| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر ) |
تنویر الابصار و درمختار وردالمحتار میں ہے: یثبت نسب ولد معتدۃ الرجعی وان ولدت لاکثر من سنتین ولو لعشرین سنۃ فاکثر لاحتمال امتداد طھرھا وعلوقھا فی العدۃ مالم تقربمضی العدۃ وکانت الولادۃرجعۃ لوفی الاکثر منھما اولتمامھما لعلوقھافی العدۃ(فیصیرف بالوطء مراجعا نھر) لافی الاقل للشک(فان اقرت بانقضائھا والمدۃ تحتملۃ بان تکون ستین یوما علی قول الامام وتسعۃ وثلثین علی قولھما ثم جاءت بولد لایثبت نسبہ الا اذاجاءت بہ لاقل من ستۃ اشھر من وقت الاقرار فانہ یثبت نسبہ للتیقن بقیام الحمل وقت الاقرار فیظھر کذبھا، وکذاھذافی المطلقۃ البائنۃ والمتوفی عنھا اذا ادعت انقضائھا ثم جاءت بولد لتمام ستّۃ اشھر لایثبت نسبہ، ولاقل یثبت کما یثبت بلادعوۃ احتیاطا فی مبتوتۃ(یشمل البت بالواحدۃ والثلاث تزوجھا فی العدۃ اولابحر) جاءت بہ لاقل منھما من وقت الطلاق لجوازہ وجودہ وقتہ ولم تقر بمضیھا، کمامر، ولولتمامھما لایثبت النسب الابدعوتہ لانہ التزمہ وھی شبھۃعقدایضا والااذاولدت توأمین احدھما لاقل من سنتین والاخر لاکثر فیثبت لکن فی القھستانی الدعوۃ مشروطۃ فی الولادۃ لاکثر منھما وان لم تصدقہ المرأۃ فی الاوجہ فتح، ویثبت نسب ولد المقرۃ بمضیہا لولاقل من اقل مدتہ من وقت الاقرار ولا قل من اکثرھا من وقت البت للتیقن بکذبھا(استشکلہ الزیلعی بماذااقرت بعد سنۃ مثلا ثم ولدت لاقل من ستۃ اشھر من وقت الاقرارولاقل من ستین من وقت الفراق فانہ یحتمل بانقضائھا ان تنقضی فی ذٰلک الوقت فلم یظھر کذبھا بیقین الااذاقالت انقضت عدتی الساعۃ ثم ولدت لاقل المدۃمن ذٰلک الوقت اھ۱؎ استظہرہ فی البحر، وقال یجب حمل کلامھم علیہ کما یفھم من غایۃ البیان وتبعہ فی النھروالشرنبلالیۃ۲؎انتہت ملتقطاً۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
رجعی طلاق کی عدت والی کے ہاں بچہ پیدا ہوتو نسب اسی خاوند کا ہوگا اگرچہ یہ بچہ طلاق سے دو سال، بیس سال یا بیس سال سے بھی زیادہ عرصہ میں پیدا ہو اہو کیونکہ ہو سکتا ہے کہ نطفہ عدت میں ٹھہرا ہو اور عدت کے دوران طہر طویل ہوئے ہوں تا وقتیکہ عورت نے عدت ختم ہونے سے پہلے اقرار نہ کیا ہو اور بچے کی ولادت کو خاوند کا رجوع قرار دیا جائے گا اگر مطلقہ رجعی دوسال یا دو سال کے بعد بچہ جنم دے کیونکہ ممکن ہے کہ استقرار حمل عدت میں ہوا ہو(لہذا خاوند وطی کے ساتھ رجوع کرنے والا قرار پائے گا، نہر) اور دوسال سے کم مدت میں پیدائش ہوتو شک کی بناپر خاوند کا رجوع ثابت نہ ہوگا(کیونکہ ہوسکتا ہے کہ یہ حمل طلاق سے پہلے کا ہو) پھر اگرعورت نے عد ت ختم ہونے کا اقرار کرلیا ہو اور وہ مدت بھی عدت کے ختم ہونے کا احتمال رکھتی ہو مثلاً امام اعظم کے قول پر ساٹھ دن اور صاحبین کے قول پر انتالیس۳۹ دن گزرچکے ہیں پھر اس اقرار کے بعد بچہ کو جنم دے تو اس صوت میں بچے کا نسب پہلے خاوند سے ثابت نہ ہوگا مگر جبکہ اقرار کے وقت سے چھ ماہ کے اندر بچہ جنم دے تو نسب اسی سے ہی ثابت ہوگا کیونکہ اب یقینا اقرار کے وقت وہ حاملہ تھی تو اس سے عورت کا اقرار جھوٹا ثابت ہوجائے گا اور یوں ہی اگر مطلقہ بائنہ یا جس کا خاوند فوت ہوجائے گا اور یوں ہی اگر مطلقہ بائنہ یا جس کا خاوند فوت ہوا ہو جب وہ عدت ختم ہوجانے کادعوٰی کرے پھر دعوٰی کے چھ ماہ بعد بچہ کو جنم دے تو یہ نسب بھی پہلے خاوند کا نہ ہوگا اور اگر چھ ماہ سے کم مدت ہوتو احتیاطاً نسب پہلے خاوند کا ہوگا جیسا کہ بغیر دعوٰی بھی بائنہ طلاق والی میں نسب ثابت ہوتاہے (خواہ ایک طلاق یاتین طلاق سے بائنہ ہوئی ہو اور اس نے عدت میں دوسرے سے نکاح کیا یانہ کیا ہو، بحر) بشرطیکہ اس نے طلاق سے دو سال کے اندربچہ کو جنم دیا ہو کیونکہ ہوسکتا ہے کہ طلاق کے وقت اس کا حمل موجود ہواور اقرار بھی نہ پایاگیا ہو جیسا کہ گزرچکا ہے اور اگر طلاق سے دوسال پورے ہوجانے کے بعد بچہ جنا ہوتو پھر اس کے دعوٰی کے بغیر نسب ثابت نہ ہوگا، کیونکہ زوج نے نسب اپنے اوپر خود لازم کرلیا اور یہ مشابہ عقد بھی ہے مگر یہ کہ عورت نے اس حمل سے دو بچے جنے یوں کہ ایک کو دو سال پورے ہونے سے قبل اور دوسرے کو دوسال کے بعد جنم دیا ہوتو اس صورت میں دعوٰی کے بغیر نسب ثابت ہوجائے گا لیکن قہستانی میں ہے اوجہ روایت کے مطابق دو سال کے بعد کی ولادت کی صورت میں دعوٰی شرط ہے اگرچہ عورت زوج کی تصدیق نہ کرتی ہو ،فتح۔ایسی عورت جس نے عد ت گزرجانے کا اقرار کر رکھا ہو اور وہ اقرار کے وقت سے چھ ماہ سے کم مدت میں بچہ کو جنم دے یا طلاق بائن کے وقت سے دو سال کے اندر بچہ کو جنم دے تو اس بچے کا نسب ثابت ہوگا کیونکہ اس صورت میں عورت کا جھوٹا ہونا یقینی ہے، اس پر زیلعی نے یہ اشکال پیدا کیا ہے کہ مثلا جب عورت سال بعد عدت ختم ہونے کا اقرار کرے پھر وقت اقرار سے چھ ماہ کے اندر اور وقت فراق سے دو سال کے اندر بچے کو جنم دے تو ایسی صورت میں عدت کے ختم ہونے کا احتمال موجود ہے کہ عدت اسی وقت میں ختم ہوئی ہوتو عورت کا جھوٹا ہونا بطور یقین ثابت نہ ہوگا مگر اس صورت میں کہ جب وہ یوں کہے کہ میری عدت اب ختم ہوئی ہے پھر اس وقت سے چھ ماہ کے اندر بچہ کو جنم دے تو جھوٹا ہونا ظاہر ہوگا اھ اس کو بحر میں ظاہر قرار دیا، اور کہا کہ فقہاء کے کلام کو اس معنی پر محمول کرنا ضروری ہے جیسا کہ غایۃ البیان سے سمجھا جارہا ہے، اور نہر اور شرنبلالی میں اس کی پیروی کی ہے انتہت ملتقطا، واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
ف: قوسین کے درمیان والی عبارت ردالمحتار کی ہے جبکہ قوسین سے باہر والی عبارت تنویر اور درمختار کی ہے۔ نذیر احمد
(۱؎ درمختار فصل فی ثبوت النسب مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۶۲۔۲۶۱) (ردالمحتار فصل فی ثبوت النسب داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۶۲۳تا۶۲۶)