Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
87 - 175
مسئلہ۱۲۰: ازنجیب آباد ضلع بجنور محلہ نواب پورہ مرسلہ نیاز اﷲ خاں۵ربیع الاول شریف۱۳۱۳ھ

حضور لامع النور عالم ظاہر و باطن ومعقول ومنقول جناب فیص مآب مفتی محمد احمد رضاخاں صاحب دام فیوضہم، عالیجاہ! عرض یہ ہے کہ ایک شخص نے ایک عورت سے زنا کیا مدت تک پھر اسی کی زندگی میں اس کی بیٹی سے بھی حرام کیا، یہاں تک کہ دس برس تک اسے گھر میں ڈال کرپردہ میں رکھ کر حرام کرتا رہا، چار بچے پیداہوئے تین لڑکیاں اور ایک لڑکا، وہ پرورش پاگئے، اور یہ عورت منکوحہ جس کی یہ اولاد حرامی موجود ہےدوسرے شخص کی منکوحہ تھی اس کے پاس سے بھاگ کرزانی کے پاس رہنے لگی، خاوند اس کو لینے آیا خلق بیان کرتی ہے کہ خاوند نے  اس فعل کو دیکھ کربرادری کے سبب سے طلاق دے دی واﷲ اعلم بالصواب والغیب عنداﷲ اب وہ شخص زنا سے توبہ کرکے نکاح میں لانا چاہتا ہے، آیا نکاح ہوسکتا ہے یانہیں؟اور در صورت ناجائز ہونے نکاح کے وہ عورت مع ان بچوں کے نکال دی جائے گی یابچے اس سے وہ شخص پرورش کرنے کےلئے لے گا؟بینواتوجروا
الجواب

صورت مستفسرہ میں اگر شوہر نے اسے طلاق بھی دی ہوتاہم زانی سے نکاح نہیں ہوسکتا جب یہ اس کی ماں سے زنا کرچکا، بیٹی ہمیشہ کو حرام ہوگئی،
فی الدرالمختار حرم اصل مزنیۃ وممسوسۃ، والمنظور الی فرجھا الداخل وفروعھن۱؎اھ ملخصاً۔
درمختار میں مزنیہ اور جس عورت کو شہوت کے ساتھ مس کیا اور وہ جس کی شرمگاہ کے داخل حصہ کو شہوت سے دیکھا ہوان عورتوں کے اصول و فروع حرام ہوجائیں گے اھ ملخصاً(ت)
 (۱؎ درمختار     فصل فی المحرمات     مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۱۸۸)
اور جبکہ معلوم ہے کہ اس زانی نے اب تک اس سے نکاح نہ کیا تھا اب زنا سے توبہ کرکے نکاح کرنا چاہتا ہے تو یہ بچے اس شخص کے کسی طرح نہیں ٹھہرسکتے بلکہ اگر شوہر نے طلاق نہ دی یا طلاق سے پہلے یا اس کے بعد چھ مہینے کے اندر تک یہ اولادیں پیداہوئیں تو سب شوہر ہی کی قرار پائیں گی اور زانی کے لئے پتھر۔
قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الولدللفراش وللعاھر الحجر۲؎۔
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: بچے کا نسب نکاح والے سے ہوگا اور زانی کو محرومی ہے(ت)
 (۲؎ صحیح البخاری باب الولد للفراش حرۃ کانت اواَمۃ قدیمی کتب خانہ کراچی     ۲ /۹۹۹)
اور طلاق سے چھ مہینے یا زائد کےعہ رجعی تھی اور بچہ اس وقت ہوا کہ عورت نے ہنوز عدت گزرجانے کا اقرار نہ کیا تھا یا اقرار ایسے وقت کیا تھا کہ اتنی مدت میں عدت کا گزرجانا محتمل نہیں یعنی امام کے نزدیک طلاق کو دو مہینے اور صاحبین کے نزدیک انتالیس۳۹ دن نہ گزرے تھے یا اقرار وقت تو گزرنا محتمل تھا مگر بعد کو اس کاکذب ظاہر ہوا کہ جو وقت اس نے انقضائے عدت کا بتا یا تھا اس سے چھ مہینے کے اندر بچہ ہوا تو ان صورتوں میں پہلا بچہ جو بعد طلاق ہوا ہے علی الاطلاق شوہر ہی کا ٹھہرے گا طلاق سے بیس برس بعد پیدا ہوا کہ طہر کےلئے زیادت کی جانب کوئی حد مقرر نہیں،
عہ مسودہ میں بیاض ہے۔
ممکن ہے کہ تین حیض تیس برس میں آئیں تو انقضائے عدت نہ فی نفسہٖ ثابت ہوا نہ عورت کے اقرار مقبول سے، لاجرم اس کا پیٹ میں رہنا ایامِ نکاح میں تھا یازمانہ عدت میں ہر طرح نسب ثابت ہے کہ طلاق رجعی میں شوہر جب عدت کے اندر وطی کرے تو وہ حرام نہیں ہوتی بلکہ رجعت ہوجاتی ہے ولہذا عدت ہی میں حمل رہنا ثابت نہ ہوا بلکہ محتمل کہ طلاق سے پہلے کا ہو تو اس کی ولادت مثبت رجعت نہ ہوگی بلکہ مثبت انقضائے عدت ہوگی کہ وضعِ حمل کے بعد بقائے عدت کے کوئی معنی نہیں، اس صورت میں اور بچے جواسی کی ولادت کے چھ مہینے یا زائد کے بعد پیدا ہوئے شوہر کے نہیں ٹھہرسکتے کہ ان کا پیٹ میں رہنا نہ ایامِ نکاح میں ہو انہ زمانہ عدت میں، ہاں اگر دوسرا بچہ اس سے پہلے کی پیدائش سے چھ مہینے کے اندر ہوگیا تو یہ بھی شوہر کا قرار پائے گا کہ چھ مہینے سے کم میں دوسرے حمل کا بچہ نہیں ہوسکتا، لاجرم یہ اسی کے ساتھ تھا، اور اگر طلاق بائن تھی اگرچہ مغلظہ ہواور عورت اپنے شوہر کی مدخولہ تھی اوراس نے ہنوز انقضائے عدت کے اقرار مقبولہ بمعنی مذکور کیا تھا کہ طلاق سے دو برس کے اندر بچہ ہوا تو بھی شوہر کا ٹھہرے گا کہ اس کا پیٹ میں رہنا ایام نکاح میں محتمل ہے، اور دو برس کے بعد ہوا تو اب حمل زمانہ نکاح کا تو یقینا نہ تھا نہ ایامِ عدت کا ٹھہراسکتے ہیں کہ بے نکاح جدید عدت بائن میں قربت حرام ہے، اس صورت میں ناچار شوہر کا نہ ہوگا مگریہ کہ وہ اپنا ایک بچہ ہولیا تھا یہ دوسرا اس سے چھ مہینے کے اندر ہوگیا تو بوجہ سابق اسے بھی شوہر کا ٹھہرادیں گے، بالجملہ اتنی صورتیں ہیں جن میں یہ بچے کل یا بعض شوہر ہی کے ٹھہریں گے اور ثابت النسب ہوں گے اور انہیں ولد الزنا کہنا ناجائز ہوگا، اور اگر بالفرض ان صورتوں سے کوئی شکل نہ پائی جائے تو غایت یہ کہ شوہر کے نہ ٹھہریں ولدالزنا یامجہول النسب ہوں، بہر حال زانی کے کسی طرح نہیں ٹھہر سکتے نہ اسے ان پر کوئی استحقاق ودعوٰی۔
Flag Counter