| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر ) |
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کا عقد ہندہ سے واقع ہوا، مگر بموجب رواجِ ہندوستان رسمِ رخصت عروس عمل میں نہ آئی اور زید وہندہ دونوں بالغ تھے اور ایک ہی مکان میں سکونت پذیر تھے اور اس مکان میں غیرمردوں کا بھی گزرتھا اہل کفومیں سے نامحرم لوگ آتے جاتے تھے، یکایک ہندہ کو حمل رہ گیا، اس نے اس کو پوشیدہ رکھا یہاں تک کہ وضعِ حمل قریب آگیا، جب لڑکا پیداہوا تو لوگوں کو نہایت تعجب آیا، الغرض مولود تو اسی دم مرگیا اور ہندہ سے مستورات نے بطورِ خود دریافت کیا کہ یہ حمل کس کاہے، ہندہ نے اپنے اعزّہ میں سے ایک شخص کا نام لیا اور اس قضیہ کو عرصہ قریب چار سال کے گزرگیا، پس شوہر اس کا بسبب اس فعل شنیع کے اس سے ناراض ہے، ہندہ کو اپنے عقد میں رکھنا نہیں چاہتا، بظاہر زن وشو میں مقاربت و مواصلت واقع نہ ہوئی، مگر پوشیدہ طور پر ممکن ہے کہ وہ حمل زید کا ہو، چونکہ رسم رخصت عمل میں نہ آئی تھی شایدبوجہ لحاظ وشرم غیرکانام ظاہرکردیا ہو اور زید کا نام نہ لیا ہو۔ اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ زید سے ہندہ کو طلاق دلوائی جائے تو عدت ہندہ کی کَے ماہ کی ہوگی؟اور درباب مہر کے بھی ارشاد ہو کہ بذمہ زید کس قدر واجب ہے؟بینواتوجروا۔
الجواب صورت مستفسرہ میں اگرچہ دنیوی خیالات کو بہت وسعت ہے،اہلِ بدگمانی کے نزدیک ناراضی زید جدا خبر دے رہی ہے کہ اپنا ہوتا تو وہ خود جانتا، اور ہندہ کا دوسرے کی طرف نسبت کرنا جدا۔ پھر اسے یوں بنانا کہ بوجہ عدم رخصت شرم دنیا کے سبب شوہر کا نام نہ لیابہت پوچ عذر ہے، آخر قبل رخصت جماع حلال ہونا اہلِ دنیا کے نزدیک زنا سے زیادہ شرم کی بات نہیں، یہ خیالات بدگمانیوں کو بہت تائید دیں گے، مگر حاشا شرع مطہر انہیں اصلاً مقبول نہیں فرماتی اور قطعاً حکم دیتی ہے کہ لڑکا شوہر ہی کا تھا، حضور پُر نور سید المرسلین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
الولد للفراش وللعاھرالحجر۲؎
(بچہ نکاح والے کا ہے اور زانی محروم ہے۔ت)
(۲؎ صحیح بخاری باب الولدللفراش الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۹۹۹) (مسند احمد بن حنبل دارالفکر بیروت ۲ /۴۰۹)
جب شریعت نے مرد مغربی و زن مشرقی کے مسئلہ میں باوجود بعد المشرقین باحتمال کرامت یا استخدام جن بچہ شوہر ہی کا ٹھہرایا تو زید وہندہ تو ایک ہی مکان میں رہتے تھے یہاں کیونکر ممکن کہ بے ثبوتِ قطعی شرعی فلاں کا معاذاﷲ زانی یا باوجود فراش صحیح بچہ کو ولدالحرام قرار دیں۔ رہا ہندہ کا فلاں کی نسبت کردینا، ممکن ہندہ کو اس سے کوئی عداوت ہوا ور شاید وہ رنجش اسی بنا پر پیدا ہوئی ہو کہ ہندہ نے اس سے بدنگاہی پائی، مانع آئی، کارگر نہ ہوا، دشمن ہوگئی، اور بوجہ شدت غیظ اس خیال سے کہ اولیائے ہندہ یہ امر عظیم سن کر حتّی المقدور ا س شخص کے درپے آزار ہوں گے، اس تہمت کی مرتکب ہوئی، اپنا بھی صریح ضرر سہی، اہل مکر وحیلہ سے اس قسم کی بات کا صدور کچھ عجب نہیں جس میں ا ن کے دشمن کو ایذا پہنچے اگرچہ خودبھی۔۔۔۔۔۔ عہ
ان کیدکن عظیم۱؎
(بیشک تمہارا چرتر بہت بڑا ہے۔ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۱۲/۲۸)
عہ: مسودہ میں بیاض ہے۔
اوراب ناراضی زید کی بھی صریح توجیہ موجود کہ بغلط و دروغ اپنے ساتھ اس امرناپاک کا وقوع بتانے پر ہندہ سے بیزارہوا، بہر حال حکم یہی ہے کہ وہ بچہ زید ہی کا تھا، اور جب شرع نے یہ مان لیا تو ہندہ کا مدخولہ ہونا خود ہی ثابت ہولیا طلاق تین حیض کامل کی عدت لازم،
والمطلقت یتربصن بانفسھن ثلثۃ قروء۲؎
(طلاق والی عورتیں اپنے آپ کو تین حیض مکمل ہونے تک روک رکھیں۔ت)واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
(۲؎ القرآن الکریم ۲ /۲۲۸)