| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر ) |
مسئلہ۱۰۷: از اجین مرسلہ محمد یعقوب علی صاحب ۱۴ربیع الآخر۱۳۱۰ھ چہ فرمایند علمائے اہل حق و مفتیانِ برحق دریں مسئلہ کہ برادر عبداﷲ دائمی محبوس گردید عورت خودراطلاقے نمی دہدو اوبدون شوہر نمی تواند ماند صورت ایں مسئلہ چگونہ است، وشوہر محمودہ نیز از مدت دوازدہ سالہ مفقود الخبروزوجہ اوجوان طاقتے ضبط ندارد لہذا موافق مذہب امام مالک رحمۃ اﷲ علیہ کہ نزد او شان تفریق درچہار سال صحیح عمل نمودہ در حبالہ نکاح میر تقی دادہ شد بعد از چند روز نکاح شوئے سابق اورا مقام ہذاآمدہ بودہ، عورت مستحق اواز ہر دو کیست و مہرش بر کہ واجب می شود دریں مسئلہ چہ حکم شرع بیان فرمایند بعبارت کتب مشرح رحمۃ اﷲ علیہم اجمعین۔
علمائے حق اور مفتیانِ برحق کیا فرماتے ہیں اس مسئلہ میں کہ عبداﷲ کابھائی قید دوامی ہوا ہے اپنی عورت کو طلاق نہیں دیتا، اور بیوی کا شوہر کے بغیر گزارہ نہیں، اس مسئلہ کا کیا حکم : نیز مسئلہ یہ ہے کہ محمودہ کا شوہر بارہ سال سے مفقود الخبر ہے، اس کی بیوی جوان ہے اپنے پر کنٹرول نہیں کرسکتی،لہذاامام مالک کے مذہب کے موافق جن کے ہاں چار سال کی مدت پر تفریق صحیح ہے پر عمل کرکے اس عورت کا نکاح میر تقی سے کردیا گیا اور اس نکاح کے چند روز بعد اس عورت کا سابق خاوند وہاں آگیا تو وہ عورت اب کس کی بیوی قرار پائے گی اور مہر کس پر واجب ہوگا، ان دونوں مسئلوں میں شرعی حکم کو کتب کی عبارات سے واضح فرمائیں رحمۃ اﷲ علیہم اجمعین(ت)
الجواب درصورتِ اولٰی براد ر عبداﷲ فرمان آں چنان ست کہ زن را طلاق دہد
قال اﷲ تعالٰی: فامساک بمعروف او تسریح باحسان۱؎
مرد چوں از داشتن بخوبی عاجز آمد گزاشتن بہ نیکی واجب گشت و در اداے ایں واجب اگر طلاق بافعل ندہد تفویض طلاق نیز کافی ست زیرا کہ مقصود آنست کہ زن از مضرت فتذروھا کالمعلقۃ۲؎محفوظ ماند وایں بہ سپردن طلاق بدست زن نیز حاصل ست یعنی زن را بنویسد کہ طلاق تو بدست تو نہادم ہر گاہ کہ خواہی خود را طلاق دہی واز قید نکاح من بدر آئی، نفعش آنست کہ زن مصلحت خود دیدہ کار خواہد بو فاداری شوہر صبر پیش گرفتن خواہ بنا چاری خواہش چارہ دگر جستن اماتا از شوئے افتراق نشود نکاح با دیگر حرام بود
قال اللہ تعالی والمحصنٰت من النساء۳؎
پہلی صورت میں عبداﷲ کے بھائی کے لئے حکم یہ ہے کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق دے دے۔ اﷲ تعالٰی نے فرمایا ہے کہ بیوی کو بھلائی سے پاس رکھو یا نیکی کے ساتھ آزاد کردو، خاوند بخوبی پاس رکھنے سے عاجز ہے تو نیکی کے ساتھ چھوڑدینا اس پر واجب ہے، اس واجب کی ادائیگی میں اگر بالفعل طلاق نہیں دیتا تو بیوی کو طلاق کا اختیار سونپ دے تو بھی کافی ہے کیونکہ مقصد یہ ہے کہ عورت کو معلق کرکے رکھنے کے ضرر سے بچایا جائے تو یہ مقصد عورت کو اختیار تفویض کرنے سے حاصل ہوجاتا ہے یعنی بیوی کو لکھ دے کہ تیری طلاق تیرے ہاتھ دیتا ہوں تو جب چاہے طلاق اختیار کرلے اور میری قید سے آزاد ہوجا، اس کا فائدہ یہ ہے کہ بیوی اپنی مصلحت کے مطابق فیصلہ کریگی خواہ خاوند کی وفاداری میں صبر کرے خواہ مجبوری خواہشات کی بنا پر کوئی دوسرا راستہ اپنالے، تاہم جب تک خاوند سے مفارقت نہ ہوجائے کسی اور سے نکاح حرام ہے، اﷲ تعالٰی نے فرمایا کہ نکاح والی عورتیں بلاشبہہ پہلے خاوند کی بیوی ہے اسی کو دی جائے۔
(۱؎ القرآن الکریم ۲/ ۲۲۹) ( ۲؎القرآن ۴/ ۱۲۹) (۳؎ القرآن الکریم ۴/ ۲۴)
ودرصورت ثانیہ زن بلاشبہہ بزوج پیشین دادہ شود،
فی ردالمحتار عن شرح المجمع لابن ملک تحت قول الدر، غاب من امرأتہ فتزوجت باٰخرو ولدت اولاد، ثم جاء الزوج الاول مانصہ، المرأۃ ترد الی الاول اجماعا۱؎
ومہرے کہ در نکاح اول بستہ بودند خود بر ذمہ شوہر اول است و بریں دوم نیز مہر مثل لازم بشرطیکہ باایں زن بہم آمدہ وجماعش کردہ باشد امااگر کابینے در نکاح ثانی قراردادہ اند کم از مہر مثل ست تاآنگاہ ہموں قدر دہند وبرو نیفز ایند ورنہ مہر مثل تمام و کمال لازم آید وزیادہ براں بہیچ صورت واجب نشود گو مہر قرار دادہ ایشاں زائد ازوباشد خلاصہ آنکہ ہرچہ ازمہر مثل ومہر مسمی کم ست ہموں لازم بود،
اما وجوب المھر فیما استحل من فرجھا واما ماذکرنا من التقدیر فلظھور فساد النکاح وھذاھو حکم المھر فی النکاح الفاسد فی الدرالمختار یجب مھر المثل فی نکاح فاسد بالوطی فی القبل لابغیرہ کالخلوۃ لحرمۃ وطئھا ولم یزد علی المسمی لرضاھا بالحط ولوکان دون المسمی لزم مھر المثل لفساد التسمیۃ بفساد العقد ۲؎ بالالتقاط۔واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
ردالمحتار میں شرح المجمع ابن ملک سے درمختار کے قول، ایک شخص بیوی کو چھوڑ کرغائب ہوگیا اس نے دوسرے شخص سے نکاح کرلیا اور اس سے اولاد ہوگئی پھر پہلا خاوند واپس آگیا، کے تحت نقل کیا، جس کی عبارت یہ ہے کہ عورت پہلے خاوند کو بالاجماع واپس کی جائیگی، اور مہر پہلے خاوندنے جومقرر کیا وہ پہلے خاوند کے ذمہ ہے اور دوسرے خاوند پر بھی مہر مثلا ادا کرنا واجب ہے بشرطیکہ دوسرے نے اس عورت سے جماع کرلیا ہو، لیکن اگر نکاح ثانی میں مہر مثل سے کم مقرر ہوتو وہی واجب الادا ہوگا اس پر زائد واجب نہ ہوگا ورنہ مقررہ نہ ہونے یا مہر مثل سے زائد مقرر ہونے کی صورت صرف مہر مثل اور مقررہ سے جو بھی کم ہوگا وہی واجب الادا ہوگا، مہر اس لئے دینا ہوگا کہ اس کے بدلے شرمگاہ کو حلال کیا اور بیان کردہ مقدار اس لئے کہ اس ثانی نکاح کا فساد واضح ہوگیا اور نکاح فاسد میں بھی مہر کا حکم اسی طرح ہے، درمختار میں ہے کہ وطی کرنے پر نکاح فاسد میں مہر مثل واجب ہوتا ہے شرمگاہ میں وطی کے بغیر مہر واجب نہیں ہوتا اگرچہ خلوت کرچکاہو، اور مہر مثل اور اگر وہ مہر مقررہ سے کم ہوتو مہر مثل واجب ہوگا کیونکہ مہر مقررہ کا فساد نکاح کے فساد پر ہوگیا(ملتقطا) واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔(ت)
( ۱؎ ردالمحتار فصل فی ثبوت النسب داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۶۳۱) (۲؎ درمختار باب المہر مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۲۰۱)