Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
91 - 175
اقول : فی صدر الحدیث ان عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ ھم برجمھافقال لہ معاذ رضی اﷲ تعالٰی عنہ ان کان لک علیھا سبیل فلاسبیل لک علی مافی بطنھا، فترکہا حتی ولدت ولداقد نبتت۱؎الخ فالفراش قد کان قائماحین ھم برجمھا وھو لایحتاج الی الدعوۃ فالصواب ان یشاء اﷲ تعالٰی ان ذٰلک قد یقع بغایۃ الندرۃ والعبرۃ فی الفقہ الغالب فافھم،
اقول(میں کہتا ہوں کہ) حدیث کے شروع میں ہے کہ عمر فاروق رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے اس عورت کو رجم کرنے کاقصد فرمایا تو ان سے حضرت معاذ رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے عرض کیا کہ اگرچہ آپ کو اس عورت پر قدرت ہے مگر اس کے پیٹ میں جو بچہ ہے اس پر آپ کی قدرت نہیں، تو اس پر عمر فاروق رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے عورت کو چھوڑدیا حتی کہ اس عورت نے ایسے بچے کو جنم دیا جس کے دانت نکل چکے تھے الخ تو جب حضرت عمر فاروق نے اس عورت کے رجم کا ارادہ فرمایا تو اس وقت اس کا نکاح موجودتھا، تو ایسی صورت میں نسب کا دعوٰی کی ضرورت نہیں، تو درست یہی ہے۔ اگر اﷲ تعالٰی نے چاہا کہ ایسا واقعہ انتہائی نادر ہوتا ہے۔ جبکہ فقہ میں کثیر الوقوع کا اعتبار کیا جاتا ہے، اس پر غور کرو۔
(۱؎ فتح القدیر     باب ثبوت النسب     مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۴ /۱۸۱)
ثم بعد سویعۃ رأیت وﷲ الحمد الامام السرخسی رحمہ اﷲ تعالٰی صرح فی مبسوطہ بما سبق الیہ خاطر الفقیر اذقال بعد ذکر الحدیث المذکور والاحکام تبتنی علی العادۃ الظاہرۃ وبقاء الولد فی بطن امہ اکثر من سنتین فی غایۃ الندرۃ۲؎۔
پھر تھوڑی دیر بعد ﷲ الحمدمیں نے امام سرخسی کا نقل کردہ کلام دیکھا کہ آپ نے اپنی مبسوط میں اسی بات کی تصریح فرمائی جو میرے دل پر وارد ہوئی تھی، جب انہوں نے مذکورہ حدیث اور کچھ ایسے واقعات جن کا ذکر آرہا ہے، کو بیان کرکے فرمایا ہمارے لئے احکام ظاہر عادت پر مبنی ہیں، جبکہ ماں کے پیٹ میں دو سال سے زائد عرصہ بچے کا رہنا انتہائی نادر واقعہ ہے۔(ت)
 (۲؎ مبسوط سرخسی باب العدۃ وخروج المرأۃ من بیتہا     دارالمعرفۃ بیروت ۶ /۴۵)
دارقطنی وبیہقی اپنے اپنے سنن میں ولید بن مسلم سے راوی امام دار الہجرۃ عالم المدینہ سید ناامام مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے فرمایا:
ھذہ جارتنا امرأۃ محمد بن عجلان امرأۃ صدق وزوجھا رجل صدق حملت ثلثۃ ابطن فی اثنی عشرۃ سنۃ کل بطن فی اربع سنین۳؎۔
یہ ہیں ہماری ہمسائی محمد بن عجلان کی بی بی، یہ سچی عورت اور وہ سچے مرد،ان کے تین حمل بارہ۱۲ برس میں ہوئے، ہرحمل چار سال میں۔
 (۳؎ فتح القدیر بحوالہ الدارقطنی والبیہقی     باب ثبوت النسب مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر۴ /۸۱۔۱۸۰)
امام شمس الائمہ سرخسی مبسوط میں فرماتے ہیں:
قیل ان الضحاک ولدتہ امہ لاربع سنین، وولدتہ امہ لاربع سنین، وولدتہ بعد مانبتت ثنیتاہ وھو یضحک فسمی ضحاکاوعبدالعزیز الماجشونی رضی اﷲ تعالٰی عنہ ولدتہ امہ لاربع سنین وھذہ عادۃ معروفۃ فی نساء ماجشون رضی اﷲ تعالٰی عنہم انہن یلدن لاربع سنین۱؎۔
 (۱؎ مبسوط السرخسی     باب العدۃ و خروج المرأۃ من بیتہا    دارالمعرفۃ بیروت     ۶ /۴۵)
یعنی منقول ہوا کہ امام مفسر محدت ضحاک چار برس ماں کے پیٹ میں رہے، پیداہوئے تو اگلے چاروں دانت نکل چکے تھے، ہنستے معلوم  ہوتے تھے اس لئے ضحاک نام رکھا گیا(یعنی بہت ہنسنے والے)، اور امام محدث عبدالعزیز ماجشونی بھی چار برس حمل میں رہے، اور بنی ماجشون کی عورتوں کی یہ عادت مشہور ہے کہ بچہ ان کے پیٹ میں چار برس رہتا ہے۔  شوہر زن کا کہنا ہے کہ وہ بچہ میرا نہیں اور میرا اس سے تعلق نہیں، اس لفظ اخیر میں اگر لفظ اول کے خلاف اس کی ضمیر بچے کی طرف ہے جب تو ظاہر کہ اسے طلاق سے کوئی تعلق نہیں اور اگر مثل اول ضمیر عورت کی طرف ہے تو یہ لفظ کنایات طلاق سے ہے اور وہ محتمل سَبّ و ذم ہے یعنی میں ایسی عورت سے بیزار ہوں اور حالت حالت غضب ہے تو بے اقرار شوہر نیت طلاق کا ثبوت نہ ہوگا اس سے قسم لی جائے اگر بحلف کہہ دے کہ میں نے یہ لفظ نہ نیت ازالہ علاقہ نکاح نہ کہا تھا تو طلاق نہ ہوئی اگر جھوٹی قسم کھائے گا وبال اس پر ہے،
مبسوط امام شمس الائمہ میں ہے:
انت بائن حرام بتۃ خلیۃ بریۃ تحتمل معنی السب ای انت بائن من الدین بریۃ من الاسلام خلیۃ من الخیر حرام الصحبۃ والعشرۃ بتۃ عن الاخلاق الحسنۃ وعن ابی یوسف رحمہ اﷲ تعالٰی انہ الحق بھٰذہ الالفاظ اربعۃ الفاظ اخر خلیت سبیلک فارقتک لاسبیل لی علیک لاملک لی علیک لانھا تحتمل معنی السب ای لاملک لی علیک لانک ادون من ان تملکی، لاسبیل لی علیک لشرک وسوء خلقک، وفارقتک انقاء لشرک وخلیت سبیلک لھوانک علیّ۱؎۔
اگر خاوند بیوی کو کہے''تو بائن ہے، حرام ہے، دور ہے، خالی ہے، بری ہے'' تو یہ الفاظ محتمل معنی سب وذم ہیں یعنی تو دین سے الگ ہے، تو اسلام سے بری ہے، خیر سے خالی ہے، صحبت وعشرت سے محروم ہے، اخلاق حسنہ سے دور ہے(لہذا یہ الفاظ مذکورہ معانی کی وجہ سے گالی بن سکتے ہیں اس لئے طلاق کی نیت کئے بغیر طلاق نہ ہوگی) امام ابو یوسف رحمہ اﷲ تعالٰی سے مروی ہے کہ انہوں نے ان پانچ الفاظ پر مزید چار الفاظ ذکر فرمائے(جن میں گالی کا احتمال ہونے کی وجہ سے بغیر نیت طلاق نہ ہوگی) وہ چار الفاظ یہ ہیں، میں نے تیرا راستہ کھول دیا، میں تجھ سے الگ ہوں، میرا تجھ پر چارہ نہیں، میری تجھ پر ملکیت نہیں۔ کیونکہ یہ الفاظ گالی کا احتمال رکھتے ہیں یعنی میری تجھ پر ملکیت نہیں کیونکہ تو ا س قابل نہیں، میرا تجھ پر چارہ نہیں تیرے شر اور بداخلاقی کی وجہ سے، میں تجھ سے الگ ہوں تیرے شر اور بداخلاقی سے بچتے ہوئے، میں نے تیرا راستہ کھول دیا ہے کہ تو میرے ہاں کمینی ہے۔(ت)  اسی طرح تبیین امام زیلعی میں ہے۔
 (۱؎ مبسوط السرخسی     باب ماتقع بہ الفرقۃ ممایشبہ الطلاق     دارالمعرفۃ بیروت     ۶ /۸۰و ۸۱)
Flag Counter