Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
96 - 175
مسئلہ۱۳۱: از شہر بریلی مدرسہ اہلسنت و جماعت مسئولہ طالبعلم مدرسہ مذکور ۲۳شوال ۱۳۳۸ھ 

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی علاتی اخت کی نواسی کے ساتھ چھ برس ہوئے نکاح کیا تھا اس سے ایک لڑکی ہوئی، اب زید کو اور محلہ کے لوگوں کو معلوم ہو ا کہ زید کا یہ نکاح صحیح نہیں ہوا زید سے تفریق کرادی، زید کا یہ نکاح صحیح ہو ایانہیں تو اس لڑکی کا مستحق کون ہے، مہر لازم ہو ایانہیں؟عدت ہوگی یانہیں؟اور اس نکاح کے وکیل و گواہ اور پڑھانے والوں کا کیاحکم ؟اور زید پر کیا حکم؟باوجود اس کے کہ بے علم ہیں۔
الجواب

نکاحِ مذکور حرام حرام قطعی حرام، اور زیداور نکاح خواں ووکیل و گواہ سب سخت تر گناہ کبیرہ میں گرفتار، اور جہل اس کے گناہ کبیرہ ہونے سے خارج نہ کرے گا بلکہ جہل خود دوسرا گناہ کبیرہ ہے، ولہذا حدیث میں ہے:
ذنب العالم واحد وذنب الجاھل ذنبان۱؎۔
عالم کا گناہ ایک گناہ ہے اور جاہل کا گناہ دوہرا گناہ۔
 (۱؎ کنز العمال     بحوالہ فر، عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہ     حدیث ۲۸۷۸۴    موسسۃ الرسالہ بیروت     ۱۰ /۱۵۳)

(کنز العمال     بحوالہ فر، عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہ     حدیث ۲۸۹۱۱   موسسۃ الرسالہ بیروت  ۱۰ /۱۷۵)
عورت پر ضرور عدت لازم ہے اور زید پر پورا مہر مثل واجب ہے یعنی اس طر ح کہ عورت کا مہر مثل کیا ہے وہ جو باندھا۔فتاوٰی امام قاضی خاں میں ہے: 

تھااس کا لحاظ نہ ہوگا چاہے مہر مثل سے کم ہو یا زائد،
اذا تزوج بذات رحم محرم منہ ودخل بھا لاحد علیہ وعلیہ مھر مثلھا بالغاما بلغ ۲؎۔ (ملخصاً)
جب کسی نے ذی رحم محرم عورت سے نکاح کرکے جماع کرلیا تو اس پر حد نہیں (بلکہ تعزیر سخت ہے) اور مہر مثل جتنا بھی ہو اس پر لازم ہوگا(ملخصاً)۔ (ت)
(۲؎ فتاوٰی قاضی خاں     باب ذکر مسائل المہر         نولکشور لکھنؤ         ۱ /۱۷۵)
لڑکی زید ہی کو دلائیں گے،۹برس کی عمر ہونے تک ماں کے پاس رہے گی اور اگر وہ کسی ایسے سے نکاح کرے جو اس لڑکی کا محرم مثل چچا کے نہ ہو، اس کے بعد باپ یعنی زید لے لے گا۔
درمختار کتاب الحدود میں ہے:
انھا من شبھۃ المحل وفیھایثبت النسب۱؎۔
یہ محل کا شبہہ ہے اور اس میں نسب ثابت ہوجاتا ہے۔(ت)
 (۱؎ درمختار     باب الوطء یوجب الحدوالذی لایوجبہ    مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۳۱۹)
معراج الدرایہ پھر نہرالفائق پھر ردالمحتار میں ہے:
الصحیح انھا شبھۃ عقد لانہ روی عن محمد انہ قال سقوط الحد عنہ لشبھۃ حکمیۃ فیثبت النسب و ھکذا ذکر فی المنیۃ۲؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
صحیح یہ ہے کہ یہ  شبہہ نکاح ہے کیونکہ امام محمد رحمہ اﷲ تعالٰی سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ اس سے حد کا سقوط حکمی شبہہ کی بناء پر ہے، لہٰذا نسب ثابت ہوگا،منیہ میں یونہی ذکر کیا ہے۔
 (۲؎ ردالمحتار     باب الوطی الذی یوجب الحد والذی لایوجب داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ /۱۵۴)
Flag Counter