اور قوت برقوت یہ کہ امیر المومنین امام العادلین سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کہ پہلے قائل چار سال کے تھے بلکہ وہی پہلے قائل چار سال کے ہوئے بعدہ قولِ حضرت مولی علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ الکریم کی طرف رجوع فرمایا،
کما ذکرہ فقیہ الکوفۃ ابن ابی لیلی رحمہ اﷲ تعالٰی نقلہ المحقق فی الفتح۱؎۔
جیسا کہ اس کو فقیہہ الکوفہ ابن ابی لیلٰی رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ نے ذکر فرمایا، یہ فتح القدیر میں محقق سے منقول ہے(ت)
( ۱؎ فتح القدیر کتاب المفقود مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۵/ ۳۷۲)
تو وہ دلیل کہ مالکیہ کو اس قول پر حامل تھی یعنی تقلید فاروقی وہ بھی نہ رہی۔ اسی طرح حضرت امام شافعی رضی اﷲ تعالٰی عنہ کہ ارشد تلامذہ امام مالک ہیں پہلے قولِ امام مالک کے قائل تھے پھر ہمارے ہی قول کے طرف رجوع لائے، اور وہی ان کے مذہب میں راجح قرار پایا،
کما فی میزان الشریعۃ الکبری، ورحمۃ الامۃ فی اختلاف الائمۃ، وھذا لفظھما اختلفوا فی زوجۃ المفقود فقال ابوحنیفۃ والشافعی فی الجدید الراجح واحمد فی احد روایتیہ لاتحل للازواج حتی تمضی مدۃ لایعیش فی مثلھا غالباً۲؎۔
جیسا کہ میزان الشریعۃ الکبری اور رحمۃ الامۃ فی اختلاف الائمۃ میں ہے، یہ الفاظ دونوں سے متفق ہیں کہ مفقود کی بیوی کے متعلق فقہاء نے اختلاف کیا ہے، امام ابو حنیفہ اور امام شافعی کے جدید راجح قو ل اور امام احمد کے ایک قول کے مطابق اس کو دوسرا نکاح حلال نہیں حتی کہ گم شدہ اتنی عمر میں غالب طور پر زندہ نہ رہ سکے۔(ت)
(۲؎ المیزان الکبری کتاب العدد والا ستبراء مصطفی البابی مصر ۲/ ۱۳۶)
( رحمۃ الامۃ فی اختلاف الائمۃ کتاب العدد مطابع قطر الوطنیۃ الدوحۃ قطر ص۳۱۲)
بلکہ جمہور ائمہ شافعیہ رحمہم ا ﷲ تعالٰی تو یہاں تک اس سے اختلاف رکھتے ہیں کہ اگر قاضی مہلت چار سالہ بعد تفریق کردے تو اس کی قضا توڑدی جائے کہ اس دلیل صریح کے خلاف حکم کیا، امام نورالدین یوسف بن ابراہیم اردبیلی شافعی کتاب الانوار لعمل الابرار میں فرماتے ہیں:
لوحکم حاکم بانھا تتربص اربع سنین فتعتدعدۃ الوفاۃ ثم تنکح وتربصت وحکم ثانیا بالفرقۃ واعتدت ونکحت نقض حکمہ الا اذابان انہ کان میتا وقت الحکم۔۳؎
اگر کسی حاکم نے یہ فیصلہ دیاکہ وہ چار سال انتظار کے بعد وفات کی عدت پوری کرے اور پھر کسی سے نکاح کرے، چنانچہ فیصلہ کے مطابق اگر عورت نے چار سال انتظار کیا اور اس حاکم نے فرقت کا نیا حکم دے دیا اور اس کے بعد عورت نے عدت گزار کر نکاح کرلیا تو قاضی کا یہ حکم کالعدم قرار پائے گا الایہ کہ واضح ہوجائے کہ قاضی کے مذکور فیصلے کے وقت گمشدہ شخص فوت ہوچکا تھا۔(ت)
(۳؎ الانوار لاعمال الابرار فصل القسم الثانی عدۃ الوفاۃ مطبعۃ الجمالیہ مصر ۲/ ۲۱۲)
لوقضی قاض بصحۃ نکاح زوجۃ المفقود بعد اربع سنین ومدّۃ العدۃ نقض حکمہ۱؎اھ ملخصاً۔
اگر کسی قاضی نے مفقود کی بیوی کے متعلق چار سال انتظار اور اس کے بعد عدت پوری کرکے نکاح کی صحت کافیصلہ دیا تو اس کا حکم کالعدم ہوگا اھ ملخصاً(ت)
(۱؎ الانوار لاعمال الابرار کتاب ادب القضاء الطرف السابع فی الاشہادالخ مطبعۃ الجمالیہ مصر ۲/ ۴۱۳ و ۴۱۴)