| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر ) |
مسئلہ۱۱۸: ۲۷جمادی الآخرہ۱۳۱۶ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی بیوی کو یہ کہہ کر نکال دیا کہ عورت خراب اور بدکار ہے، پس وہ عورت مذکورہ ایک مدت آوارہ طور پر پھر اکی، اب زید نے اس عورت کو اپنے مکان میں لاکر رکھ لیا، مکان میں داخل ہونے کے تین ماہ بعد دختر پیداہوئی، اس صورت میں اول تو یہ کہ زید کا نکاح نکاح رہا یا نہیں؟دوسرے یہ کہ وہ لڑکی زید کی قرار دی جائے گی یاحرام کی؟کیونکہ ایام آوارگی میں کبھی زید کے پاس نہیں آئی، اور اب زید نے جو اس عورت کو پھر رکھا ہے نکاح کرے یانہیں؟اور زید عورت کے نکال دینے پر اور پھر رکھ لینے پر از روئے شریف مستوجب کسی سزا ہے؟
الجواب صرف نکال دینے سے زید کے نکاح میں کچھ فرق نہ آیا، لڑکی زید ہی کی قرار پائے گی اگرچہ ایام آوارگی میں یہ عورت کبھی زید کے پا س نہ آتی اور مکان میں واپس آتے ہی اسی دن لڑکی پیدا ہوجاتی۔
قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الولدللفراش وللعاھرالحجر۲؎۔
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: بچے کا نسب نکاح والے سے ہوگا اور زانی کو محرومی ہے(ت)
(۲؎ صحیح البخاری کتاب الفرائض باب الولد للفراش الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۹۹۹)
زید کو دوبارہ نکاح کی حاجت نہیں پھر رکھ لینے میں اس پر کوئی الزام نہیں، ہاں نکال دینا اگر بلاوجہ شرعی تھا تو گنہگار ہوا۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۱۱۹: کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کا داد اپٹھان تھا، دادی اور والدہ سیدانی۔ اس صورت میں زید سید ہے یاپٹھان؟بینواتوجروا
الجواب شرع مطہر میں نسب باپ سے لیا جاتا ہے جس کے باپ دادا پٹھان یا مغل یا شیخ ہوں وہ انہیں قوموں سے ہوگا اگرچہ اس کی ماں اور دادی سب سیدانیاں ہوں، نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے صحیح حدیث میں فرمایا ہے:
من ادعی الی غیرابیہ فعلیہ لعنۃ اﷲ والملٰئکۃ والناس اجمعین لایقبل اﷲ منہ یوم القیٰمۃ صرفا ولاعدلا۱؎۔ ھذامختصر۔
جو اپنے باپ کے سوا دوسرے کی طرف اپنے آپ کو نسبت کرے اس پر خود اﷲ تعالٰی اور سب فرشتوں اور آدمیوں کی لعنت ہے، اﷲ تعالٰی قیامت کے دن اس کا نہ فرض قبول کرے نہ نفل۔ مختصراً۔
(۱؎ المعجم الکبیر حدیث ۶۴ مروی از عمرو بن خارجہ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۱۷ /۳۴)
بخاری و مسلم وابوداؤد وترمذی ونسائی وغیرہم نے یہ حدیث مولا علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ سے روایت کی ہے، ہاں اﷲ تعالٰی نے یہ فضیلت خاص امام حسن وامام حسین اور ان کے حقیقی بھائی بہنوں کو عطا فرمائی رضی اﷲ تعالٰی عنہم اجمعین کہ وہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے بیٹے ٹھہرے پھر ان کی جو خاص اولاد ہے ان میں بھی وہی قاعدہ عام جاری ہوا کہ اپنے باپ کی طرف منسوب ہوں اس لئے سبطین کریمین کی اولاد سید ہیں نہ کہ بناتِ فاطمہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا کی اولاد کہ وہ اپنے والدوں ہی کی طرف نسبت کی جائیں گی، واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔