Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
95 - 175
مسئلہ۱۲۸: از موضع کریلی ضلع بریلی مسئولہ امام الدین صاحب ۱۲شعبان ۱۳۳۸ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کو ہندہ سے نکاح کئے ہوئے پانچ ماہ اور دس یوم ہوئے ہیں، ہندہ نے بچہ جنا، تو اس بچہ پر کیا حکم ہے آیا وہ زید کا  قرار دیا جائے گا یانہیں؟اہل برادری معترض ہیں تو اس حالت میں زید اورہندہ پر اور بچہ پر کیا حکم ہے؟
الجواب

سائل نے بیان کیا کہ عورت بیوہ تھی شوہر کے مرے تین برس ہوئے، اس کے بعد یہ بچہ ہوا تو یہ نہ اگلے شوہر کا ہے نہ زید کا، بلکہ مجہول النسب ہے، اور زید پر کچھ الزام نہیں، ہندہ کا حال خداجانے، بے ثبوت اسے بھی زانیہ نہیں کہہ سکتے، ممکن کہ دھوکے سے وطی واقع ہوئی ہو جس سے یہ بچہ ہے۔
بدائع و بحر ودرمختاروہندیہ میں ہے:
ان جاءت بہ لاکثر من سنتین منذطلقھا الاول اومات ولاقل من ستۃ اشھر منذتزوجھا الثانی لم یکن للاول ولاللثانی وھل یجوز نکاح الثانی فی قول ابی حنیفۃ ومحمد جائزاھ۱؎۔ وتأمل فی ھذا الجواز فی ردالمحتار فراجعہ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
پہلے خاوند کی موت یا طلاق کے بعد دوسال سے زائد عرصہ پر عورت نے بچے کو جنم دیا ہو یا دوسرے نکاح سے چھ ماہ کے اندر جنم دیا ہو تو اس بچے کا نسب نہ پہلے سے ہوگا نہ دوسرے سے۔ اور کیا اس صورت میں دوسرا نکاح صحیح پائے گا، تو امام ابوحنیفہ اور امام محمد رحمہما اﷲ تعالٰی کے نزدیک جائز قرار پائے گااھ، ردالمحتار میں اس جواز پر تأمل کیا ہے، اس کی طرف رجوع کرو۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
 (۱؎ فتاوٰی ہندیہ الباب الخامش عشر فی ثبوت النسب نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۵۳۸)
مسئلہ۱۲۹تا۱۳۰: از گوپندگڑھ ضلع اجمیر شریف مسجد خورد مرسلہ فیض محمد صاحب امام مسجد ۱۸شوال۱۳۳۸ھ

کیافر ماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ:

(۱) ایک شخص ایک عورت کو فرار کرکے لے گیا، عورت کاخاوند زندہ ہے، وہ عورت مرگئی اور وہ شخص واپس چلاآیا،ا س عورت کے ایک لڑکا اور ایک لڑکی پیداہوئی، اب ان بچوں اور اس شخص کے واسطے کیا حکم ہے، اس کے ساتھ مصافحہ اور کھانا کھانا کیسا ہے؟

(۲) ایک شخص نے اپنی ساس سے زنا کیا اور حمل رہا، لڑکی ہوئی اور پھر شادی کی، اس شادی سے لڑکا ہوا، اس لڑکے پر کیا حکم ہے؟
الجواب

(۱) صورت مذکورہ میں وہ شخص زانی ہے، سزائے زناء کا سزا وار اور مستحق عذاب نار ہے، مسلمان اگر اس سے سلام کلام نہ کریں، اس کے ساتھ کھانا نہ کھائیں، اس سے مصافحہ نہ کریں تو وہ ضرور اس قابل ہے جب تک توبہ نہ کرے، شوہر اور عورت کے بچے اس کے شوہر ہی کے ہوتے ہیں۔ صحیح حدیث میں فرمایا :
الولد للفراش وللعاھر الحجر۲؎۔
بچہ اس کا جس کا بچھونا یعنی خاوند کا اور زانی کے لئے پتھر۔
 (۲؎ صحیح البخاری     کتاب الفرائض     باب الولد للفراش الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۹۹۹)
جس نے اپنی ساس سے زنا کیا اس نے اپنی ماں سے زنا کیا، اور شادی اگر کسی اور عورت سے کی اور اس سے لڑکا پیدا ہواتو اس لڑکے میں کوئی خلل نہیں، اور اگر سائل کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص نےایک عورت سے زنا کیا پھر اس کی لڑکی سے نکاح کیا اس سے لڑکا ہو ا تو وہ شخص اس وقت بھی زانی ہوا اور اس نکاح میں بھی حرام کار کہ یہ اس کی بیٹی کی جگہ ہے، اور اب یہ جو لڑکا پیدا ہوا ولدالحرام ہے۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
Flag Counter