Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
93 - 175
درمختار میں ہے:القول لہ بیمینہ فی عدم النیۃ ویکفی تحلیفھا لہ فی منزلہ فان ابی رفعتہ للحاکم فان نکل فرق بینھما، مجتبٰی ۲؎۔
مذکورہ الفاظ کہنے کے بعد خاوند بیان دے کہ طلاق کی نیت نہ کی تھی، تو اس کی تصدیق کردی جائے گی، اور اس معاملہ میں بیوی کا خاوند سے گھر میں قسم لے لینا کافی ہے اور اگر خاوند اپنے بیان سے متعلق گھر میں قسم نہ کھائے بلکہ انکار کردے تو بیوی معاملہ کو حاکم کے ہاں پیش کرے اگر حاکم کے مطالبے پر بھی قسم کھانے سے انکار کرے تو پھر حاکم میاں بیوی میں علیحدگی کا فیصلہ دے دے، مجتبٰی۔(ت)
 (۲؎ درمختار      باب الکنایات مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۲۳۰)
ردالمحتار میں ہے:  فان نکل ای عند القاضی لان النکول عند غیرہ لایعتبر، ط، ۱؎اھ۔ اقول ھو مستفاد من قولہ فان ابی رفعتہ فلم یجعل اباءہ عندھا شیأ۔
اگر قاضی کے ہاں قسم سے انکار کرے تو تفریق کرے، کیونکہ قاضی کے علاوہ کسی غیرکے ہاں انکار کرے تو وہ انکار تفریق کےلئے معتبر نہیں ہوگا، ط، اھ۔ اقول (میں کہتا ہوں) یہ بات ماتن کے اس قول سے عیاں ہورہی ہے کہ''اگر گھرمیں انکار کرے تو بیوی حاکم کے ہاں معاملہ کو پیش کرے'' تو انہوں نے بیوی کے ہاں انکار کو غیر معتبر قرار دیا۔(ت)
 (۱؎ ردالمحتار     باب الکنایات    داراحیاء التراث العربی بیروت     ۲ /۴۶۵ )
ہاں اگر وہ اقرار کرے کہ(اس) کی ضمیر عورت کی طرف تھی اور یہ لفظ قطع تعلق نکاح ہی کی نیت سے کہے تو بیشک ایک طلاق بائن ہوگئی عورت نکاح سے نکل گئی،اور اب بچہ اسی شوہر کو ایسا لازم ہوگیا کہ اس سے چھوٹ ہی نہیں سکتا کہ بینونت کے بعد احتمال لعان بھی نہ رہا جو حاکم اسلام کے حضور ہوسکتا اور جب اس کے بعد قاضی ان زن وشو میں تفریق کرکے بچے کی نسبت اس شوہر سے قطع کردیتا اس کا نہ ٹھہرتا مجہول النسب رہ جاتا، درمختار میں باب اللعان میں ہے:
شرطہ قیام الزوجیۃ۲؎
 (لعان کی شرط یہ ہے کہ نکاح موجود ہو۔ت)
 (۲؎ درمختار  باب اللعان  مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۵۱)
اسی میں ہے:
ویسقط بعد وجوبہ بالطلاق البائن ثم لایعود بتزوجھا۳؎۔
لعان واجب ہوجانے کے بعد بائنہ طلاق دے دینے پر ساقط ہوجائے گا، اور دوبارہ نکاح کرنے پر بھی لعان نہ ہوسکے گا۔(ت)
(۳؎ درمختار     باب اللعان         مطبع مجتبائی دہلی    ۱ /۲۵۲)
اسی میں ہے:
وان قذف الزوج بولدحی نفی الحاکم نسبہ عن ابیہ والحقہ بامہ۴؎۔
جب خاوند بیوی پر تہمت لگائے کسی زندہ بچے کے بارے میں، تو حاکم اس بچے کے نسب کو اس خاوند سے منقطع کردے اور بچے کو ماں سے ملحق کردے۔(ت)
 (۴؎ درمختار     باب اللعان         مطبع مجتبائی دہلی    ۱ /۲۵۲)
ردالمحتار میں ہے:
ای لابد ان یقول قطعت نسب ھٰذا الولد عنہ بعد ماقال فرقت بینکما وفی المبسوط ھذا ھوالصحیح۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
یعنی قاضی کے لئے اس موقعہ پر ضروری ہے کہ وہ یہ اعلان کرے کہ میں نے اس بچے کا نسب اس شخص سے منقطع کردیا ہے، یہ اعلان وہ تفریق کرنے کے بعد کرے۔ اور مبسوط میں ہے کہ یہی صحیح ہے، واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت)
 (۱؎ ردالمحتار     باب اللعان     داراحیاء التراث العربی بیروت     ۲ /۵۸۹)
Flag Counter