| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر ) |
مسئلہ ۱۲۵: از پیلی بھیت مرسلہ عثمان صاحب معرفت مولوی عبدالحق صاحب ۲۲شوال ۱۳۳۶ھ ہندہ سے اس کے شوہر نے پونے تین سال سے قربت نہیں کی اور اس زمانہ میں پونے تین سال ہندہ اپنے باپ کے یہاں رہی اور اس صورت میں کہ میکے میں سوائے باپ کے اور کوئی اس کا رشتہ دار نہیں تھا اور ماں بھی اس کی نہیں تھی اور نہ کوئی عورت اور اس کے پاس تھی، اب پونے تین سال کے بعد اس کے بچہ پیدا ہوا، ہندہ حلف سے اور قسم سے کہتی ہے کہ بچہ میرے شوہر کا ہے جس طرح چاہے اطمینان کرلو، اس زمانہ پونے تین سال میں اپنے شوہر یا اس کے خاندان والوں کو یا اپنے ماں با پ کے رشتہ داروں کو مطلع نہیں کیا حالانکہ دونوں طرف بچہ ہونے کی کمال تمنا تھی کیونکہ اس کے شوہر کی دوسری بی بی سے بھی نیز اس سے اور کوئی اولاد نہ تھی، ہندہ کہتی ہے کہ مجھ کو دو ڈھائی مہینے سے آثارِ حمل کچھ ظاہر ہوئے میں نے بوجہ اپنی سوت کے کسی سے اظہار نہیں کیا کہ مبادا سوت درپے آزار ہو مگر میں نے اپنے شوہر کو نیز اپنی چچی کو بلایا وہ میرے پاس نہیں آئی بچہ باپ کے یہاں پیدا ہوا، چوتھے روز شوہر کو بذریعہ تحریر مطلع کیا، ہندہ نے یہ بھی اپنی چچی سے کہا میری بینائی میں فرق آگیا ہے اور میراجسم اکثرپکتا ہے، یہ اس کی حالت تھی، یہ اس کی چچی کا بھی بیان ہے اور ایام بھی بند تھے مگر گاہے کچھ معلوم ہو کر بند ہو جاتا تھا ،جب ہندہ اور اس کے باپ نے بذریعہ تحریر شوہر کو اطلاع دی مولود کی ، تب شوہر نے حالتِ غم میں اس کا جواب تحریری بھیجا کہ عرصہ سے میرا اس سے تعلق نہیں لہذاوہ بچہ میرا نہیں ہے اور میرا اس سے تعلق نہیں ہے۔ اس کا جواب عباراتِ فقہاء واحادیث وتمثیلات سے فرمایا جائے، فقط۔
الجواب صورت مستفسرہ میں وہ بچہ شرعاً بلاشبہہ اسی شوہر کا ہے اسے اس کا انکار جائزنہیں پونے تین در کنار تیس چالیس برس سے دونوں الگ ہوتے جب بھی بچہ اسی کا ہوتا۔ رسول اﷲصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
الولد للفراش وللعاھر الحجر۱؎۔
بچہ نکاح والے کا ہے اور زانی کےلئے محرومی ہے۔(ت)
(۱؎ صحیح البخاری باب الولد للفراش حرۃ کانت اواَمۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۹۹۹)
درمختار میں ہے:
قد اکتفوابقیام الفراش بلا دخول کتزوج المغربی بمشر قیۃ بینھما مسافۃ سنۃ فولدت لستۃ اشھر مذتزوجھا لتصور کرامۃ واستخداماً،فتح۲؎۔
فقہاء کرام نے ثبوت نسب میں نکاح موجود ہونے کو کافی قرار دیا اگرچہ جماع نہ پایاجائے،جیسے کوئی مغرب میں رہنے والا شخص مشرق میں رہنے والی عورت سے نکاح کرے اور دونوں کے درمیان سال بھر کی مسافت ہوا ور اس عورت کے ہاں وقتِ نکاح سے چھ ماہ بعد بچہ پیدا ہوتو نسب نکاح والے کا ہوگا کیونکہ کرامت اور استخدام کے طور پر یہ ممکن ہے اور متصور ہے، فتح۔(ت)
(۲؎ درمختار فصل فی ثبوت النسب مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۶۲۳)
ہمارے ائمہ نے اکثرمدت حمل دو سال رکھی ہے کہ غالب یہی ہے اور فقہ میں غالب ہی کا اعتبار ہے نادر خصوصاً ایسا کہ صدہا سال کروڑوں ولادتوں میں اس کا خلاف نہ مسموع ہو لحاظ نہیں کیا جاتا، امیرالمومنین عمر فاروق اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے عہد مبارک میں ایک صاحب اپنی زوجہ کو وطن میں چھوڑ کر سفر کو گئے دو برس بعد واپس آئے تو عورت کو حاملہ پایا ایک مدت بعد بچہ ہوا قد نبتت ثنیتاہ یشبہ اباہ اس کے اگلے چاروں دانت پیٹ ہی سے نکل چکے تھے صورت میں اپنے باپ سے مشابہ تھا
فلمارأہ الرجل قال ولدی ورب الکعبۃجب ان صاحب نے اس بچے کو دیکھا کہا خدا کی قسم میرا بچہ ذکرہ فی الفتح، وقال انما ھو بقیام الفراش ودعوی الرجل نسبہ۳؎اھ
(اس کو فتح میں ذکرکیا ہے، اور فرمایا یہ تب ہے کہ نکاح موجود ہو اور زوج نسب کا دعوٰی کرے اھ۔ت)
(۳؎ فتح القدیر باب فصل فی ثبوت النسب نوریہ رضویہ سکھر ۴ /۱۸۱)