| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر ) |
مسئلہ ۱۲۶: ازریاست جے پور نمک منڈی اجمیری دروازہ مرسلہ محمد عبدالعزیز بیگ۲۱شعبان ۱۳۳۷ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسماۃ ہندہ کے دختر رابعہ پیدا ہوتے ہی ہندہ کا انتقال ہوگیا چنانچہ مسماۃ رابعہ نے ابتدائے پیدائش خود سے ڈیڑھ سال کامل ایامِ رضاعت میں مسماۃ شافیہ وکافیہ کا دودھ پیا' اتفاق سے مسماۃ شافیہ و کافیہ کے حقیقی بھائی مسمی بزید سے مسماۃ رابعہ کا عقد ہوکر اولاد بھی ہوگئی(حالانکہ مسمی بزید ومسماۃ رابعہ زن و شوہر باہمی رضاعی ماموں وبھانجی ہوتے ہیں) تو ایسی صورت میں نکاح قائم رہ سکتا ہے یانہیں ؟اور بصورت قائم رہنے کے کفارہ عائد ہوگا یانہیں؟ اور اولاد کس کی کفالت میں رہے گی اور بارِ مہر زوج پر عائد ہوگا یانہیں؟
الجواب حاشا وہ خبیث نکاح ہرگز قائم نہ رکھا جائے گا، مردو عورت پر فرض فرض عظیم فرض ہے کہ فوراً فوراً جدا ہوجائیں، مرد نہ مانے تو عورت خود جدا ہوجائے، دونوں نہ مانیں تو حاکم بالجبر جدا کردے گا۔ عورت کےلئے مرد پر پورا مہر مثل ہے اگرچہ جو مہر بندھا تھا اس سے کتنا ہی زائد ہو، اولاد میں لڑکا سات برس اور لڑکی نوبرس کی عمرتک ماں کے پاس رہے پھر باپ لے گا۔ ردالمحتار میں ہے:
فی الخانیۃ لوتزوج محرمہ لاحد علیہ عند الامام علیہ مھر مثلھا بالغامابلغ۲؎۔
خانیہ میں ہے اگر کسی نے اپنی محرم سے نکاح کیا تو اس پر حد نہیں(بلکہ سخت تعزیر ہے) اور مہر مثل جتنا بھی ہو اس پر لازم ہوگا،یہ امام اعظم کے نزدیک ہے۔(ت)
(۲؎ ردالمحتار باب المہر داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۳۵۱)
اسی میں نہر سے ہے:
قال فی الدرایۃ الصحیح انہا شبھۃ عقد فیثبت النسب وھکذاذکرفی المنیۃ۳؎اھ(ملخصاً) وذکرہ الخیرالرملی عن العینی ومجمع الفتاوٰی۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
درایہ میں ہے کہ یہ شبہہ نکاح ہے لہذا نسب ثابت ہوجائے گا، منیہ میں بھی یونہی مذکور ہے اھ ملخصاً اور اس کو خیرالدین رملی عینی اور مجمع الفتاوٰی سے نقل کیا ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۳؎ردالمحتار باب الوطی داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ /۱۵۴)
مسئلہ۱۲۷: از حافظ گنج ضلع بریلی مسئولہ حیدر بخش کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک عورت رانڈ ہوگئی اور اس کے حمل عرصہ تین ماہ سے رہ گیا، جب پنچوں نے دریافت کیا تومسمی حیدر بخش نے جو اسی گاؤں کا آدمی تھا یعنی اس عورت کابھانجا ہے کہ میں اس عورت کو بعد وضع حمل نکاح میں لاؤں گا میں نے اس عورت کا عیب ثواب اپنے اوپر رکھ لیا، اس بات پرپنچوں نے اور کل بستی نے بوجہ ہونے حرام کے اس عورت واس شخص یعنی حیدر بخش دونوں کا حقہ پانی اس غرض سے بندکردیا کہ آئندہ عورت وآدمی ایسا فعل ناجائز نہ کرے، اب جو حکمِ شریعت ہووہ کیا جائے یا بروئے شریعت کھولاجائے۔
الجواب خاوند کی موت سے دوبرس کے اندر بچہ پیدا ہو وہ خاوند ہی کا ہے،سائل بیان کرتا ہے کہ خاوند کی موت کو دس مہینے ہوئے اور تین مہینے سے حمل بتاتا ہے اگر عورت چار مہینے دس دن کے بعد عدت ختم ہوجانے کا اقرار نہ کرچکی ہو اوریہ مرگِ شوہر سے دو برس کے اندر پیدا ہوتو شوہر ہی کا ہوگا اور عورت کو حرام کی طرف نسبت کرنا حرام ہوگا،اگر عورت چار مہینے دس دن کے بعد اپنی عدت ختم ہوجانا ظاہر کر چکی تھی اور اب تین مہینے سے حمل ظاہر ہواتو عورت پر الزام ہے اس کا حقہ پانی لبند کردیں، لیکن حیدر بخش پر اس کہنے سے کوئی الزام نہیں اس کا حقہ پانی کھول دیا جائے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔