| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر ) |
مسئلہ۱۱۷: ۱۲جمادی الاخری۱۳۲۱ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص نے اپنی زوجہ کو طلاق بائن دی جو اس کے پاس بعد نکاح پندرہ روز رہی تھی مگر مرد نے خلوت اس کے ساتھ نہیں کی، دو اشخاص درمیانیوں نے کہ جو پورے اس حال سے واقف تھے اسی روز رشوت لے کر دوسرے شخص سے نکاح اس عورت کا کرادیا، بعد ایک سال کے اس عورت سے ایک لڑکا پیدا ہوا، اس وقت خاوند کو معلوم ہوا کہ ایامِ عدت پورے ہونے سے پہلے نکاح ہوگیا تھا، اب وہ لوگ جنہوں نے اس شخص کا نکاح دھوکے سے کرادیا تھا کہتے ہیں کہ یہ نکاح جائز نہیں، عورت کا ازروئے شرع شریف کے نکاح جائز ہوا یانہیں؟اگر نہیں ہوا تو کیا حکم کرانے والوں کے واسطے معہ زوجہ زوج کے اور اس لڑکے کے واسطے؟آیا حرام ہے یا نہیں؟ فقط، بینواتوجروا۔
الجواب خلوت کے معنی یہ ہیں کہ مرد و عورت دونوں تنہا ایک مکان میں تھوڑی دیر اکٹھے ہوئے ہوں جہاں مباشرت سے کوئی مانع نہ ہواگرچہ مباشرت واقع نہ ہو۔ اگر خلوت بایں معنی ان مرد وزن میں نہ ہوئی تھی کہ مرد نے طلاق دے دی تو عورت پر اصلاً عدت لازم نہ ہوئی، اسی وقت اس سے نکاح کرلینا جائز تھا، اس تقدیر پر دوسرا نکاح کہ اس عورت نے کیا جائز ہوا، اور اولاد ولدالحلال ہے، ہاں اگر ایسی خلوت ہوگئی تھی اور پھر طلاق ہوئی اور عورت نے عدت نہ کی تو نکاح ثانی حرام قطعی ہوا اور جتنے لوگ اس سے واقف ہو نکاح ثانی میں شریک وساعی ہوئے سب حرام عظیم میں مبتلا ہوئے، شوہر دوم کو اگر اطلاع نہ تھی کہ یہ عورت مطلقہ ہے اور ہنوز عدت نہیں گزری ہے بلکہ بعد ولادتِ پسر اطلاع ہوئی جیسا کہ بیان سائل ہے جب تو یہ بچہ بلا شبہہ ولدالزنا نہیں، اور اگر وہ بھی آگاہ تھا اور دانستہ اس امر کا مرتکب ہوا تو بھی بچہ حرامی نہیں، فرق اتنا ہے کہ پہلی صورت میں شوہر ثانی کا بچہ قرار پائے گا اور دوسری صورت میں شوہر اول کا۔ درمختار میں ہے:
تزوجت معتدۃ بائن فولدت لاقل من سنتین مذبانت ولنصف حول مذتزوجت عن البدائع انہا للثانی معللا بان اقدامھا علی التزوج دلیل انقضاء عدتھا، حتی لو علمہ بالعدۃ فالنکاح فاسد وولدھا للاول۱؎اھ ملتقطا، واﷲ تعالٰی اعلم۔
بائنہ طلا ق کی عدت والی نے نکاح کرلیا پھراس نے بائنہ طلاق کے وقت سے دو سال کے اندر اندر دوسرے نکاح سے چھ ماہ کے بعد بچے کو جنم دیا، تو بدائع سے منقول ہے کہ یہ بچہ دوسرے کا ہوگا، اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا عورت کا دوسرے نکاح کےلئے اقدام کرنا عدت ختم ہونے کی دلیل قرار دی جائیگی حتی کہ اگر مرد و عورت دونوں کو معلوم ہو کہ عدت ابھی باقی ہے، تو یہ نکاح فاسد ہوگا، اور بچہ پہلے خاوند کا قرار دیا جائے گا، ملتقطا،واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت)
(۱؎ درمختار فصل فی ثبوت النسب مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۶۳)