Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
78 - 175
مسئلہ۱۰۹: مرسلہ مولوی نظر محمد صاحب پیش امام جامع مسجد منگانہ ضلع رہتک

کیافرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک آدمی گمشدہ ہے اور اس کے مرنے کی کوئی معتبر سند نہیں اور نہ کسی نے دیکھا صرف یہ ہوا کہ ہسپتال میں سکھ تھا یعنی زیر علاج تھا وہ اپنے کپڑے چھوڑ کر گم ہوگیا انگریزوں نے یہ مشہور کردیا کہ وہ مرگیا اور مرا کسی نے نہیں دیکھا اب اس کی بیوی سے دوسرا شخص نکاح کرسکتا ہے یانہیں عرصہ آٹھ ماہ سے گم ہے، اور کتنے عرصہ کے بعد نکاح درست ہوگا، اور اب جو شخص اس عورت کا نکاح پڑھادے گا اور گواہ، ان کے اوپر کیا الزام آئے گا؟ اس کی پوری پوری بمعہ حوالہ کتب تصریح فرمادیں اور جو الزام آئے گا ان پر اس سے بری ہونے کا کیا راستہ ہوگا؟
الجواب

اگر تحقیق ہوجائے کہ وہ ہسپتال میں یا کہیں اور مرگیا تو عدت کے بعد عورت دوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے اور اگر موت ثابت نہ ہوتو جب اس شخص کی پیدا ئش سے ستر برس گزرجائیں یا زندہ ہوتا تو جس وقت ستر برس کا ہوجاتا اس وقت تک اگر اس کی موت وحیات کا پتا نہ چلے تو اس وقت اس کی موت کا حکم دیا جائے اور عدت کے بعدعورت نکاح کرسکے گی ورنہ حرام حرام حرام، اﷲ عزوجل قرآن مجید میں فرماتا ہے:
والمحصنت من النساء۱؎
  (اور خاوند والی حرام ہیں۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔
 (۱؎ القرآن الکریم ۴/ ۲۴)
مسئلہ۱۱۰: از للت پور مسئولہ محمد بخش، کریم بخش سوداگران۷شوال۱۳۳۹ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ ایک لڑکی نابالغہ کا نکاح اس کی ماں اور سوتیلے باپ نے کردیا تھا بعدہ لڑکی کا شوہر فوج میں نوکر ہوکر چلاگیا آٹھ سال سے زائد عرصہ ہوااور چھ سال سے اس نے نہ کوئی خط بھیجا نہ خرچہ متواتر بھیجے مگر اس کاپتا نہیں کہ مرگیا یا زندہ ہے اور اب لڑکی بالغ ہوگئی ہے اس کے ماں باپ خرچ برداشت نہیں کرسکتے خود لڑکی اور اس کے والدین دوسرا نکاح کرناچاہتے ہیں لہذا دوسرا نکاح جائز ہوگا یانہیں اور اگر پہلا شوہر واپس آجائے توکیا حکم ہے؟بینواتوجروا۔
الجواب

صورت مستفسرہ میں جس سے نکاح کیا گیا اگر وہ اس لڑکی کا کفو شرعی تھا یعنی مذہب یا نسب یا چال چلن یا پیشہ کسی بات میں ایسا کم نہ تھا کہ اس سے نکاح ہونا اولیائے دختر کے لئے باعث ننگ و عار ہوجیسا کہ یہی ظاہر سوال ہے تو نکاح صحیح ہوگیا اور جبکہ لڑکی نے بفوربلوغ خیاربلوغ کا استعمال نہ کیا جیسا کہ یہی مفاد سوال ہے تو اب نکاح لازم ہوگیا، عورت پر فرض ہے کہ اتنی مدت انتظار کرے کہ شوہر اگر زندہ رہے تو ستر برس کامل کا ہوجائے اس وقت تک اگر اس کی موت وحیات کا پتا نہ چلے اس کی موت کا حکم کیا جائےگاپھر عورت چار مہینے دس دن عدت بیٹھے اس کے بعد دوسرے سے نکاح کرسکتی ہے ورنہ نہیں، پھر اگر اتنی مدت گزرگئی اور عورت نے بعد عدت نکاح کرلیا اسکے بعد شوہر اول واپس آیا تواپنی عورت کو شوہر دوم سے لے گا اور دوم سے اگر اولاد ہوچکی ہے تو وہ اولاد دوم ہی کو دلائی جائے گی صرف عورت  شوہر اول کو ملے گی،

ردالمحتار میں ہے:
لوعاد حیابعد الحکم بموتہ قال ط رأیت المرحوم ابا السعود نقل عن زوجتہ لہ والاولاد للثانی۲؎اھ مافی ش،
اگر قاضی کے فیصلہ کے بعد پہلا خاوند واپس آجائے تو طحاوی نے فرمایا: میں نے مرحوم ابوسعود کو نقل کرتے ہوئے پایا کہ وہ عورت پہلے خاوند کی بیوی ہوگی اور دوسرے سے اولاد ہوتو وہ دوسرے کی ہوگی، شامی کا بیان ختم ہوا،
 (۲؎ ردالمحتار     کتاب المفقود     داراحیاء التراث العربی بیروت     ۳ /۳۳۲)
لکن فی الھندیۃ عن التاتارخانیۃ انہ ان عادزوجھاحیا بعد مضی المدۃ فھواحق بھا وان تزوجت فلا سبیل لہ علیھا۱؎اھ
لیکن ہندیہ میں تاتارخانیہ سے منقول ہےکہ اگر قاضی کی طرف سے مقررہ مہلت ختم ہونے کے بعد خاوند واپس آئے تو وہی بیوی کا حقدار ہے اور اگر بیوی نے اس صورت میں دوسرا نکاح کرلیا تو پھر پہلے خاوند کو استحقاق نہیں ہے اھ،
(۱؎ فتاوٰی ہندیۃ     کتاب المفقود     نورانی کتب خانہ پشاور     ۲ /۳۰۰)
اقول ووجہ الاول ان تزوجھا کان بظن موتہ وقد بان حیا ولا عبرۃ بالظن البین خطؤ وھی محصنۃ زید فکیف تسلم لعمرو وجہ الثانی ان الشرع حکم بموتہ بعد مضی المدۃ وحلھا للازواج فلاینقض قضاء الشرع کما لاینقض قضاء القاضی بلا اولٰی لکن قدصرح فی التاتارخانیۃ انہ ان عادحیاولم تتزوج فھواحق بھا، فلو کان حکم الشرع بموتہ حتما مقضیا لکان الشرع فرق بینھما فکیف یکون احق بھا فلیحرر ولیراجع، واﷲ تعالٰی اعلم۔
اقول(میں کہتا ہوں) ردالمحتار کے قول کی وجہ یہ ہے کہ خود بیوی نے خاوند کے فوت ہوجانے کاگمان کرکے نکاح کیا تو اب پہلے خاوند کی واپسی پر معلوم ہوا کہ زندہ ہے تو اس صورت میں غلط گمان پر مبنی کارروائی ہے لہذامعتبر نہ ہوگی جبکہ وہ عورت خاوند (زید) کی منکوحہ ہے تو عمرو کےلئے کیسے بیوی بن سکتی ہے، اور دوسرے قول یعنی ہندیہ والے قول کی وجہ یہ ہے کہ یہاں قاضی کے فیصلہ موت کے بعد کارروائی ہے جوکہ شرعی حکم اور مقررہ مہلت ختم ہونے کے بعد دوسرے نکاح کے لئے حلال قرار دینے پر کارروائی ہے تو یہ شرعی فیصلہ کالعدم نہ ہوگا جیسا کہ قاضی کا فیصلہ کالعدم نہیں ہوتا بلکہ اس سے اولیٰ تر محفوظ ہوگا حالانکہ تاتارخانیہ میں تصریح ہے کہ اگر قاضی کے حکم کے بعد ابھی دوسرا نکاح نہ ہوتو پہلا خاوند ہی حقدار ہوگا،اگرمہلت گزرے بغیر محض قاضی کے حکم موت کو ہی قطعی فیصلہ قرار دیا جاتاتو پھر پہلے خاوند سے تفریق شرعی ہوجاتی تو ایسی صورت میں پہلاخاوند کیسے حقدار قرار پاتا، اس کی تنقیح کرلی جائے اور کتب کی طرف مراجعت چاہئے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت)
Flag Counter