| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر ) |
فی الدرالمختار لو تزوجت معتدۃ بائن فولدت لاقل من الاقل مذ تزوجت ولاکثر منھما مذبانت لم یلزم الاوّل ولاالثانی والنکاح صحیح۳؎اھ ملتقطا،
بہر حال ایسی صورت میں اس عورت کو زانیہ اور بچے کو ولدالزنا کہا جائے یانہ، بدائع کی روایت پہلے احمال یعنی عورت کو زانیہ اور بچے کو ولدالزنا قرار دینے کے لئے مفید ہے، درمختار میں ہے کہ اگر بائنہ طلاق والی معتدہ دورانِ عدت نکاح کرے اور نکاح کے بعد چھ ماہ سے قبل بچے کو جنم دے یا طلاق بائنہ کے دو سال بعد بچہ جنے تو وہ نسب نہ پہلے خاوند اور نہ دوسرے خاوند کے لئے ثابت ہوگا جبکہ نکاح صحیح قرار پائے گا اھ ملتقطا،
(۳؎ درمختار فصل فی ثبوت النسب مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۶۳)
قال الشامی صحیح ای عندھما وعندابی یوسف فاسد لانہ اذا لم یثبت من الثانی کان من الزنا، ونکاح الحامل من الزناصحیح عند ھمالاعندہ کما فی البدائع۱؎
اس پر علامہ شامی نے کہا کہ یہ نکاح امام اعظم اور امام محمد رضی اﷲ تعالٰی عنہما کے نزدیک صحیح ہوگااور امام ابو یوسف رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے نزدیک فاسد ہوگا کیونکہ جب دوسرے خاوند کانسب بھی ثابت نہ ہواتو حمل زنا سے ہوگا جبکہ زنا سے حاملہ کا نکاح امام اعظم اور امام محمد رحمہما اﷲ کے نزدیک صحیح ہوتا ہے اور امام ابویوسف کے نزدیک فاسد ہوتا ہے بدائع میں یونہی مذکور ہے اھ،
(۱؎ ردالمحتار فصل فی ثبوت النسب داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۶۳۲)
وروایت امام زیلعی وغیرہ مفید ثانی ست وہمین است اظہر من حیث الدلیل وہمدرین ست احتیاط جمیل درہمچو امر جلیل چہ می رسد کہ زن پنہانی عقد زن و شوئی باکسے بستہ یا بوطی شبہہ مبتلا گشتہ باشد حالابوجہ حیا تستّرمی پوشد بسخنے باطل می کوشد آری مجہول النسب خوانندش یعنی پسرے کہ پدرش معلوم نیستففی ردالمحتار فی الزیلعی وغیرہ لوولدت المنکوحۃ لاقل من ستۃ اشھر مذتزوجھا لم یثبت النسب لان العلوق سابق علی النکاح ویفسد المنکاح لاحتمال انہ من زوج اٰخر بنکاح صحیح او بشبھۃ ۲؎
اور امام زیلعی وغیرہ کی روایت دوسرے احتمال یعنی زانیہ اور ولدالزنا نہ کہنے کو مفید ہے جبکہ دلیل کے اعتبار سے بھی یہی زیادہ واضح ہے نیز ایسے عظیم معاملہ میں احتیاط کی خوبی بھی اسی میں ہے، کیونکہ ہوسکتا ہے کہ اس عورت نے خفیہ نکاح کیا باشبہہ میں اس سے کسی نے وطی کرلی ہو اور اب حیاوشرم کی وجہ سے وہ پردہ پوشی کررہی ہو اور غلط بیانی سے کام لے رہی ہو اس لئے بچے مجہول(یعنی ایسا بچہ جس کا باپ معلوم نہ ہو) قرار دینا ہی مناسب ہے، ردالمحتار میں ہے کہ زیلعی وغیرہ میں ہے کہ اگر کسی منکوحہ نے نکاح کے بعد چھ ماہ پورے ہونے سے قبل بچے کو جنم دیا تو اس خاوند سے بچے کا نسب ثابت نہ ہوگا کیونکہ یہ نطفہ نکاح سے قبل کا ہے اور یہ نکاح فاسد قرار پائے گا کیونکہ ہوسکتا ہے کہ یہ حمل کسی دوسرے شخص سے نکاح صحیح یا شبہ سے وطی کے ساتھ ٹھہرا ہو،
(۲؎ ردالمحتار فصل فی ثبوت النسب داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۳۳۔۶۳۲)
وپیش ازاں بعد نقل کلام بدائع فرمودتبعہ فی البحر ولم یظھرلی وجہہ لانہ اذالم یثبت من واحد منھما، علم انہ من غیرھما ولایلزم ان یکون من الزنا لاحتمال کونہ بشبھۃ،ولا یصح النکاح الااذاعلم انہ من زنا ففی الزیلعی وغیرہ الٰی اٰخرہ فلیتأمل۳؎ اھ، واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
انہوں نے اس سے قبل بدائع کا کلام نقل کرکے فرمایا کہ بحر میں بدائع کی اتباع کی ہے جبکہ مجھے بدائع کے کلام کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی کیونکہ ایسی صورت میں جب بچے کا نسب نہ پہلے خاوند سے ثابت ہوا اور نہ ہی دوسرےسے، تو ظاہر ہے کہ دونوں کے علاوہ کسی غیر کا ہے اور وہ غیر ضروری نہیں کہ زنا ہو، ہوسکتا ہے کہ یہ حمل وطی بالشبہہ کی وجہ سے ہوا ہو، اور یہ نکاح صحیح نہ ہوگا مگر جب معلوم ہوجائے کہ یہ حمل زنا سے ہے، پھر زیلعی وغیرہ کا گزشتہ کلام آخر تک ہے، پس اس میں غور کرنا چاہے اھ، واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم(ت)
(۳؎ ردالمحتار فصل فی ثبوت النسب داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۶۳۲)