپسر نابالغ زوجہ اولیٰ سے جو زید کے روبرو فوت ہوچکی ہے اور تین دختر زوجہ ثانیہ سے جو حی و قائم ہے وارث چھوڑے، اب دربارہ ان بچوں نابالغان کے ولایت کی فکر در پیش ہے، نابالغان مذکورین کے اجداد میں دو شخص موجود ہیں ایک مسمی عمرو دادا کا چچازاد بھائی، دوسرا بکر دادا کا ماموں زاد بھائی جس کو مسمی زید مورث کی حقیقی ہمشیرہ جوان پانچوں نابالغان کی حقیقی پھوپھی ہے منسوب ہے، اور تین پھوپھی حقیقی بیاہی ہندہ و معصومہ و صدیقہ اور دختران مذکورین کی والدہ اور پسران مذکورین کی نانی وماموں موجود ہیں پس اس صورت میں ان پانچوں نابالغان کی ولایت کا استحقاق کس کس شخص کو مرتبہ حاصل ہے۔ بینواتوجروا۔
الجواب
صورت مستفسرہ میں دونوں کا حقِ حضانت ان کی نانی کو ہے کہ سات۷ برس کی عمر تک اس کے پاس رہیں گے جوانی تک عمرو کے پاس کہ دادا کا چچا زاد بھائی ہے رکھے جائیں گے۔
درمختار میں ہے:
الحاضنۃ امااو غیرھا احق بالغلام حتی یستغنی عن النساء وقدربسبع وبہ یفتی۱؎۔
پرورش کرنے والی ماں ہو یا کوئی اور، وہ لڑکے کی حقدار ہوگی جب تک لڑکا عورت کی پرورش سے مستغنی نہیں ہوجاتا اور یہ مدت اندازاً سات سال ہے اور اسی پر فتوٰی دیا جائے گا۔
 (۱؎ درمختار     باب الحضانۃ    مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۲۶۵)
ردالمحتار میں ہے:
اذااستغنی الغلام فالعصبۃ اولی یقدم الاقرب فالاقرب۲؎۔
جب بچہ مستغنی ہوجائے تو پھر درجہ بدرجہ عصبات اس کے حقدار ہیں، قریب ترین کو تقدم حاصل ہوگا۔(ت)
 (۲؎ ردالمحتار     باب الحضانۃ   داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۶۴۱)
اور لڑکیوں کی شادی ہوجائے وہ شوہروں کے قابل ہوں تو شوہروں کے پاس رہیں گی ورنہ نوبرس کی عمر تک ماں کے پاس، پھر اگر ان کے محارم میں کوئی مرد عاقل بالغ مثل حقیقی ماموں وغیرہ کے ہوگا تو اس کے سپرد کی جائیں گی ورنہ جوانی تک ماں ہی رکھے گی،
درمختارمیں ہے:
الام والجدۃ احق بالصغیرۃ حتی فی ظاھر الروایۃ وغیرھما احق بھا حتی تشتھی وقدر بتسع وبہ یفتی وعن محمد ان الحکم فی الام والجدۃ کذٰلک وبہ یفتی لکثرۃ الفساد زیلعی وافاد انہ لاتسقط الحضانۃ بتزوجھا مادامت لاتصلح للرجال،۳؎ملخصاً۔
لڑکی کی حقدار اس کی ماں یا دادی ہے جب تک وہ بالغ نہ ہوجائے،یہ ظاہر روایت ہے، اور ماں اور دادی کے غیر ہوں تو پھر وہ لڑکی کے مشتہاۃ ہونے تک حقدار ہوں گے، یہ مدت اندازاً نوسال ہے،اور اسی پر فتوٰی دیا جائے گا، اور امام محمد رحمہ اﷲ تعالٰی سے مروی ہے کہ ماں اور دادی کےلئے بھی یہی حکم ہے اور اسی پر فتوٰی دیا جائے گا فتنہ کی کثرت کی وجہ سے،زیلعی___اور اس عبارت سے معلوم ہوا کہ عورت کا حقِ حضانۃ (پرورش) نکاح کی وجہ سے ساقط نہ ہوگا جب تک لڑکی مرد کے قابل نہیں ہوجاتی،ملخصاً(ت)
 (۳؎ درمختار    باب الحضانۃ    مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۲۶۵)
ردالمحتار میں ہے:
فان صلحت تسقط الخ۴؎۔
جب بچی مرد کے قابل ہوجائے تو پرورش کرنے والی کا حق ساقط ہوجائے گا الخ(ت)
 (۴؎ ردالمحتار     باب الحضانۃ    داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۶۴۱)
اقول واخترنا ظاہرالروایۃ حین لامحرم لھا لانھا ھی المتعینۃ حِ للفتیافان نشوھا فی حضن امھا خیر لھا والنظر من ترکھا ضائقۃ لاحاضن لھا وقد علمت ان لاحق لغیر محرم فی حضانتھا۔
اقول(میں کہتا ہوں) ہم ظاہرروایت کو ہی ترجیح دیں گے، جب بچی کا کوئی محرم ولی نہ ہواور یہ ظاہر روایت ہی فتوٰی کے لئے متعین ہے کیونکہ اس صورت میں بچی کا اپنی ماں کے پاس نشوو نما پانا بہتر ہے اورماں کو چھوڑنے میں بچی پر کمزور شفقت ہوگی جبکہ اس کا کوئی پرورش کرنے والا محض نہ ہو حالانکہ آپ جانتے ہیں کہ غیر محرم کو بچی کاحقِ حضانت نہیں ہے۔(ت)
اور ان پانچوں نابالغوں کے نکاح کی ولایت عمروہی کوہے
لان العصبۃ لاغیر
(کیونکہ ان کے علاوہ کوئی عصبہ نہیں۔ت) اور ماں کی ولایت ان مذکورین میں سے کسی کو نہیں
لاختصاصھا بالاب ووصیہ والجد ووصیہ والحاکم الشرعی
(یہ ولایت باپ اور اس کے وصی یا دادا  اور اس کے وصی اور شرعی حاکم کے ساتھ خاص ہے۔ت) ہاں اگر زید ان لوگوں خواہ ان کے غیر میں سے کسی کو اپنی جائداد کے حفظ و نگہداشت یا اولاد کے غور و پر داخت کے لئے کہہ گیا ہوتو ولایتِ مال اسے ہوگی
لکونہ وصیاعلیھم
(کیونکہ وہ ان پر وصی مقر رہوا۔ت)
واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
Flag Counter