| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر ) |
کیافرماتے ہیں علمائے کرام وفضلائے عظام اس مسئلہ میں کہ زید فوت ہوگیا ہے، ہندہ نے ساتویں ماہ عقد کیا بکر کے ساتھ، اور ہندہ کو پانچ چھ ماہ کا حمل تھا، بروقتِ نکاح ہندہ نے حمل کو ظاہر نہ کیا، بعد عقد ایک ماہ کے ہندہ اور بکر میں جھگڑا ہوا کہ حمل کس کا ہے، بکر کہتا ہے میرا حمل ہے اور ہندہ کہتی ہے تیرا نہیں ہے، تو یہ نکاح جائز ہے یانہیں؟اور یہ حمل کس کا قائم ہوگا؟بینواتوجروا
الجواب اگر موتِ شوہر اول سے دوسال کے بعد بچہ پیدا ہوتو شوہر دوم کا ہے اور نکاح صحیح ہے اور دو سال سے کم میں پیدا ہوتو لڑکا پہلے شوہر کا ہے اور اس دوسرے کا نکاح باطل،کما یظہر مما لخصناہ علی ھامش ردالمحتار(جیسا کہ یہ اس سے ظاہر ہے جو ردالمحتار پر حاشیہ میں ہم نے اس کی تلخیص کی ہے۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۱۳۳:ازکریلی ضلع بریلی مسئولہ۷رجب ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مدت حمل کی زائد سے زائد کَے برس ہے؟اور کم سے کم کتنے سال ہیں؟بینواتوجروا
الجواب کم سے کم چھ مہینے اور زیادہ سے زیادہ دوسال کامل بے کم و بیش، مگر عورت جس کا شوہر زندہ ہواگرچہ کتنے ہی برسوں سے اس سے کتنا ہی دور ہو، اس کی اولاد شوہر ہی کی اولاد قرار پائے گی، اس کے لئے دس بیس پچاس سال کوئی مدت مقرر نہیں،ر سول اﷲصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
الولد للفراش وللعاھرالحجر۱؎۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
بچہ نکاح والے کا ہے اور زانی محروم ہے(ت)واﷲ تعالٰی اعلم۔
(۱؎ صحیح بخاری باب الولدللفراش الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۹۹۹)