تو جو اس قول کے قائل تھے ان پر بھی اس کا ضعف ظاہر ہوا جب تو اس سے رجوع کرتے آئے اور قول ضعیف پر حکم و فتوی دینا جہل و مخالفتِ اجماع ہے۔
فی الدرالمختار، حاصل ماذکرہ الشیخ قاسم القاضی الاان المفتی مخبر عن الحکم والقاضی ملزم بہ وان الحکم والفتیا بالقول المرجوح جھل وخرق الاجماع۳؎۔
درمختارمیں ہے: شیخ قاسم نے اپنی تصحیح میں جوذکر فرمایا اس کا حاصل یہ ہے کہ مفتی اور قاضی کا یہاں کوئی فرق نہیں ماسوائے اس کے کہ مفتی حکم کی خبر دیتا ہے اور قاضی اس کو نافذ کرتا ہے جبکہ مرجوح قول پر فتوی اور فیصلہ جہالت ہے اور اجماع کی مخالفت ہے۔(ت)
(۳؎ درمختار رسم المفتی مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۵)
پھر معاملہ بھی کون سا معاملہ فروج جس میں شریعتِ مطہرہ کو سخت احتیاط ملحوظ،یہاں تک کہ بآنکہ اصل اشیاء میں اباحت وحلت ہے، فروج میں اصل حرمت ٹھہری، تو ایسے امر میں ایسے قول کی طرف اپنا ایسا قوی و مدلل مذہب چھوڑکر جانا کیسی کھلی بے احتیاطی ہے، رہا دعوی ضرورت، اس کا حال یوں کھلتا ہے کہ ہندوستان کی نوجوان عورتیں جو بیوہ ہوجاتی ہیں باآنکہ انہیں شرعاً نکاح ثانیہ کی اجازت ہے اپنی ایک جھوٹی رسم کی پیروی میں عمر بھر بیٹھی رہتی ہیں اس وقت نہ انہیں ضرورت سوجھتی ہے نہ یہی خیال آتا ہے کہ جوانی کیونکر کٹے گی نہ یہ کہ نان ونفقہ کہاں سے
ملے گا مگر خاوند مفقود ہوکریہ سب دعوی ہجوم کرتے ہیں،اگر ضرورت کا دعوی سچا ہے تو وہاں صبر کیونکر ہوتا ہے اور جب وہاں کیاجاتا ہے، حالانکہ قطعاً بے شوہر، اور ازواج کے لئے حلال ہیں تو یہاں صبر کیوں نہیں کیا جاتا کہ یقینا شوہر دار تھیں اور موتِ شوہر ثابت نہیں ہوئی مگر ہے یہ کہ جہال کے نزدیک رسم کا اتباع حکم کے اتباع سے زیادہ اہم ہے، یہاں حیلے تلاش کئے جاتے ہیں کہ کسی مذہب میں کوئی راستہ نکلے اگر چہ اپنے مذہب میں نراحرام ہو، وہاں رسم نہیں چھوڑی جاتی اگرچہ چاروں مذہب میں کھلی حلت ہے، اﷲ عزوجل مسلمانوں کو ہدایت فرمائے، بات یہ ہے کہ نفس کی باگ جب نرم کرلیجئے دبالیتا ہے۔ اس وقت ضرورت، حاجت، معذوری، مجبوری، سوجھتی ہے اور باگ جب کرّی کرلیجئے دب جاتا ہے۔ اس وقت ظاہر ہوتاہے کہ وہ جوش نرادعوٰ ی ہی دعوٰ ی تھا۔ حدیث میں حضور پر نور سید المرسلین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
من استغنٰی باﷲ اغناہ اﷲ ومن استعف اعفّہ اﷲ۱؎۔ رواہ الامام احمد والنسائی والضیاء عن ابی سعید الخدری رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
جو اﷲ عزوجل کے بھروسا پر خلق سے بے پروائی کریگا اﷲ تعالٰی اسے غنی کردے گا، اور جو سچے دل سے پارسا بننا چاہے گا اﷲ تعالٰی اسے پارسا بنا دے گا۔ (اسے امام احمد، نسائی اور ضیاء نے ابوسعید خدری رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے۔ت)
( ۱؎ سنن النسائی کتاب ا لزکوٰۃ باب الالحاف فی المسلۃ نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۱/ ۳۶)