| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر ) |
ماقولکم رحمکم اﷲ تعالٰی اندریں مسئلہ کہ زنِ دوشیزہ را کہ ہنوز بحبالہ نکاح کسے نیامدہ است فرزندے آمدزن میگوید کہ بخواب دیدم کہ مردے بامن بہم شدو احتلام کردم وبار گرفتم ایں پسرازان ست دریں صورت قولش مقبول شود یا نہ وپسر را ولدالزنا دانند یا چہ؟بینواتوجروا
آپ حضرات(رحمکم اﷲ تعالٰی) کا کیا ارشاد ہے اس مسئلہ میں کہ ایک نوجوان کنواری لڑکی نے بچے کو جنم دیا ہے اور وہ یہ کہتی ہے کہ میں نے خواب میں ایک مرد کو اپنے ساتھ دیکھا جس کی وجہ سے مجھے احتلام ہوا اور یہ بچہ اس حمل سے پیدا ہوا ہے، کیا اس صورت میں اس لڑکی کی بات تسلیم کی جائے گی یا نہیں اور اس بچے کو ولدالزنا کہا جائے گا یانہیں۔ بیواتوجروا(ت)
الجواب ہمچو سخنے بے معنی ہیچ گونہ قابل پذیرائی نیست کہ بجماع خواب بار آورشدن محال عادی ست ہمچنانکہ پسر بے پدر بوجود آمدن
فی میزان الامام العارف الشعرانی ان الولد لایتخلق الامن ماء الرجل والمرأۃ معاو تخلق الولد من ماء واحد من خصائص عیسٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام۱؎
ایسی بے معنی بات کسی طرح قابل قبول نہیں ہوسکتی کہ خواب میں جماع کی وجہ سے حمل کا ٹھہرنا اور ایسے ہی بغیر باپ بچہ پیدا ہونا محال عادی ہے، امام عارف شعرانی نے میزان میں فرمایا کہ بچہ مرد اور عورت کے مشترکہ نطفہ سے پیدا ہوتا ہے اور صرف ایک کے نطفہ سے بچہ کا پیداہونا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ہی خصوصیت ہے،
(۱؎ المیزان الکبریٰ باب حکم الزنا مصطفی البابی مصر ۲ /۱۵۹)
اگر امثال ایں دعاوی بگوش قبول آید در فتنہ عظیمہ برروئے مسلمانان کشاید زنان بے قید ہرچہ خواہند کنند و ہنگام مواخذہ بہمچواکاذیب واضحہ چنگ زنند
کما قال الامام الاجل سیدنا مالک بن انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ فیما ھواظہرو اقرب من ھذا اعنی نکاح الجنی انسیۃ انی اکرہ اذاوجدت امرأۃ حاملا قیل لھا من زوجک قالت من الجن فیکثر الفساد فی الاسلام بذٰلک۱؎رواہ ابوعثمٰن بن سید بن العباس الرازی فی کتاب الالھام والوسوسۃ قال حدثنا مقاتل عن سعید بن داؤد الزبیدی فذکرہ وفیہ قصۃ اوردہ سیّدی احمد الحموی فی الغمز۲؎
اگر ایسی بات تسلیم کرلی جائے تو مسلمانوں میں عظیم فتنہ پیداہوجائے اور عورتیں جو چاہیں کرتی رہیں گی اور مواخذہ کے وقت ایسے جھوٹ گھڑنا شروع کردیں گی،جیسا کہ امام اجل سیدنا مالک بن انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے فرمایا یعنی جنّ کاکسی انسان عورت سے نکاح کے بطلان کے متعلق زیادہ واضح اور ناپسندیدہ بات یہ ہے کہ جب کسی عورت کو حاملہ پایاجائے تو اس سے پوچھا جائے کہ تجھ سے کس نے قربت کی ہے تو وہ کہے کہ میرا نکاح جن سے ہوا ہے جس کی وجہ سے یہ حمل ہے مجھے یہ بات زیادہ ناپسند اس لئے ہے کہ اس کی وجہ سے اسلام میں عظیم فتنہ و فساد برپا ہوجائےگا، اس کو ابوعثمان بن سعید بن عباس نے کتاب الالہام والوسوسہ میں روایت کہا ہے انہوں نے یوں بیان کیا کہ مجھے مقاتل نے سعید بن داؤد زبیدی سے بیان کیا ہے اور اس میں ایک قصہ ہے جس کو سید احمد حموی نے غمز میں ذکر کیا ہے،
(۲؎ الاشباہ والنظائر بحوالہ ابوعثمان فی کتاب الالہام والوسوسۃ احکام الجن ادارۃ القرآن کراچی ۲ /۸۳۔۵۸۴)