Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
9 - 175
مسئلہ۹: از بنگالہ ضلع نواکھالی ڈاک خانہ بیگم گنج مرسلہ مولوی عبد المجید صاحب شنوپوری ۱۶ محرم الحرام ۱۳۲۱ھ 

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص نے اپنی بی بی کو بعد نماز مغرب کے کہا کہ اگر تو نماز نہ پڑھے گی تو دو طلاق ہے، بعدہ وہ بی بی عشاء کی نماز نہیں پڑھی، فجر سے لے کر نماز شروع کی، اور وہ شخس بعد فجر کے رجعت بھی کرلیا ہے، پھر چند برس کے بعد وہ شخص اور دو طلاق بلاشرط دیا اب اس شخص کا رجعت کرنا جائز ہے یانہیں کیونکہ دو طلاق سابق اور یہ دو طلاق مجموعہ چار طلاق ہوئی، اب سہ طلاق ہوکر محرمہ ابدی ہوئی یا نہ، اور سابق دو طلاق کو جب نماز پر شرط کیا اور نماز بھی نہ پڑھی یعنی عشاء کی، تو طلاق ہوگی یانہ، بینوامع الدلیل(دلیل کے ساتھ بیان کئے۔ت)۔ بعض عالم کہتے ہیں اول جو طلاق نماز پر شرط کیا تھا نہیں واقع ہوگی کیونکہ قول زوج کا''اگر نماز نہ پڑھے گی'' مستقبل کی طرف اشارہ ہے اور مستقبل تا حیات کے لئے ہوتا ہے، اور ثانی جو دو طلاق بلاشرط ابھی دیا ہے اس کے لئے رجعت جائز ہے اور دوسرے طرف کے علماء کہتے ہیں اب رجعت کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ سہ طلاق ہو کر مغلظ ہو گئی ہے اس وجہ سے  کہ اول جو دو طلاق شرط نماز پر کیا تھا تا حیات پرموقوف نہیں کیونکہ زوج کی مقصود اور نیت یہ ہے کہ زوجہ کبھی نماز نہ چھوڑے،اور تاکید حکم شرع پر کرتا ہے اگر ایک وقت نماز چھوڑے گی توامر صادق آویگی، اور رامپور کےبعض علماء کہتے ہیں اول دو طلاق بائن واقع ہوگی کیونکہ طلاق رجعی کی جب شرط پر معلق کرتا ہے تو بائن ہوجاتا ہے اور بائن کےلئے در مدت نکاح جدید چاہئے جب نکاح جدید در مدت نہ کیا اور مدت گزرگیا اب بعدہا طلاق صحیح نہیں ہے فقط اول دونوں طلاق واقع ہوں گی اور بعد کے طلاق کی ملک نہیں ہے۔
الجواب 

اللّٰھم لک الحمد اسألک ھدایۃ الحق والصواب(اے اﷲ! تیرے لئے حمد ہے، میں تجھ سے حق اور صواب کی رہنمائی طلب کرتا ہوں۔ت) فقیر نے ہرسہ فریق علمائے بنگالہ وبعض علمائے رامپور کے اقوال مذکور اور دلائل مزبور مطالعہ کئے جہاں تک اپنی نظر قاصر کا مبلغ بحکم
خیرالامور اوسطھا
 (درمیانی چیز بہتر ہے۔ت) ان میں قول وسط عدل و وسط و صحیح وبے غلط ہے، فریق سوم کا زعم تو محض باطل وبے اصل ہے تعلیق ربطِ مضمونِ جملہ بمضمونِ آخر ہے نہ کہ خبطِ مضمون بربطِ آخر  ان دخلت الدار فانت طالق (اگر تو گھر میں داخل ہو تو تجھے طلاق۔ت) کہنے والے نے انت طالق کے مفاد شرعی کو دخولِ دار پر معلق کیا تو ہنگامِ دخول اسی مفاد کا نزول ہوگا نہ کہ مفا دسے عدول، اور قطعاً معلوم کہ اس کا مفاد نہیں، مگر طلاق رجعی یہاں تک کہ اگر انت طالق کہے تو طلاق بائن کی نیت کرے جب بھی رجعی ہوگی کہ وہ تغییر حکم شرع پر قدر ت نہیں رکھتا ، 

تنویر میں ہے:
صریحہ کطلقت وانت طالق ومطلقۃ یقع بھا واحدۃ رجعیۃ وان نوی خلافھا۱؎۔
صریح طلاق یہ ہے''میں نے تجھے طلاق دی، تو طلاق والی ہے، تو مطلقہ ہے'' جیسے الفاظ ہیں، ان الفاظ سے ایک رجعی طلاق ہوگی اگرچہ نیت اس کے خلاف بھی کرے۔(ت)
 (۱؎ درمختار شرح تنویر الابصار         باب الصریح         مطبع مجتبائی دہلی     ۱/ ۲۱۸)
ہدایہ میں ہے۔
انت طالق ومطلقۃ وطلقتک فھذا یقع بہ الطلاق الرجعی ولایفتقرالی النیۃ وکذا اذا نوی الابانۃ لانہ قصدالتنجیز ماعلقہ الشرع بانقضاء العدّۃ فیرد علیہ۱؎(ملخصاً)
تجھے طلاق، تو مطلقہ ہے،میں نے تجھے طلاق دی، ان الفاظ سے رجعی طلاق ہوگی اور کسی نیت کی ضرورت نہیں ہے، یونہی اگر ان الفاظ سے بائنہ طلاق کی نیت کرے تب بھی رجعی ہی ہوگی کیونکہ شریعت نے ان الفاظ سے طلاق بائنہ کو عدت ختم ہونے تک معلق رکھا ہے جبکہ طلاق دینے والے نے فی الحال نافذ ہونے کی نیت کی ہے اس لئے بائنہ نہ ہوگی (ملخصاً)۔(ت)
 ( ۱؎ الہدایۃ         باب ایقاع الطلاق         المکتبۃ العر بیۃ کراچی     ۱ /۳۳۹)
ہمارے علماء کرام کے نزدیک وقتِ حلول شرطِ نزول جزایوں ہوتا ہے کہ گویا اس وقت تکلم بالجزامنجز واقع ہوا اور ظاہر ہے کہ انت طالق کا تکلم ہرگز مفید نہ ہوگا مگر طلاق رجعی کا۔ 

فتح القدیر میں ہے:
انہ ینزل سببا عندالشرط کانہ عندالشرط اوقع تنجیزا۲؎۔
کیونکہ طلاق کا سبب، شرط پائے جانے پر وارد ہوتا ہے گویا کہ شرط پائے جانے پر وہ طلاق۲ بول کرنافذ کررہا ہے۔(ت)
 (۲؎ فتح القدیر         باب الایمان فی الطلاق         مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۳ /۴۴۵)
ظاہراً ان بعض علماء کو ایک عبارتِ درمختار نے دھوکا دیا کہ اواخرباب طلاق بالصریح میں فرمایا:
لوقال انت طالق علی ان لارجعۃ لی علیک، لہ الرجعۃ وقیل لا، جوھرۃ و رجح فی البحر الثانی، خطأ من افتی بالرجعی فی التعالیق وقول الموثقین تکون طالقا طلقۃ تملک بھا نفسھا۳؎
اگر کہا''تجھے اس شرط پر  طلاق ہے کہ مجھے رجوع کا اختیار نہیں، تو اس کو رجوع کا حق باقی ہوگا۔ بعض نے کہا اس کو رجوع کا حق نہیں ہے،۔ جوہرہ۔ بحر میں دوسرے قول کو ترجیح دے کر کہا کہ جس نے معلق طلاق میں رجوع کا فتوٰی دیا اس نے خطا کی ہے، اور پختہ کار لوگ فرماتے ہیں کہ مذکورہ صورت میں ایسی طلاق ہوگی جس میں اختیار بیوی کو ہوگا کہ وہ نکاح دوبارہ کرے یا نہ کرے یعنی بائنہ طلاق ہوگی۔(ت)
 (۳؎ درمختار باب الصریح  مطبع مجتبائی دہلی   ۱ /۲۲۲)
اس عبارت میں جملہ''وخطأ من افتی الخ''کے یہ معنی سمجھ لیے کہ علامہ بحرصاحب بحر رحمہ اﷲ تعالٰی نے مطلقا تعلیقات میں طلاق رجعی ماننے کو خطا ٹھہرایا، حالانکہ یہ محض سوئے فہم یا قلت تدبر سے ناشی ہے یہاں خاص صورت یہ زیر بحث ہے کہ جزائے معلق  میں وصف بینونت مذکور ہو، مثلاً:
ان دخلت الدار فانت طالق  طلاقا لارجعہ لی علیک فیہ یا ان تفعل کذاتکن طالقا طلقۃ تملک بھا نفسھا۔
اگر تو گھر میں داخل ہوئی تو وہ طلاق جس میں مجھے رجوع کا حق نہ ہو، یا یوں کہے اگرتو یہ کام کرے تو تجھے وہ طلاق ہے جس میں اختیار تیرے ہاتھ میں ہو۔(ت)
عبارتِ درمیں وقول الموثقین بالجر زیر فی داخل(قول الموثقین جرکے ساتھ التعالیق پر داخل ''فی'' کے تحت ہے۔ت) اور التعالیق کا عطف تفسیری ہے، بحر۔ 

ردالمحتار میں ہے:
قولہ وخطاء ای نسبہ الی الخطاء، وقولہ وقول الموثقین بالجر قال ح عطف تفسیر علی التعالیق، قلت واصل المسئلۃ التی ذکرھا صاحب البحر، وقد الف فیھا رسالۃ ایضا، ھی ان رجلا قال لزوجتہ متی ظھر لی امرأۃ غیرک فانت طالق واحدۃ تملکین بھا نفسک، ثم ظھرلہ امرأۃ غیرھا فاجاب فیھا بانہ بائن و ردمن افتی رجعی۱؎(ملخصاً)
اس کا قول کہ ''خطاء''یعنی اس کو خطاء کی طرف منسوب کیا، اور اس کا قول''قول الموثقین، جریعنی زیر کے ساتھ، تو اب اس کا تعالیق پر عطف تفسیری ہوگا۔قلت اصل مسئلہ وہ  ہے جس کو صاحب بحر نے ذکر کیا اور اس پر رسالہ بھی لکھا ہے کہ ایک شخص نے بیوی کو کہا کہ اگرتیرے سوا کوئی میری بیوی معلوم ہوجائے تو تجھے ایک طلاق ہے جس میں تجھے اپنا اختیار ہوگا، اس کے بعد اس شخص کی دوسری بیوی معلوم ہوئی تو بحر والے نے جواب دیا کہ یہ طلاق بائن ہوگی، اور انہوں نے اس شخص کا رد بھی کیا جس نے اس کے رجعی ہونے کا فتوٰی دیا(ملخصاً)(ت)
 (۱؎ ردالمحتار         باب الصریح         داراحیاء التراث العربی بیروت     ۲ /۴۵۰)
خود علامہ بحر کی عبارت سنئے کہ در سے روشن تر ہے 

بحر میں فرماتے ہیں:
فی الجوھرۃ قال انت طالق علی انہ لارجعۃ لی علیک یلغو ویملک الرجعۃ وقیل تقع واحدۃ بائنۃ اھ وظاھر مافی الھدایۃ ان المذھب الثانی فانہ قال واذا وصف الطلاق بضرب من الشدۃ والزیادۃ کان بائنا
جوہرہ میں ہے کہ اگر ایک شخص نے بیوی کوکہا تجھے طلاق ہے اس شرط پر کہ مجھے رجوعِ اختیار نہ ہوگا، تو ایسی میں رجوع نہ ہونے کی شرط لغو، اور اس طلاق پر خاوند کو رجوع کااختیار باقی رہے گا، اور بعض نے کہا ہے کہ یہ ایک بائنہ طلاق ہوگی اھ جبکہ ہدایہ کی عبارت سے ظاہر یوں ہےکہ دوسرا قول راجح ہے، کیونکہ انہوں نےیوں فرمایا کہ جب طلاق کو ایسے وصف سے موصوف کیا جائے جو شدت اور زیادتی پر دلالت کرے تو وہ طلاق بائنہ ہوتی ہے
وقال الشافعی یقع رجعیا اذاکان بعد الدخول، لانہ وصفہ بالبینونۃ خلاف المشروع فیلغو کما اذا قال انت طالق علی ان لارجعۃ لی علیک ولنا انہ وصفہ بما یحتملہ ومسئلۃ الرجعۃ ممنوعۃ اھ،
اور امام شافعی نے فرمایا کہ یہ طلاق رجعی ہوگی بشرطیکہ بیوی سے دخول کرچکا ہو کیونکہ اس نے صریح ایک طلاق کو بائن کے وصف سے موصوف کیا ہے جو کہ خلافِ مشروع ہے لہذا یہ وصف لغو ہوگا، جیسا کہ کوئی یوں کہے کہ تجھے طلاق ہے اس شرط پر کہ مجھے رجوع کا اختیار نہ ہوگا تو رجوع کا حق باقی رہے گا اور طلاق رجعی ہوگی، اورامام شافعی رحمہ اﷲ تعالٰی کے اس قول کے مقاملہ میں ہماری دلیل یہ ہے کہ خاوند نے طلاق مذکورہ کو ایسے وصف سے موصوف کیا جس کا اس میں احتمال بن سکتا ہے اور جس مسئلہ پر آپ نے قیاس کیا یعنی رجوع نہ کرنے کی شرط، توہمارے لئے وہ ایسے نہیں ہے بلکہ وہ طلاق بائنہ ہے اھ۔
قال فی العنایۃ ای لانسلم انہ لایقع بائنا بل تقع واحدۃ بائنۃ اھ وھکذا فی فتح القدیر وغایۃ البیان والتبیین فقد علمت ان المذھب وقوع البائن، وقد تمسک بہ بعض من لاخبرۃ لہ ولادرایۃ بالمذھب علی ان قول الموثقین فی التعالیق تکون طالقا طلقۃ تملک بھا نفسھا لایوجب البینونۃ مستدلابانہ لوقال انت طالق علی ان لارجعۃ کان رجعیا، وھو خطأ وقد اوسعت الکلام فیھا فی رسالۃ۱؎اھ ملخصاً۔
عنایہ میں حنفی مسلک کی تائید میں فرمایا کہ مذکورہ صورت میں بائنہ طلاق نہ ہونا تسلیم نہیں کرتے بلکہ ایک طلاق بائنہ ہوگی اھ عنایہ کے علاوہ فتح القدیر، غایۃ البیان اور تبیین میں ایسے ہی ہے، اور آپ کو معلوم ہوچکا ہے کہ حنفی مذہب میں طلاق بائنہ ہوگی، جن لوگوں کومذہب کی خبر اور سمجھ نہیں انہوں نے یہاں استدلال کیا ہے کہ ''قول الموثقین فی التعالیق'' سے مراد یہ ہے کہ اگر خاوند بیوی کو کہے کہ ''تجھے ایک رجعی طلاق جس میں تجھے اپنا اختیار حاصل ہے'' تو اس میں طلاق بائنہ نہ ہوگی، اس پر انہوں نے دلیل یہ دی کہ اگر کوئی بیوی کو کہے کہ تجھے ایک طلاق ہے اس شرط پر کہ مجھے رجوع کا اختیار نہ ہوگا، تو یہ بھی رجعی طلاق ہوگی، حالانکہ ان لوگوں کا یہ بیان واستدلال خطأ ہے، اور میں نے اس بات کو تفصیل سے رسالہ میں لکھا ہے اھ ملخصاً(ت)
 (۱؎ بحرالرائق        فصل انت طالق     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی         ۳ /۲۹۱)
Flag Counter