Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
89 - 175
مسئلہ۱۲۱تا۱۲۴: از کوہ منصوری ڈاکخانہ کلہڑی کام اپر انڈیاگیٹ مرسلہ کلیم اﷲ صاحب ۳۰جمادی الاولیٰ ۱۳۳۶ھ

کتاب بہشتی زیور میں حصہ چہارم میں لکھا ہوا دیکھا ہے کہ اگر کسی عورت کا خاوند مرجائے اور ایک دن کم دو سال کے اندر بچہ پید اہوتو وہ مرحوم خاوند کا مانا جائے گا، یہ مسئلہ شرع محمدی یا طب یا ڈاکٹری سے تحقیق ہے، یہ جائز ہے یاناجائز؟ اور اگر جائز ہے تو کب سے ہے؟یاکہ پرانا مسئلہ ہے یااولیائے کرام سے جائز ہے؟

دوسرے یہ کہ چار مہینے دس دن جو شرع سے قائم ہیں بعد عدت سے نکاح کرے تو بعد کوایک سال یا ۹مہینے کے بچہ پیداہوا تو پہلے خاوند کا ماناجائے گا یا ب جس سے نکاح ہوااس کا؟

تیسرے یہ کہ وہ بچہ کونسی حق ملکیت میں مستحق ہوگا پہلے باپ کی ملکیت میں یادوسرے کی؟

چوتھے یہ کہ بعض امام سلام پھیر کر سر پر ہاتھ رکھتے ہیں تو کس مصلحت سے رکھتے ہیں؟
الجواب

کتاب بہشتی زیور نہ دیکھا کیجئے، اس کا دیکھنا حرام ہے، اس میں بہت سے مسائل غلط اور بہت باتیں گمراہی کی ہیں اس کے مصنف کو تمام علمائے حرمین شریفین نے بالاتفاق نام لے کر لکھاہے
من شک فی کفرہ فقد کفر۲؎
جواس شخص مذکور کے کافر ہونے میں شک کرے وہ بھی کافر ہے۔
 (۲؎ درمختار     باب المرتد         مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۳۵۶)
یہ مسئلہ یوں ٹھیک نہیں بلکہ اگر چار مہینے دس دن عدت کے گزارکر عورت نکاح کرلے اور نکاح سے چھ مہینے بعدبچہ پیدا ہو کہ موتِ شوہر سے  دس مہنیے دس ہی دن بعد ہوا ہر گز پہلے شوہر کا نہ ٹھھرے گا بلکہ اسی دوسرے کا ہے پہلے شوہر کے ترکہ سے اسے کچھ نہ ملے گا، یہ دوسراشخص ہی اس کا باپ ہے اگر یہ مرے گا تو وہ بچہ اس کا وارث ہوگا بلکہ اگر عورت دوسرے شخص سے نکاح نہ بھی کرے صرف اتنا ہوکہ چار ماہ دس دن بعد وہ اپنی عدت گزرجانے کا اقرار کر چکی ہو اس کے چھ مہینے بعد بچہ پیدا ہوا جب بھی ہرگزاس شوہر مردہ کا نہ ٹھہرے گا۔

درمختار میں ہے:
لواقرت بمضیھا بعد اربعۃ اشھروعشرا فولاد تہ لستۃ اشھرلم یثبت لاحتمال حدوثہ بعد الاقرار۱؎(ملخصاً)
اگر عورت موتِ زوج کے وقت سے چار ماہ دس دن عدت گزرنے کا اقرار کرے پھر وقت اقرار سے پورے چھ ماہ میں بچہ کو جنم دے تو بچے کا نسب ثابت نہ ہوگا کیونکہ احتمال ہے کہ حمل کا حدوث اقرار کے بعد ہواہو۔(ت)
 (۱؎ درمختار     فصل فی ثبوت النسب     مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۲۶۲)
نماز کے بعد پیشانی پر ہاتھ رکھ کر ایک دعا پڑھنا  حدیث میں آیا ہے کارڈ میں دعا لکھنے کی نہیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter