Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
8 - 175
تصدیقات علمائے مراد آباد
نحمدہ ونصلی علی حبیبہ الکریم 

 بے شک فضل کریم کا قول معتبر ہے جس حالت میں کہ وہ حلف کررہا ہے کیونکہ وہ مدعا علیہ ہے، اور اس کے الفاظ  طلاق نہیں ہیں کما صرحہ العلامۃ المجیب دامت برکاتھماوراگر اہالی زن کے بیان کر دہ الفاظ بھی ثابت ہوجائیں تو بھی حکم طلاق جہل محض ہے، حضرت مجدد مائۃ حاضرہ متع اﷲ المسلمین ببرکات انفاسہ نے جو تحقیق فرمائی ہے بالکل حق وصواب ہے۔ جزاہ اﷲتعالٰی احسن الجزاء وصلی اﷲتعالی علٰی خیر خلقہ سید نا محمد وآلہٖ وصحبہ اجمعین۔



الجواب صحیح وصواب، العبد المسکین محمد عباد الدین عفی عنہ    محمد نعیم الدین عفی عنہ



واضح ہوکہ صورت مسئولہ میں جو فضل کریم نے اپنی زوجہ حسینہ بی کے حق میں کہا کہ آپ آج اپنے گھر میں نہ آئیں تو میں آپ کو اپنے نکاح سے علیحدہ کر دوں گا انتہی۔ اس سے ظاہرہے کہ یہ ایقاع طلاق کا وعدہ ہے اس میں طلاق کا وعدہ ہے اس میں طلاق واقع نہیں ہوتی۔ پھر اگر وہ مسماۃ اپنے گھر میں نہ آئیں جب بھی طلاق واقع نہ ہوگی کیونکہ اس میں محض ایقاعِ طلاق کا وعدہ ہے اور بعد نہ آنے اس کے فضل کریم سے ایقاعِ طلاق کے کوئی کلام(الفاظ) وقوع میں بھی نہ آئے بلکہ پیرایہ وعدہ ہی رہے لہذا طلاق شرعاً ثابت نہیں ہوئی اور نہ اس عوت نے اپنے زوج فضل کریم سے سوال کیا تھا نہ اس کے متعلقین نے کہ تو اس کو طلاق دے دے تاکہ یہ صورت مذاکرہ طلاق کی ہوتی، اور لفظ ''جواب'' کو''جو کلام دوسرے''فضل کریم میں واقع ہوا یعنی اگر آپ عصر تک مکان پر نہ آئیں تو میرا جواب ہے لیکن یہ کلام دوسرا بعد دیر کے اس نے کہا اور فضل کریم زوج مسماۃ مذکورہ کا ان الفاظ سے انکار ہے اور نیز حلف شرعی سے کہتا ہے یوں ہی ہو یا جو کچھ ہو میں نے اس سے زوجہ مذکور کو نیت طلاق کی نہیں کی تھی، بعض متعلقینِ مسماۃ مذکورہ نے بیچارے فضل کریم کے ذمہ زبردستی سے اس لفظ کو چپکا دیا ور کسی ملا نے نافہمی اپنی سے مفہوم طلاق بائن کا سمجھ کر حکم طلاق بائن کادیا۔ اور برتقدیر فرض اگر اس نے یہ لفظ کہا ہے جب بھی طلاق بائن نہیں ہوئی،
اولاً اس واسطے کہ یہ لفظ بعد دیر کےکہا پھر یہ کلام کلامِ جدید ہے اور اضافت اس میں الیٰ شیئ ناپدید ہے۔
قال قاضی خان فی فتاوٰہ رجل قال نان خوردیم ونبیذ خوردیم زنان مابسہ۳ ثم قال لہ رجل بعد ماسکت بسہ طلاق فقال الرجل بسہ طلاق لاتطلق امرأتہ لانہ لما فرغ عن الکلام وسکت ساعۃ کان ھذا ابتداء کلام لیس فیہ اضافۃ الٰی شیئ۔۱؎
قاضی خاں نے اپنے فتاوٰی میں فرمایاایک شخص نے کہا ہم نے روٹی کھائی اور نبیذ پیا ہماری عورتوں کو تین ،پھر کچھ دیر بعد اس کو ایک شخص نے کہا''تین طلاقیں'' تو اس نے کہا''تین طلاقیں'' تو اس کی بیو ی کو طلاق نہ ہوئی کیونکہ جب خاموش ہوکر کچھ دیر کے بعد کہا تو یہ نیاکلام ہے اور اس میں اضافت کسی کی طرف نہ پائی گئی۔(ت)
 (۱؎ فتاوٰی قاضی خاں     کتاب الطلاق     مطبع نولکشور لکھنؤ     ۲ /۲۱۵)
ثانیاً یہ کہ لفظ ''جواب'' موضوع واسطے طلاق کے نہیں ہے بلکہ یہ ایک ہندی کلمہ ہے کہیں بمعنی ترک و رد کے آتاہے، چنانچہ زید نے عمرو سے کچھ مانگا اس نے جواب دیا یعنی رد کیا کچھ نہ دیا خالی ہاتھ چلا گیا، دوسرا یہ کہ خالد نے مثلاً بکر سے سوال کیا نماز میں کتنے فرض اور کتنے واجب ہیں؟ اس کا جواب دےدیا یعنی اس کے سوال کو تسلیم کرکےا س کا جواب دیا یعنی رد نہ کیا بتلادیا اتنے فرض ہیں اتنے واجب ہیں۔ اور کبھی ایک شیئ کے مقابلہ میں دوسری شیئ تیار کی جائے ا س کو ہندی میں جواب کہتے ہیں، مثلاً ایک شخص نے مکان بنایا اور اس میں چار در اور چار طاق محاذی ایک دوسرے کے بنائے اس کو اردو میں ایک دوسرے کا جواب کہتے ہیں۔ اور یہ بھی مفہوم لفظ جواب کا ہوسکتا ہے کہ اگر تم اپنے گھر نہ آئیں تو ہمارا بھی جواب ہے یعنی ہم بھی تمہارے گھر نہ آئیں گے۔ اور یہ بھی مفہوم ہوسکتا ہے کہ تم ہم سے اگر قرینہ نیک سے اورحُسنِ معاشرت سے رہوگی تو ہم بھی اسی قاعدہ سے رہیں گے اگر تم ہم سے سر کشی رکھوگی ہم بھی سرکشی رکھیں گے۔ اور یہ بھی مفہوم ہوسکتا ہے کہ پہلے اس سے اس مخاطبہ نے اپنے زوج فضل کریم سے کوئی چیز مانگی ہوتو اس کے دینے میں سکوت کیا اور وہ رنجیدہ ہوکر اپنے گھر چلی گئی، جب اس نے اس مسماۃ سے جاکر کہا کہ تم اپنے گھر چلو اس نے نہ مانا تو اس کے مقابلہ میں زوج نے کہا کہ ہمارا بھی جواب ہے، تو اس طرح سے یہ لفظ جواب اردو میں چند معنی میں مستعمل ہوتا ہے توپھر لفظ جواب سے خاص کر طلاق بائن کا مفہوم سمجھنا دلیل نافہمی کی ہے،
کما حققہ الفاضل المحقق الکامل جناب مولٰنا احمد رضاخان صاحب دام مجدھم بعد التی والتیاما ترک المحقق المذکور من التحقیق فی ھذا الامرشیأ لعل اﷲ یحدث بعد ذلک امرا۔ واﷲ اعلم وعلمہ اکمل واتم۔
جیسا کہ اس کی تحقیق فاضل محقق کامل جناب مولانا احمد رضاخاں صاحب دام مجدہ نے فرمائی بہر صورت انہوں نے اس معاملہ میں تحقیق میں کوئی کمی نہ چھوڑی، ہوسکتا ہے اﷲ تعالٰی اس کے بعد کوئی مزید سبیل پیدا فرمادے، واﷲتعالٰی اعلم وعلمہ اکمل واتم۔(ت)
عبد الباری 

قد ضل المجیب السابق فی فھمہ ضلالاً بعیدا وقد صارفی ردہ المحقق المذکور مولٰنا مصیباً۔
پہلے مجیب اپنے فہم میں زیادہ بھٹک گئے اور ان کے جواب اور  رد میں محقق مذکور نے درست فرمایا۔(ت)
کتبہ المعتصم بحبل اﷲ الاحد محمد ابوالفضل المدعو بفضل احمد
تصدیقات علمائے لاہو ر 

الحق حق لاشک فیہ، محمد عبدالعزیز عفی عنہ مدرس مدرسہ نعمانیہ لاہور

ھذا الجواب صحیح والمجیب نجیح، محمد یار  عفی عنہ امام مسجد طلائی لاہور بقلمہ 

ھذاھوالحق، فقیر محمد شفیق بگوی حنفی نقشبندی خطیب مسجد شاہی لاہور 

ھذاھو الحق المبین، الراجی الی الہٰ العٰلمین، المسکین اﷲ دین مدرس اول مدرس نعمانیہ لاہور 

الجواب صحیح، محمدذاکر بگوی عفی عنہ مدرس اول حمیدیہ 

الحق لایتعداہ المومنون،عبیدہ اصغر علی المدارس العربیۃ 

المجیب مصیب فیما اجاب فللّہ درہ فیما اجتھد واصاب، کتبہ العبد الضعیف المسکین محمد اکرام الدین البخاری عفی عنہ الباری مشہور بواعظ الاسلام حال خطیب وامام فی مسجد نواب وزیر خان رحمہ اﷲ الملک المنان لاہور۔
تصدیقات علمائے بمبئی

بسم اﷲالرحمٰن الرحیم،حامداومصلیا ومسلما، جو کچھ اعلٰحضرت عظیم البرکت امام اہلسنت مدظلہم العالی نے صورتِ مسئولہ طلاق کے عدم وقوع کی نسبت ارشاد فرمایا ہے اور جابر حَکَم کے فیصلہ باطلہ کی نسبت فرمایا: تو آفتاب سے زیادہ روشن ہے کہ جس شخص نے خود حکم بن کر یہاں حکم طلاق دیا اور حسینہ کے نکاح سے نکلنے کا فیصلہ دیا وہ اس کا محض جہل وظلم وزعم باطل تھا وہ حکم جہالت اور وُہ فیصلہ بطالت، وہ حکم بن بیٹھنا افتراء وضلالت''۔ یہ سب صحیح ہے مسلمانوں پرلازم ہے کہ ایسے جاہل مضل سے دور رہیں اور اس کے ایسے باطل فیصلہ پر ہرگز ہرگز عمل نہ کریں۔
حررہ العبد الفقیر محمد عمرالدین  السنی الحنفی القادری الہزاروی عفا اﷲتعالٰی عنہ
بسم اﷲالرحمٰن الرحیم 

جو کچھ کہ اعلٰحضرت امام المسلمین مراد المومنین مولٰنا وسیدنا احمد رضاخان صاحب مدظلہم العالی نے عدم وقوع طلاق کے بارے میں تحریر فرمایا ہے وہ سب صحیح ہے اور اس حکم جاہل کا فیصلہ بالکل لغو وقبیح ہے۔
حررہ الاحقر محمد عبدالرزاق السنی الحنفی القادری المقتدری عفا اﷲتعالٰی عنہ
حامداً ومصلیاً ومسلماً
اما بعد خاکسارامید وارِ رحمت پروردگار نے یہ جواب کاشف حجاب عجب العجاب من اولہ الیٰ آخرہ بنظرِ غور دیکھا، الحمدﷲ دربارہ عدمِ وقوع طلاق وضوحِ حق نے سروردیا حق تعالٰی جل شانہ اعلٰحضرت عظیم البرکۃ واقفِ حقیقت مروجِ شریعت مجدد طریقت حکیم الامت علامہ زمان وفہامہ یگان مولٰنا وبالفضل اولٰنا مولوی احمد رضاخاں صاحب مدظلہم العالی کو دارین میں جزائے خیر عطا فرمائے اور جمیع اہلسنت وجماعت کو اس پر عمل کی توفیق بخشے، آمین ثم آمین!
حررہ حافظ عبد الحلیم السنی الحنفی القادری امام مسجد جاملی محلہ بمبئی 

ما اجاب المجیب اللبیب فہو فیہ مصیب۔ حررہ خادم الشرع القاضی 

اسمٰعیل الجلمائی الشافعی عفا اﷲ تعالٰی عنہ وعن والدیہ وعن استاذیہ وعن المومنین، آمین یا رب العالمین!
تصدقات علمائے پیلی بھیت

مجدد مائۃ حاضرہ صاحب حجتِ قاہرہ اعلٰحضرت مولٰنا وسید نا مولوی احمد رضا خان صاحب

امام اہلسنت کا جواب بتوفیق رب الارباب عین صواب ہے فقط۔

فقیر قادری وصی احمد حنفی خادم حدیث درمد رسۃ الحدیث

حضرت امام المحققین و راس المدققین مولٰنا وبالفضل اولٰنا المولوی محمد احمد رضاخان صاحب دام شمس فیوضہ مشرقۃ ومازال قمر افاداتہ مضیأ
کا جواب عین صواب ہے۔
13_6.jpg
Flag Counter