Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
77 - 175
مسئلہ۱۰۸: از بنگال کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ ہندہ کا شوہر عرصہ چار سال سے مفقود الخبرہے اس کی حیات و موت کی کچھ خبر نہیں ملی اور وہ گھر میں اپنی بی بی کو خورد و نوش بھی نہیں دے گیا ہے اور ایسی کوئی چیز نہیں چھوڑگیا ہے جس سے اس کی بیوی کی گزراوقات ہو، اور اس بی بی کو کہیں سے قرض دام بھی نہیں ملتا ہے، اور وہ بی بی کوئی حرفہ یا پیشہ نہیں جانتی ہے جس سے گزراوقات ہو یایہ کہ اس وقت مفقود کی بیوی ایسی ہے کہ انواع انواع کی تکلیف میں مبتلا ہے اور نیز خوف زنا بھی ہے، تو ایسی صورت میں اس کو نکاح ثانی کرنا جائز ہے یانہیں؟ اور اگر جائز ہے تو بلا عدت گزارے اور بلاحکمِ قاضی یا حاکم مسلم کسی مولوی یا کم علم سے کہہ دینے سے نکاح دوسرا کرسکتی ہے یانہیں؟ یا عدت بھی گزارے گی؟ اور عدت کب سے گزارے گی؟ یا اس روز سے عدت محسوب ہوگی کہ جس روز سے شوہر مفقود ہوا ہے؟ یا جس روز سے قاضی نے حکم تفریق نکاح کا کیا ہے؟ اور جو شخص فتوی اس بات کا لکھے کہ بلاعدت گزارے یا بلاتفریق قاضی نکاحِ  ثانی ہندہ خود کرے اور یہ کہے کہ جب بعد انقضائے ۴ سال موافق امام مالک رحمۃ اﷲ علیہ کے مفقود اموات میں شمار ہو ااب  اگر قاضی تفریق کرے گا اور مردہ کے واسطے عدت ہے نہ فسخ نکاح ،اور جس حالت میں یہ چار سال گزر چکے اب اسے عدت کی ضرورت نہیں، اس بناء پر ہندہ کا نکاح بلاتفریق کرائے قاضی اور بلاعدت پوری کرنے وفات کے کسی دوسرے سے کرادے تو وہ فتوی دینے والامرتکب حرام ہوا یا نہیں اور یہ نکاح ثانی جائز ہوایانہیں اور ایسے فتوی لکھنا اس کو درست ہیں یانہیں؟بینواتوجروا
الجواب

نکاح ثانی حرام ہوا، اور ایسا فتوی دینا حرام ہے، ایسے مفتی کو بند کرنا واجب ہے، چار برس گزرنے پر بطور خود نکاح کرلینا کسی امام کا مذہب نہیں، امام مالک نے کہ چار برس رکھے ہیں، یوں کہ عورت قاضیِ شرع کے حضورنالش کرے وہ بعد ثبوت اپنے یہاں سے آج سے چار برس کی مہلت دے اس سے پہلے اگر بیس برس گزرگئے ہیں اصلاً معتبر نہیں اور ہمارے مذہب میں عورت پر انتظار فرض ہے یہاں تک کہ شوہر کی عمر سے ستر برس گزر جائیں، اگر پچاس برس کی عمر میں مفقود ہوا ہے تو بیس برس انتظار کرے اور ساٹھ برس کی عمر میں دس برس، اس کے بعد اس کی موت کا حکم دیا جائے، اور عورت چارمہینے دس دن عدت کرے پھر دوسرے سے نکاح کرسکتی ہے، یہی مذہب امام شافعی کا ہے اسی طرف انہوں نے رجوع فرمائی، اور یہی قول امام احمد کا ہے، اور دوسرا قول مثل امام مالک ہے رضی اﷲ تعالٰی عنہم اجمعین۔ اس سوال کی ہولناک باتیں کہ نہ وہ چھوڑ گیا نہ اس کے پاس کچھ ہے نہ کچھ حرفہ کرسکتی ہے نہ کہیں سے قرض مل سکتا ہے، اس کا حاصل یہ ہے کہ تمام ذرائع رزق بند ہیں مگر یہ قرآن کے خلاف، رزق  اللہ پر ہےنہ کہ شوہر پر
علی اﷲ رزقھا۱؎
نہ کہ علی الزوج ،
 (۱؎ القرآن الکریم ۱۱/ ۶)
ومن یتق اﷲ یجعل لہ مخرجا ویرزقہ  من حیث لایحتسب۱؎
اور جو اﷲ سے ڈرے گا اﷲ اس کے لئے راہ نکال دے گا اور اسے وہاں سے روزی پہنچائے گا جہاں اس کا گمان بھی نہ ہوگا۔
 (۱؎ القرآن الکریم ۶۵/ ۳)
صدہا نہیں ہزارہا وہ ہیں کہ ان کے شوہر زندہ بیٹھے ہیں اور انہیں معلق چھوڑ رکھاہے، نہ روٹی کپڑا دیتے ہیں نہ حقوق زوجیت ادا کرتے ہیں،اب انہیں بھی اجازت دے دو کہ شوہر زندہ بیٹھا ہے اور طلاق ہوئی نہیں جس سے چاہیں نکاح کرلیں یعنی خوف زنا سے بچنے کےلئے واقعی زنا کرو۔خوفِ زنا سے بچنے کا علاج حدیث میں کثرت روزہ فرمایا ہے:
ومن لم یستطع فعلیہ بالصوم فانہ لہ وجاء۲؎۔
اور جو قدرت نہ رکھے ا س پر روزہ لازم ہے کیونکہ اس کے لئے شہوت کوروکتا ہے(ت)
 (۲؎ مسند امام احمد بن حنبل     مروی از عبداﷲ بن مسعود رضی ا ﷲ عنہ     دارالفکر بیروت ۱/ ۴۲۴)
اور فرمایا:
ومن استعف اعفہ اﷲ۳؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
جو پارسائی چاہے گا اﷲ اسے پارسا بنادے گا۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
 (۳؎ سنن النسائی     کتاب الزکوٰۃ باب الالحاف فی المسئلۃ      نورمحمد کارخانہ کتب کراچی     ۱/ ۳۶۳)
Flag Counter