| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر ) |
مسئلہ۱۱۶: کیافرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ عورت بعد وفات اپنے شوہر کے کس قدر ایام تک نکاح کرنے سے ممنوع ہے اگر درمیان عدت کے عورت مذکورکے ساتھ کوئی شخص نکاح کرلے تو وہ نکاح صحیح ہے یانہیں اور اولاد جو نکاح مذکور کے بعد پیدا ہوگی وہ صحیح النسب سمجھی جائیگی یا کیسے؟بینوامع حوالۃ الکتاب۔
الجواب اگر حامل ہے تو وضع حمل تک ورنہ چار مہینے دس دن تک نکاح نہیں کرسکتی کما ھو منصوص فی القراٰن العزیز(جیسا کہ اس کے بارے میں قرآن کریم میں نص وارد ہوئی ہے۔ت):
والذین یتوفون منکم ویذرون ازواجا یتربصن بانفسھن اربعۃ اشھر وعشرا۳؎۔
اور تم میں جو مریں اور بیبیاں چھوڑیں وہ چار مہینے دس دن اپنے آپ کو روکے رہیں۔(ت)
(۳؎ القرآن الکریم ۲ /۲۳۴)
عدت کے اندر نکاح مطلقاً ناجائز ہے، ہاں اگر شوہر کو معلوم نہ تھا کہ دوسرے کی عدت میں ہے نادانستگی میں نکاح کرلیا تو اولاد صحیح النسب سمجھی جائے گی اور دانستہ اس حرام خالص کامرتکب ہوا تو قنیہ و مجتبٰی و بحر الرائق وغیرہا کا مقتضی یہ ہے کہ اولاد ولدالزنا ہو، ردالمحتار میں ہے:
فی البحر عن المجتبٰی ان نکاح منکوحۃ الغیر ومعتدتہ فالدخول فیہ لایوجب العدۃ ان علم انھا اصلا ولھذا یجب الحدمع العلم بالحرمۃ لانہ زنا کما فی القنیۃ وغیرہ۱؎۔
بحر میں مجتبٰی سے ہے اگر غیر شخص کی منکوحہ یا معتدہ کو جانتے ہوئے کسی نے اس سے نکاح کے بعد جماع کیا تو اس سے عورت پر عدت لازم نہ ہوگی کیونکہ کسی نے بھی اس کو جائزنہیں کہا اس لئے یہ نکاح منعقد ہی نہ ہوگا اس لئے جان بوجھ کر ایسا کرنے والے پر زنا کی حد واجب ہوگی کیونکہ یہ زنا ہے جیسا کہ قنیہ وغیرہ میں ہے۔(ت)
(۱؎ ردالمحتار باب العدّۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۶۰۷)
مگر تحقیق یہ ہے کہ اس صورت میں حتی الامکان اولاد شوہر اول کی ٹھہرے گی جبکہ اس کی موت سے دو برس کے اندر ہوئی ہو اور اگر دو برس کے بعد ہوئی تو شوہر ثانی کی قرار دیں گے جبکہ نکاح ووطی سے چھ مہینے بعد ہوئی ہواور اگر اول کی موت کو دوسال کامل ہوچکے تھے، اور دوسرے کے نکاح ووطی کو ابھی چھ مہینے نہ ہوئے تو اسے مجہول النسب کہیں گے،فی البحر عن البدائع(بحرمیں ہے بدائع سے منقول ہے۔ت)
فان علم وقع الثانی فاسد فان جاءت بولد فان النسب یثبت من الاول ان امکن اثباتہ منہ بان جاءت بہ لاقل من سنتین منذطلقھا الاول اومات۲؎۔
یہ معلوم ہوتے ہوئے کہ یہ عورت غیرکی عدت میں ہے اگر کسی نے اس سے نکاح کرلیا تو نکاح ثانی فاسد ہوگا، پھر اگر وہ عورت بچہ جنے تو بچے کا نسب پہلے خاوند سے قرار دیا جائے گا اگر اس سے ثابت کرنا ممکن ہو، مثلاً یوں کہ پہلے خاوند کی طلاق یا اس کی موت سے دو سال کے اندر بچہ پیدا ہوتو نسب پہلے کا قرار دیاجائیگا۔(ت)
(۲؎ بحرالرائق باب ثبوت النسب ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۴ /۱۵۸)
ردالمحتار میں ہے:
امااذالم یمکن بان جاءت بہ لاکثر من سنتین مذبانت ولستۃ اشھر مذتزوجت فھو للثانی کما فی البحر عن البدائع۱؎۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
لیکن جب ایسا ممکن نہ ہو مثلاً بچے کی پیدائش طلاق بائنہ سے دوسال بعد اور دوسرے نکاح سے چھ ماہ پورے ہونے پر ہوئی تو اس صورت میں بچہ دوسرے کی طرف منسوب ہوگا جیسا کہ بحر میں بدائع سے منقول ہے۔ واﷲتعالٰی اعلم۔(ت)
(۱؎ ردالمحتار فصل فی ثبوت النسب داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۶۳۳ )