| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر ) |
مسئلہ۱۱۳:۲۳ ذی الحجہ ۱۳۱۱ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ایک بیوہ عورت کو لاعلمی میں معتبر و نیکبخت جان کر اس کے ساتھ نکاح کیا اور بعد پانچ ماہ کے اس عورت کے بطن سے ایک لڑکی زندہ پورے دنوں کی سی یعنی اس بچی کے کسی عضو میں کسی طرح فرق نہیں ہے پیدا ہوئی اور جملہ عورات ومرد گمان کرتے ہیں کہ ایسا بچہ نکاح کرنے کے بعد پانچ ماہ کا نہیں ہوسکتابلکہ وہ حمل قیاساً نکاح کرنے سے پہلے کا معلوم ہوتا ہے اور عورت کا یہ بیان ہے کہ یہ حمل میرے شوہر کا ہے اور زید یعنی خاوند کو کوئی آثار بعد نکاح ڈیڑھ ماہ تک نہیں معلوم ہوئے جب اس عورت نے بیان کیا تو معلوم ہوا،اس صورت میں زید اس عورت کو چھوڑدے یا رہنے دے، اور اگر اپنی بدنامی کا خیال کرکے چھوڑدے تو دین مہر اس عورت کا ذمہ زید واجب الادا ہے یانہیں، اور نکاح عورت سے رہا یانہیں؟بینواتوجروا۔
الجواب عورت جو دعوٰی کرتی ہے کہ یہ حمل اسی شوہر سے تھا اگر یوں کہتی ہے کہ اس کی پیدائش سے چھ مہینے پہلے نکاح ہوگیا تھا، یا چھ مہینے سے زائد بتائے اور اس کے ساتھ قسم بھی کھائے تو اس کا قول معتبر ہوگا اور یہ لڑکی اسی شوہر کی ٹھہرے گی اور نکاح میں اصلاً خلل نہ آئے گا شوہر اس کی پیدائش اور عورت کے ساتھ اپنے نکاح میں چھ مہینے اسے کم فاصلہ بتایا کرے اصلاً نہ سناجائے گااگر اپنے بیان پر گواہ بھی دے گا مسموع نہ ہونگے بلکہ یوں قراردیں گے حنفیہ نکاح تو اس عورت کا ہولیا تھا جس کا عورت دعوٰی کرتی ہے اور اس کے بعد علانیہ نکاح آپس میں پھر کیا جس کا بیان شوہر اور اس کے گواہ کرتے ہیں، درمختار میں ہے:
لوولدت فاختلفا فی المدۃ فقالت المرأۃ نکحتنی منذنصف حول وادعی الاقل فالقول لھا وقال تحلف والو لدابنہ حملالہا علی الاصلاح۱؎اھ ملخصاً۔
اگر معتدہ کا بچہ پیدا ہو پھر خاوند بیوی میں مدت حمل میں اختلاف ہو عورت کہے چھ ماہ مکمل ہوگئے ہیں کہ تو نے مجھ سے نکاح کیا ہے، اور خاوند چھ ماہ سے کم مدت کا دعوٰی کرے تو اس صورت میں بیوی کی بات بلاقسم معتبر ہوگی، صاحبین کے نزدیک عورت سے قسم لی جائے اور بچہ اس شخص کا قرار پائیگا تاکہ عورت کا معاملہ اصلاح پر رہے اھ ملخصاً۔(ت)
(۱؎ درمختار فصل فی ثبوت النسب مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۶۲)
ردالمحتار میں ہے:
لاتسمع بینتہ ولابینۃ ورثتہ علی تاریخ نکاحھابمایطابق قولہ لانھا شہادۃ علی النفی معنیً فلاتقبل، والنسب یحتال لاثباتہ مہماامکن والا مکان ھٰھنا بسبق التزوج بھا سراً بمھر یسیر وجھرا باکثر سمعۃ ویقع ذٰلک کثیرا۲؎۔
خاوند اور اس کے ورثاء کی طرف سے بیوی کے نکاح کے متعلق تاریخ پر گواہی نہ لی جائے گی کہ خاوندسچا ہے کیونکہ معنیً یہ شہادت نفی پر ہے جو مقبول نہ ہوگی، اور نسب کے اثبات کےلئے بقدرا مکان حیلہ کیا جانا چاہئے اور وہ یہاں موجود ہے ہوسکتا ہے کہ پہلے پوشیدہ طور پر قلیل مہر کے ساتھ نکاح کیا گیا ہو(جیسے بیوی کہتی ہے، اور بعد میں لوگوں کو مطلع کرنے کےلئے اعلانیہ زیادہ مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کیا ہو(جیسے کہ ورثاء اور گواہ کہتے ہیں) اور بہت دفعہ ایسا ہوتا رہتا ہے۔(ت)
(۲؎ ردالمحتار فصل فی ثبوت النسب داراحیا ء التراث العربی بیروت ۲ /۶۲۷)
اس صورت میں اگر زید عورت کو چھوڑدے گا تمام وکمال مہر جتنا بندھا تھا لازم آئے گا اوراگر عورت مذکورہ بقسم بیان نہیں کرتی بلکہ اسی نکاح کے بعد جسے پیدائش دختر تک چھ مہینے نہ گزرے تھے حمل رہنا کہتی ہے یا پیش از نکاح مانتی ہے یا کچھ نہیں کہتی صرف یونہی دعوٰی کئے جاتی ہے کہ یہ دختر اسی شوہر سے ہے تو اس کا کہنا ہرگز مسموع نہ ہوگا اور یہ لڑکی اس شوہر سے ہرگز نہیں ٹہہرسکتی کہ بچہ چھ مہینے سے کم پیٹ میں نہیں رہ سکتا نہ شوہر اول کی ٹھہر سکتی ہے کہ حسب بیان سائل اس کی موت کو چار برس سے زیادہ گزرچکے تھے جب لڑکی پیدا ہوئی اور کوئی بچہ دوبرس سے زیادہ پیٹ میں نہیں رہتا، مگر لڑکی ولدالزنا بھی نہ کہی جائیگی صرف مجہول النسب کہیں گے یعنی باپ معلوم نہیں نہ یہ کہ زنا سے ہونا معلوم ہے کہ ممکن ہے کہ اس شوہر موجود سے پہلے بیوہ نے خفیہ کسی اور سے نکاح کیا ہو یہ حمل اس سے رہاہو یا کسی شخص نے دھوکے اور شبہہ سے اس عورت کے ساتھ ہمبستری کی ہو یہ لڑکی اس جماع کی ہو، ان دونوں صورتوں میں لڑکی ولدالزنا نہ ہوگی، اور جب اس حمل کا زنا سے ہونا ثابت نہ ہوا تو عورت کا نکاح اس شوہر موجود سے فاسد ہوگیا،
ولایکون باطلا کما یفیدہ کلام البدائع والبحر والھندیۃ وردالمحتار کما بیناہ علی ھامشہ من باب ثبوت النسب لاسیما ھٰھنا فان الزوج لم یکن عالما بحبلھا کما ذکر السائل فلایتاتی ھٰھناکلام القنیۃ والمجتبی۔
اور باطل نہ ہوگا جیسا کہ بدائع، بحر، ہندیہ اور ردالمحتار کے کلام کا مفاد ہے اور جیسا کہ ہم نے ردالمحتار کے حاشیہ پر ثبوت نسب کے باب میں اس کو بیان کیاہے خصوصاً یہاں کیونکہ خاوند بیوی کے حمل پر مطلع نہ ہوا جیسا کہ سائل نے ذکر کیا ہے، لہذا یہاں قنیہ اور مجتبی کا کلام منطبق نہیں ہوتا۔(ت)
اب شوہر پر لازم ہے کہ عورت کو فوراً چھوڑدے اس صورت میں اگرزید نے عورت سے صحبت یعنی خاص فرج میں جماع کیا تھا تو مہر مثل ومہر مسمی سے جو کم ہے وہ دینا آئے گا یعنی یہ دیکھیں گے کہ مہر بندھا کتنا تھا اور اس عورت کامہر مثل کیا ہے ان دونو ں میں جو کم ہے وہ دیا جائے گا، ردالمحتار میں ہے:
فی الزیلعی وغیرہ لوولدت المنکوحۃ لاقل من ستۃ اشھر مذتزوجھا لم یثبت النسب لان العلوق سابق علی النکاح ویفسد النکاح لاحتمال انہ من زوج اخربنکاح صحیح او بشبہۃ۱؎۔
زیلعی وغیرہ میں ہے کہ اگر منکوحہ نکاح کے بعد چھ ماہ سے کم مدت میں بچے کو جنم دے تو خاوند سے نسب ثابت نہ ہوگا کیونکہ نطفہ کا استقرار نکاح سے قبل ہوا، اور نکاح اس احتمال کی بنا پر فاسد قرار پائیگا کہ ہوسکتا ہے کہ یہ نطفہ کسی دوسرے صحیح نکاح یاشبہہ نکاح سے ٹھہراہو۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار فصل فی ثبوت النسب داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۶۳۲)
درمختار میں ہے:
یجب مھر المثل فی نکاح فاسد بالوطی فی القبل لابغیرہ کالخلوۃ ولم یزد مھر المثل علی السمی ولوکان دون المسمی لزم مھرالمثل۱؎اھ ملخصا۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
فاسد نکاح میں مہر مثل تب واجب ہوگا جبکہ خاوند نے شرمگاہ میں وطی کی ہو، وطی کے علاوہ کسی اور طریقہ سے مثلاً خلوت سے واجب نہ ہوگا، اور یہ مہر مثل مقررکردہ مہر سے کم ہو تو مہر مثل ہی لازم ہوگا اھ ملخصاواﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۱؎ درمختار باب المہر مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۰۱)