| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر ) |
مسئلہ۱۱۵: ۴ ربیع الآخر شریف۱۳۰۹ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسماۃ مجیدن ساکنہ بدایوں عرصہ ۲۲سال ہوا کہ اپنے گھر سے بھاگ کر خدامعلوم کہا ں کہاں رہی بعد دوبرس کے معلوم ہوا کہ نوکری آیا گیری کرلی چنانچہ وہاں کا حمل بھی رہا اور دعوٰی ایک انگریز پر اس حمل کاکیا پھر بریلی میں مسمی اسد علی خاں سے ملاقات کرلی اور اس حمل کو اسد علی خاں کی یہاں وضع کیا، بعد وضع کے ایک ماہ اور رہی، اور پھر بچہ چھوڑ کر بھاگ گئی، اور نوکری آیا گیری کرلی، وہاں اسد علی خاں بھی پہنچے اور چندسال کے بعد وہیں انتقال کیا، وہ عورت بعد انتقال اسد علی خاں کے آوارہ پھرتی رہی اور کئی بچے پیداہوکر مرگئے، ان میں سے ایک لڑکا پندرہ برس کا اور ایک سال بھر کاموجود ہے، جس مدت میں کہ اس علی خاں سے ملاقات سے ملاقات تھی پردہ میں ہرگز نہیں رہی اس کے نکاح کا کوئی گواہ کامل نہیں، ممّن میاں بیان کرتے ہیں کہ میں نے جب اسد علی خاں کو بہت غیرت دلائی تو کہا کہ میں نے نکاح کرلیا ہے۔ چند امیاں بیان کرتے ہیں کہ میرے سامنے ہوا تھا اس کی عمر اس وقت تیس برس کی ہے اور بوقت نکاح کی دس برس کی تھی کیونکہ اس واقعہ کو بیس برس پورے ہوگئے تو ان کی شہادت بوقت نابالغی کی ہے اور جو لڑکا کہ پندرہ یا سولہ برس کا ہے اس کو اسد علی خاں کا بتاتے ہیں، پس اس صورت میں استفسار ہے کہ یہ عورت بدایوں والے خاوند کے نکاح میں رہی یانہیں، اور ممّن میاں جو اسد علی خاں کے قول کو نقل کرتے ہیں یہ نقل کرنا قول کا شہادت عقد کاکام دے سکتا ہے یانہیں، اور چندامیاں شخص واحد نابالغ کی شہادت معتبر ہے یانہیں اور وہ لڑکا جواسد علی خاں کا بتاتے ہیں ان کا ہے یانہیں، ہاں زمانہ قرار نطفہ ان کی حیات کا زمانہ ہے اور در صورت ثبوت نکاح کے وہ لڑکا وارث ترکہ اسد علی خان کا ہے یانہیں؟فقط
بینوابسند الکتاب توجروافی یوم الحساب۔
الجواب صورت مستفسرہ میں مجیدن بدستور اپنے شوہر بدایونی کے نکاح میں ہے کہ آوارگی و بدکارگی مزیل نکاح نہیں،
لحدیث ابی داؤد والنسائی قال ف انی احبھا قال فامسکھا۱؎
ابوداؤد اور نسائی کی حدیث میں ہے خاوند نے کہا مجھے بیوی سے محبت ہے، تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا: تو اسے پاس رکھ لے،
(۱؎ سنن ابوداؤد کتاب النکاح آفتاب عالم پریس لاہور ۱/۲۸۰) (سنن النسائی تزویج الزانیۃ ۲ /۷۱ وباب ماجاء فی الخلع ۲ /۱۰۷ نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی)
(ف: سنن ابوداؤد کے الفاظ یوں ہیں:ان امرأتی لاتمنع ید لامس قال غربھا قال اخاف ان تتبعھا نفسی قال فاستمتع بھا، اور سنن النسائی ص ۱۰۷ پر بھی یہی الفاظ ہیں جبکہ ص ۱۷ پر الفاظ یوں ہیں:ان عندی امرأۃ ھی احب من الناس الیّ وھی لاتمنع یدلامس قال طلقھا قال لااصبر عنھا قال استمتع بھا۔ نذیر احمد سعیدی)
وفی الدر المختار عن القنیۃ لایجب علی الزوج تطلیق الفاجرۃ۲؎۔
اور درمختار میں قنیہ سے منقول ہے فاجرہ بیوی کو طلاق دینا خاوند پر واجب نہیں ہے۔(ت)
(۲؎ درمختار فصل فی المحرمات مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۹۰و ۲ /۲۵۴ )
اور شہادت مذکورہ ناکافیہ ہے کہ نکاح میں جب ایک گواہ معاینہ اور ایک اقرار بیان کرے تو یہ اختلاف شرعاً موجب ردِّ شہادت ہے،
فی الخانیۃ ثم الھندیۃ لوکان المشھور بہ، قولا لایتم الا بفعل، کالنکاح واختلف الشھود فی المکان والزمان اوفی الانشاء والاقرار لاتقبل شہادتھم۳؎اھ
خانیہ پھر ہندیہ میں ہے جس کے متعلق گواہی دی جارہی ہو وہ ایسا قول ہو جو فعل کے بغیر تام نہ ہو، مثلاً نکاح، تو وہاں گواہوں کا مکان یا زمان یااس کے انشاء یا اقرار میں اختلاف ہوتو ان کی شہادت مقبول نہ ہوگی اھ،
(۳؎ فتاوٰی قاضی خاں فصل الشہادۃ التی تخالف الدعوٰی نولکشور لکھنؤ ۳ /۵۴۹) (فتاوٰی ہندیہ الباب الثامن فی الاختلاف بین الشاہدین نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۵۰۹)
وفی جامع الفصولین لو اختلف الشاھد بان شھد احدھما علی الانشاء، والاخر علی اقرارفی فعل کجنایۃ اوقول ملحق بالفعل کنکاح یمنع قبول الشہادۃ۱؎اھ ملخصا وفیہ من الفصل ۱۱من اختلاف الدعوی والشہادۃ لو شھداحدھما بنکاح والاخرباقرار بہ لایقبل کغصب۲؎
اور جامع الفصولین میں ہے اگر دو۲ گواہوں کا کسی فعل کے متعلق اختلاف ہوکہ ایک نے انشاء اور دوسرے نے اقرار کی گواہی دی مثلاً جنایت یا اختلاف شہادت اس قول سے متعلق جو فعل پر تام ہو، مثلاً نکاح، تو ان کا یہ اختلاف شہادت کے قبول کرنے کے لئے مانع ہوگا اھ،ملخصاً،اسی میں فصل ۱۱ اختلاف دعوےٰ و شہادت سے ہے کہ ایک نے نکاح اور دوسرے نے اس کے اقرار پر شہادت دی تو یہ مقبول نہ ہوگی جیسا کہ غصب میں بھی یہی حکم ہے۔(ت)
(۱؎ جامع الفصولین فصل ۱۱فی الاختلاف بین الدعوٰی والشہادت الخ اسلامی کتب خانہ بنوری ٹاؤن کراچی ۱/ ۶۴۔۱۶۳) (۲؎ جامع الفصولین فصل ۱۱فی الاختلاف بین الدعوٰی والشہادت الخ اسلامی کتب خانہ بنوری ٹاؤن کراچی ۱ /۱۶۵)
پس جبکہ شوہر کا فراش صحیحہ ثابت اور اسد علی خاں کے نکاح کا اصلاً ثبوت نہیں کہ برتقدیر تزوج بحالت ناواقفی از نکاح غیر فراش فاسد حقیقی ٹھہر کر فراش صحیح حکمی پر بربنائے روایت مفتی بہا ماخوذ للامام الثانی مرجح رہی،کما حققہ فی الدرالمختار واوضحہ فی ردالمحتار (جیسا کہ درمختار میں ا سکی تحقیق کی ہے اور ردالمحتار میں اس کی وضاحت کی گئی ہے۔ت) تو بحکم حدیث صحیح متواتر الولد للفراش وللعاھراالحجر (بچے کا نسب نکاح والے کے لئے ہے اور زانی کے لئے محرومی ہے۔ت) وہ لڑکا شرعاً اسی بدایونی کا قرار پائے گا مالم ینف لعانا(جب تک لعان سے نسب کی نفی نہ کرے۔ت) اسد علی خان سے کوئی علاقہ نہیں رکھتا کہ اس کا وارث ہوسکے واﷲ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔