تم پر حرام ہیں وہ عورتیں جو دوسرے کے نکاح میں ہیں۔
اس عورت کا نکاح مفقود میں ہونا تو یقینا معلوم، اور چار برس کے بعد اس کی موت مشکوک و موہوم، کیا آدمی اتنی مدت میں خواہ مخواہ مرہی جاتا ہے یا اس کی مرگ پر ظن غلبہ کرتا ہے یہاں تک کہ خود علمائے مالکیہ رحمہم اﷲ تعالٰی اقرار فرماتے ہیں کہ اس چار سال کی تقدیر پر سواء تقلید امیر المومنین فاروق اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے ہمارے پاس کوئی دلیل نہیں، نہ ہرگز نظر فقہی اس کے مساعد،
کما نقل العلامۃ الزرقانی فی شرح المؤطا عن الکافی انھا مسئلۃ قلد نافیھا عمر ولیست مسئلۃ النظر۱؎۔
جیسا کہ علامہ زرقانی نے شرح المؤطا میں کافی سے نقل کیا کہ یہ وہ مسئلہ ہے جس میں ہم نے حضرت عمر فاروق رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی تقلید کی ہے اور یہ نظری مسئلہ نہیں ہے(ت)
( ۱؎ شرح الزرقانی علی مؤطاامام مالک عدۃ التی تفقد زوجھا المکتبۃ التجاریۃ الکبرٰی مصر ۳/ ۲۰۰)
اور تمام ائمہ کا اجماع کہ شک سے یقین زائل نہیں ہوتا، ولہذا خود ائمہ مالکیہ دربارہ مال اس تقدیر چار سال کے قائل نہ ہوئے، حالانکہ یہ نہایت مستبعد ہے کہ آدمی مہلت چار سال کے بعد حقِ زوجہ میں مردہ ٹھہر کرا س کا مال ورثاء پر تقسیم نہ ہو، فاضل ابراہیم شرح انواراردبیلی میں لکھتے ہیں:
نقض حکمہ لمخالفتہ القیاس الجلی اذلایجوز ان یکون حیاً فی مالہ ومیتا فی حق زوجہ۲؎۔
قاضی کا حکم کالعدم قرار دیا جائے گا کہ یہ ظاہر قیاس کے خلاف ہے کیونکہ ایسا نہیں ہوسکتا ہے مفقود شخص کو مال کے حق میں زندہ اور بیوی کے حق میں مردہ قرار دیاجائے۔(ت)
(۲؎ شرح الانوار فصل القسم الثانی عدۃ الوفاۃ مطبعۃ الجمالیہ مصر ۲/ ۲۱۲)
تو نص قطعی و قضیہ یقینی کے خلاف ایک موہوم بات پر کہ حق مال میں بالاتفاق مقبول نہیں، کیونکر زنِ زید نکاح عمرو میں آسکتی ہے، ادھر احادیث حضور المرسلین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم میں اس مذہب کاکہیں پتا نہیں، بلکہ حدیث آئی ہے تو ہمارے ہی موافق آئی ہے کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
امرأۃ المفقود امرأتہ حتی یأتیھا البیان۳؎۔ رواہ الدار قطنی فی سننہ عن المغیرۃ بن شعبۃ رضی اﷲ عنہ۔
مفقود کی عورت اسی کی عورت ہے یہاں تک کہ اس کی موت کا حال ظاہر ہو۔ (اس کو دار قطنی نے اپنی سنن میں مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے۔ت)
(۳؎ سنن الدار قطنی باب المہر حدیث۲۵۵ نشر السنۃ ملتان ۳/ ۳۱۲)