Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
75 - 175
جنہیں نکاح پر قدرت نہ ہو ان کاعلاج صحیح حدیث میں روزے رکھنا ہواہے:
من لم یستطع فعلیہ بالصوم فانہ لہ وجاء۲؎۔ رواہ احمد والستۃ عن ابن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم، وسوق الحدیث وان کان فی الرجال، فالنساء شقائقھم۳؎۔ بعضکم من بعض۔
جو نکاح پر قدرت نہ رکھے اس کو روزہ لازم ہے کیونکہ یہ اس کےلئے شہوت سے رکاوٹ ہے۔ اس کو امام احمد اور ائمہ ستّہ نے عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیاہے، اور حدیث کے یہ ا لفاظ اگرچہ مردوں کے بارے میں ہیں، تو عورتیں وہ مردوں کی طرح ہیں اور تم آپس میں ایک دوسرے کی طرح ہو۔(ت)
(۲؎ مسند احمد بن حنبل     مروی از عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ         دارالفکر بیروت         ۱/ ۴۲۴)

(۳؎ جامع الترمذی     ابواب الطہارۃ             امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی     ۱/ ۱۶)
بلکہ احتیاج نفقہ کے عذر کو غور کیجئے تو وہ بھی اسی عذر جوانی کے ساتھ ہے جس کا علاج حدیث میں ارشاد ہوگیا۔

سن رسیدہ عورتیں جن کے شوہر مرتے یا مفقود ہوجاتے ہیں انہیں تلاشِ نفقہ کے لئے فکر نکاح نہیں ہوتی وہ کیونکر بسر کرتی ہیں اور یہ حالت بیوگی تو ہند کی نوجوانیں بھی اسی حال میں شریک ہیں، وہاں خداجانے شان رزاقی خاوند میں کیوں نہیں منحصر ہوجاتی ہے، لطف یہ ہے کہ یہاں تقلید امام مالک رحمۃاﷲ تعالٰی علیہ کا دامن پکڑا جاتا ہے، جاہل لوگ ان کا مذہب یہ سمجھتے ہیں کہ مرد کو گمے چار برس گزرے اور عورت کویونہی عدت بیٹھ کر نکاح حلال ہوگیا، حاشایہ ان کا مذہب نہیں بلکہ وہ یہ فرماتے ہیں کہ عورت قاضیِ شرع کے حضور دعوٰ ی پیش کرے، قاضی بعد ثبوتِ مفقود ی کہ اس کی خبر ملنے سے بالکل ناامید ہوگئی ہو اب چار برس کی مدت اپنے حکم سے مقرر کرے، اس مدت میں بھی پتا نہ چلے تو پھر قاضی تفریق کردے، اس کے بعد عورت چار مہینے دس دن عدت بیٹھے اور شوہروں کے لئے حلال ہوجائے، حضور قاضی میں رجوع لانے سے پہلے اگر بیس برس گزرگئے ہیں تو ا سکا اصلاً اعتبار نہیں۔ علامہ زرقانی مالکی شرح مؤطائے امام مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ میں فرماتے ہیں:
قول مالک لو اقامت عشرین سنۃ ثم رفعت یستأنف لھا الاجل۱؎۔
امام مالک کا قول ہے کہ اگر عورت بیس سال بھی گزارچکے اور بعد میں قاضی کے ہاں معاملہ پیش کرے تو بھی قاضی اس کے لئے نئی مہلت مقرر کرے گا۔(ت)
 (۱؎ شرح الزرقانی علی مؤطا الامام مالک     عدۃ التی تفقد زوجہا    المکتبۃ التجارۃ الکبرٰی مصر    ۳/ ۱۹۹)
اسی میں ہے :
قول مالک ایضا تستأنف الاربع من بعد الیأس وانھا من یوم الرفع ۲؂۔
امام مالک کا یہ بھی قول ہے کہ نا امیدی کے بعد چار سال کی نئی مہلت مقرر کی  جائے گی اور اس مہلت کی ابتداء قاضی کے ہاں معاملہ پیش ہونے کے بعد ہوگی(ت)
 (۲؎ شرح الزرقانی علی مؤطا الامام مالک     عدۃ التی تفقد زوجہا    المکتبۃ التجارۃ الکبرٰی مصر    ۳/ ۱۹۹)
اب کہئے قولِ امام مالک ہی پر عمل کیجئے تواول تو یہاں قاضی مالکی کہاں! اور قاضی حنفی اپنے خلافِ مذہب کیوں حکم دینے لگا! اور دے بھی تو اس کے نفاذ میں دقتیں ہیں، اور نافذ ہوبھی جائے تو ابھی ساڑھے چار برس پڑے ہیں یہ کیونکر کٹیں گے !ایسی بے صبری وادعائے بے رزقی کا علاج تو یوں بھی نہ بنا ۔غرض خلاصہ مقصد  یہ ہے کہ اﷲ سے ڈرے، اﷲ سے ڈرے۔ اور امر فروج کو سہل نہ جانے۔ نہ فقدانِ شوہر کو مرگِ شوہر کے پلے میں رکھے اور اتباعِ حکم کو اتباعِ رسم سے اہم ترسمجھے اور تصور کرے کہ ہند کی نوجوانیں بیوہ ہوکر کیونکربسر کرتی ہیں بلکہ یہ بھی درکنار اس دارالفتن ہند پرمحن میں بہت شریف زادیاں ایسی نکلیں گی جن کے خداناترس شوہروں نے انہیں جیتے جی معلقہ کر رکھا ہے نہ تعلق رکھیں نہ قطع کریں، وہ بیچاریاں نہ شوہر والیاں نہ بے شوہروں میں۔ پھر وہ کیاکرتی اوراپنی عفت، باپ دادا کی عزت، شرع کی اطاعت کیونکر نگاہ رکھتی ہیں۔ قطع خواہش کے لئے روزوں کی کثرت کرے۔ خیالات دل کو یادِ موت و قبر سے لگائے کہ موت کی یاد ہر خواہش و لذت کو بھلادیتی ہے۔ اگر ماں باپ بھائی کے ذریعہ سے گزر کی صورت نہیں، سینے پرونے وغیرہ کاموں سے وقت کاٹے کہ اﷲ عزوجل کے یہاں صابروں میں لکھی جائے اور بہ حکم قرآن بے حساب ثواب پائے۔ اقارب، محارم اگر خبر گیری کرسکتے ہیں تو اﷲ تعالٰی کا ثوابِ عظیم لیں، اپنی بیٹی بے ثبوتِ بیوگی نکاح غیر کی بلامیں نہ پڑنے دیں۔ عوامِ ہند ذرا ذرا سے فضول و بے جا دنیوی جھگڑوں پر دختروں خواہروں کو بٹھارکھتے اور ان کاکلی خرچ اپنے پاس سے کرتے ہیں۔ یہ دینی حکم ہے اور اپنی ناموس کے خاص حرام و حلال کا معاملہ، اس میں بھی ذرا غیرت و حمیّت کوکام میں لائیں اور سمجھ بوجھ کر انجان نہ بن جائیں، وباﷲ التوفیق وھو الھادی الٰی سواء الطریق۔مؤ یدین:(۱)محدث سورتی صاحب علیہ الرحمۃ(۲) مولانا عبدالمقتدرصاحب بدایونی(۳) مولانا الشاہ احمد حسن صاحب کانپوری(۴)مولانا کرامت اﷲ صاحب دہلوی (۵) مولاناالشاہ ہدایت رسول صاحب قادری۔
Flag Counter